تازہ ترین

منشیات مخالف مہم

صرف پروگراموں کی نہیں مؤثر کاروائی کی بھی ضرورت!

27 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 منشیات کی بدعت کے خاتمہ کےلئے ریاست بھر میں کل جگہ جگہ پروگرام منعقد کئے گئے جن کے تحت سبھی اضلاع میں ریلیاں، سمینار، مذاکرے اور مباحث کا اہتمام کیا گیا۔ ان پروگراموں میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی انجموں اور کئی مذہبی جماعتوں نے بھی شرکت کی۔ان مجالس میں سماج کے اندر پنپنے والے منشیات کے خوفناک رجحان کے خطرات کا احاطہ کرنے کی کوششیں بھی ہوئیں۔ بے شک یہ اظہار تشویش وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا ہم انتظامی وسماجی سطح پر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآہونے میں سنجیدہ ہیں۔ صورتحال کا مجموعی جائزہ لینے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ ہم اپنی مختلف النوع مصروفیات کی وجہ سے اس رجحان کے بنیادی حقائق اور اس کو عام کرنے والے عناصر کے عزائم اور سرگرمیوں کی طرف ایسی توجہ مرکوز کرنے میں ناکام ہوئے ہیں،جس کی یہ متقاضی ہیں۔ وگرنہ شاید ایسا نہیں ہوتا کہ آج ہماری ناک کے نیچے منشیات کی خرید و فروخت عام ہے اور اسکا استعمال کرنے والے ہمارے دست و بازو ہیںلیکن دانستہ یا غیر دانستہ تغافل و تجاہل نے اس خوفناک بیماری کو ہمارے سماج کی بنیادوں میں پیوست کر دیا ہے، جسے اگر ابھی بھی ختم کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں نہیں بخشیں گی۔فی الوقت زمینی صورتحال یہ ہے کہ ریاست منشیات کے خریدو فروخت کی پسندیدہ جگہ بن چکی ہے۔ جہاں تک ہماری وادی کشمیر کا تعلق ہے تو یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ چند برس قبل تک کشمیری سماج اس خجالت سے مکمل طور ناآشنا تھا بلکہ یہاں تمباکو کو چھوڑ کر دیگر انواع کے نشوں کے بارے میں سوچنا اور بات کرنا بھی گناہ عظیم تصور کیاجاتا تھا تاہم اب وہ صورتحال نہیں رہی ہے۔چینیوں کو تودہائیوں قبل اس لت سے نجات مل گئی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر اس دلدل میں پھنستے ہی جارہا ہے اور یہاں ہرگزرنے والے سال کے ساتھ ساتھ نہ صرف منشیات کا کاروبار میں فروغ پاجارہا ہے بلکہ منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔ ماہرین نفسیات  کے مطابق  16 سے 30 برس کے درمیانی عمروں کے لوگ اس خباثت کی طرف زیادہ آسانی سے راغب ہوتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیرمیں تقریباً 3.8فیصد آبادی افیم اور افیم سے وابستہ نشے کی عادی ہے، جو انتہائی بڑی تعداد ہے۔1980کے دوران تک ہیروئن اور دوسری سخت نشہ آو ر چیزیں ممبئی سے آ یا کرتی تھیں، لیکن 1990 کے بعد ریاست ہیروئن اور اس سے وابستہ اشیاء کی اسمگلنگ کا بین الاقوامی ٹرانزٹ پوائنٹ بن رہی ہے ۔ایک مقامی رضاکار تنظیم کی ایک تحقیق کے مطابق کشمیر میں منشیات کی وباء طوفان کی رفتار سے بڑھ رہی ہے اور تشویشناک امر یہ ہے کہ چھوٹے بچے اور نوجوان اس کا شکار ہورہے ہیں۔ادارہ کی پائلٹ سٹیڈی میں کہاگیا ہے کہ 22فیصد گریجوٹ ،6فیصد پوسٹ گریجوٹ اور 2فیصد پی ایچ ڈی ڈگری یافتہ نوجوان منشیات کی لت میںمبتلا ہوچکے ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ سب کچھ سرکاری حکام کی ناک کے نیچے کیسے ہوتا ہے؟ بھنگ، پاپی اور ایسی دوسری نشہ آور فصلیں این ڈی پی ایس ایکٹ، 1985 کی دفعہ 18 کے تحت ایک قابل سزا جرم ہے اور اس کیلئے مجرم کو 10 سال قید با مشقت اور ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ایسی منشیات کو خریدنا اور فروخت کرنا بھی اس قانون کی دفعہ 15 کے تحت جرم ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعے پاس کئے گئے اس قانون کو ریاستی حکومتیں اپنی زمینی حقائق کی بنیاد پر نافذ کرتی ہیں۔ اگرچہ اس قانو ن کی دفعہ 10 ریاستی حکومت کو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ افیم، پاپی کے پودوں اور دوائوں میں استعمال ہونے والی افیم اور بھنگ کی کھیتی کی بین الریاستی حرکت پر روک لگا سکتے اور اسے ضبط کر سکتے ہیں تاہم عملی طور ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا ہے بلکہ اگر حق گوئی سے کام لیاجائے تو حکومتی سطح پر صرف کاغذے گھوڑے دوڑائے جارہے ہیں جبکہ عملی سطح پر کچھ کام نہیں ہورہا ہے جس کے نتیجہ میں ہماری نوجوان نسل اس دلدل میں پھنستی ہی چلی جارہی ہے اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو کشمیری سماج  کے مستقبل کے بارے میں کچھ وثوق کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔اگر افیم زدہ چینی قوم  ،جو جاپانی راج کے زیر تسلط اس میں غرق ہوگئی تھی،اس خجالت سے نجات پاسکتی ہے توماضی قریب تک اس لعنت سے نامانوس کشمیری قوم کیوں نشے کے سمندر میں غرق ہوتی جارہی ہے ۔یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا ارباب حل و عقد اور اہل دانش کو دینا پڑے گاوگرنہ یہی کہاجائے گا کہ ارباب اختیار کشمیریوں کی بربادی کا تماشا دیکھنے پر تلے ہوئے ہیں جو کسی صدمہ عظیم سے کم نہ ہوگا۔ فی الوقت یہی کہا جاسکتا ہے کہ منشیات تیار کرنے والوں اور اسکی تجارت کرنے والوں اور اگر انتظامی حلقوں کے اندر انکے اعانت کار موجود ہوں جیسا کہ عالمی سطح پر دیکھنے کو ملا ہے، کےخلاف براہ راست قانونی کاروائیاں نہ کی گئیںتو سماج کو انسانی اصولوں پر لانے کے ہمارے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائینگے۔