تازہ ترین

نا اہل قرار دیے جانے کے معاملے میں اے اے پی کے غیر مطمئن رکن اسمبلی سپریم کورٹ پہنچے

27 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
نئی دہلی//عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے رکن اسمبلی کرنل دیویندر سہراوت نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے پر انھیں نااہل ٹھہرائے جانے کا نوٹس ملنے پر بدھ کو سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے کرنل سہراوت کی طرف سے عرضی پر فوراً شنوائی کرنے سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو اس معاملے کو دوبارہ ذکرکیا جائے ۔سپریم کورٹ نے کہا،‘ہم اس کی شنوائی کریں گے ۔ آج اس معاملے کو ضروری شنوائی کے لیے جمعرات کو دوبارہ ذکر کریں’۔ کرنل سہراوت کی جانب سے حاضرہونے والے وکیل سولی سہراب جی نے معاملے کی فوراً سماعت کی درخواست کی تھی۔ رکن اسمبلی کے بی جے پی میں شامل ہونے پر دہلی اسمبلی کے اسپیکر نے مسٹر سہراوت کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ مسٹر سہراوت حالیہ 17 ویں لوک سبھا کے الیکشن کے دوران بی جے پی میں شامل ہوئے تھے ۔ غیر مطمئن رکن اسمبلی کو پارٹی بدلنے کے قانون کے تحت نوٹس جاری کیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے پہلے مسٹر سہراوت سے کہا کہ وہ یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ لے جائیں لیکن بعد میں وکیل سہراب جی سے کہا کہ وہ دستاویز سرکولیٹ کریں اور جمعرات کو دوبارہ معاملہ لائیں۔ کرنل سہراوت کا کہنا ہے کہ وہ نہ تو کسی دوسری پارٹی میں شامل ہوئے ہیں اور نہ ہی ایسا کوئی اعلان کیا ہے ۔ اس صورتحال میں انھیں نااہل قرار دینا غیر آئینی ہے ۔ اے اے پی کے ترجمان اور رکن اسمبلی سوربھ بھاردواج نے اسمبلی اسپیکر سے کرنل سہراوت کی شکایت کی تھی جس کے بعد انھیں نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ اسمبلی کے اسپیکر نے بجواسن سے رکن اسمبلی کرنل سہراوت اور گاندھی نگر سے رکن اسمبلی انل واجپئی کو نوٹس جاری کرکے پوچھا تھا کہ آپ بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔ ایسے میں آپ کی اسمبلی کی رکنیت کیوں نہ رد کر دی جائے ۔