تازہ ترین

وادی بنگس کا ناقص بنیادی ڈھانچہ | سیاحت کو فروغ دینے کے دعوے سراب

ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کیلئے کوئی کنکریٹ تعمیرات کھڑا نہیں ہو نگی :اتھارٹی

24 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر // سطح سمندر سے 10ہزار فٹ بلندی پر واقعہ وادی بنگس اپنی خوبصورتی کی ایک ایسی تصویر ہے جس پر رشک کیا جا سکتا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ اس خوبصورت وادی کو جہاں حکومتیں متواتر نظر انداز کرتی آئی ہیں وہیں 1947کی تقسیم کے بعد ایل او سی قائم ہونے کے بعد اُسے سیاحتی نقشے پر لانے کیلئے کوئی بھی اقدامات نہیں کئے گے تاہم بنگس درنگیاڑی ڈیولپمنٹ اٹھارٹی کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کیلئے یہاں کسی بھی قسم کی کوئی کنکریٹ تعمیرکھڑی نہیں کی جائے گی ۔یاد رہے کہ کئی سال قبل سرکار نے بنگس لولاب درنگیاڑی ڈولپمنٹ اٹھارتی کا قیام اس لئے عمل میں لایا تھا تاکہ یہاں بنیادی سہولیات سیاحوں کو فراہم ہونے کے ساتھ ساتھ بنگس کی ترقی بھی ہو لیکن حالت ایسی ہے کہ اٹھارٹی بنگس کے آس پاس کے علاقوں میں نہ ہی سیاحوں کیلئے کوئی سہولیات مہیارکھ پائی ہیں اور نہ ہی بنگس کی جانب کوئی دھیان دیا جا رہا ہے ۔بنگس میں رات گزارنے کیلئے نہ ہی سیاحوں کو کوئی سہولیات دستیاب ہیں نہ ہی وہاں تک پہنچے کیلئے سڑک موجود ہے ۔بنگس کیلئے اگرچہ چار سال قبل ایک سڑک کی تعمیر وتجدید کا کام محکمہ بیکن نے ہاتھ میں لیا تاہم بڑی بہک سے آگے چار کلو میٹر سڑک کی تعمیر نہیں ہو سکی اور مقامی سیاحوں کو چار کلو میٹر کی دشوار گزار مسافت طے کر کے بنگس وادی پہنچنا پڑتا ہے ۔ مقامی سیاحوں نے کہا کہ ہم نے صرف زبانی طور سنا ہے کہ سرکار اُس علاقے کو سیاحت پر لانے کیلئے کوشاں ہے لیکن زمینی صورتحال کچھ اور ہی بیان کر رہی ہے ۔بڑی بہک سے آگے سیاحوں کیلئے سخت ترین بندشیں عائد کی گئی ہیں اور وہاں سے  سیاحوں کو واپس لوٹنا پڑتا ہے ۔ٹی پی کرناہ میں اگرچہ محکمہ آر اینڈ بی اور جنگلات کی جانب سے ریسٹ ہاوس بنائے گئے ہیں لیکن وہاں پر صرف وی وی آئی پی کو ہی اجازت لیکر رہنے کی اجازت ملتی ہے اور سیاحوں کیلئے وہاں کوئی بنیادی سہولیات ہی دستیاب نہیں ہے ۔خوبصورت اور قدرتی مناظر سے مالا مال 300 مربع کلومیٹر پر پھیلی یہ وسیع وادی چاروں طرف سے گھنے جنگلات سے گھری ہوئی ہے ۔بنگس دیکھ کر گلمرگ حدوداربعہ کے لحاظ سے بالکل چھوٹا معلوم ہوتا ہے۔ گلمرگ کی اپنی جاذبیت ہے مگر بنگس کے مقابلے میں وہ بہت چھوٹی ہے اور کم وبیش انسانی مداخلت سے محفوظ بھی۔بنگس کے بیچوں بیچ ایک سانپ کی طرح بل کھاتا ہوا نالا بہتا ہے جس نے اُس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نالے میں ٹراوٹ مچھلیاں پائی جاتی ہیں لیکن محکمہ فشریز بھی وہاں جانے سے لاچار ہے ۔معلوم رہے کہ بنگس جانے کیلئے دو راستے ہیں:ایک نوگام ہندواڑہ ، دوسرا رچوکی بل TP کپواڑہ اور یہاں تک پہنچنے کیلئے طویل، سخت، پہاڑی اور دشوار گزار راستہ پیدل ہی طے کرنا پڑتا ہے۔ ٹی پی چوکی بل کا راستہ بنگس سے قریب 45 کلومیٹر کی مسافت پر ہے اور اس سڑک کے دونوں اطراف خوبصورت قدرتی مناظر،سبزہ زاروں،فلک بوس پہاڑوں کا سلسلہ آدمی کو عجیب طرح کا روح پرور سکون فراہم کرتے ہیں۔مقامی لوگوں اور سیاحوں کا کہنا ہے کہ اس وادی کو سیاحتی نقشہ پر لا کر سیاحوں کو اس کی سیر کرنے کی اجازت دی جائے ۔بنگس ڈرنگیاڑی ڈولپمنٹ اٹھارٹی کے سی ای او محمد اسد اللہ راتھر نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ بنگس کی خوبصورتی کو دیکھتے ہو ئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ ہم ویلی میں کس بھی قسم کی کنکریٹ تعمیرات کھڑا نہیں کریں گے، تاہم بنگس میں بیت الخلاء اور پانی پینے کیلئے انتظام کئے جانے کے ساتھ کچھ باغات بنائے جائیں گے جس کیلئے محکمہ جنگلات سے این او سی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے گلمرگ کا حال ہے ہم نے اُس کو کنکریٹ جنگل میں تبدیل کر دیا ہے ،ہم بنگس کا حال ویسا نہیں کرنا چاہتے ۔راتھر نے کہا کہ اٹھارٹی نے بنگس کیلئے ٹینٹ وغیرہ رکھے ہیں اور جو بھی وہاں رات کو رہنا چاہئے گا تو انہیں ٹینٹ وغیرہ فراہم کئے جائیں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ریچھواڑی میں اتھارٹی کی جانب سے ایک ہٹ تعمیر کیا گیاہے اور جو بھی سیاح رات کو بنگس جانا چاہتا ہے وہ وہاں رہ سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بنگس کے باہر کچھ ایک ہٹس تعمیر کئے جا رہے ہیں۔سڑک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ بنگس کے بیچو بیچ کوئی سڑک نکلے ہم چاہتے کہ جو سڑک ہو وہ اُس کے نزدیک ہو اگر سڑک بنگس میں سے نکالی گئی تو اس کا موحولیاتی توازن بگڑ جائے گا ۔راتھر نے مزید کہا کہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کیلئے اٹھارٹی کی جانب سے بنگس کیلئے ایک پروجیکٹ بنایا جا رہا ہے اور نوگام کے کشتوار علاقے سے بنگس کی طرف جانے کیلئے کنکریٹ سیڑیوں کا بندبست بھی کیا جا رہا ہے ۔