تازہ ترین

منشیات فروشوں نے سماج کو کھوکھلا کردیا

موت کے سوداگروں کیخلاف کارروائی اگر اب نہیں تو پھر کب؟

24 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

پرویز احمد
سرینگر // ریاستی سرکار نے ڈی ایڈکشن پالیسی کے ایکشن پلان میں واضح کردیا ہے کہ نشیلی ادویات کی خرید و فروخت کو روکنے کیلئے نجی و سرکاری اسپتالوں کے اردگرد 100گز تک آنے والے علاقوں میں تمباکو اشیاء پر مکمل طور پر پابندی عائدرہے گی۔ ریاستی سرکاری نے  منشیات کے تاجروں پر لگام کسنے کیلئے محکمہ ایکسائز ، کرائم برانچ اور ریاستی پولیس پر مشتمل ایک مخصوص ایجنسی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ منشیات کے عادی کمسن بچوں کی بحالی کی مخصوص جیلوں اور قید خانوں میں تعلیم اور ہنر سکھانے کا انتظام کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔پالیسی میں کہا گیا ہے کہ جی ایم سی سرینگر اور جموں میں قائم ڈی ایڈکشن سینٹروں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے علاوہ ڈاکٹروں ، نرسوں، کلینکل سٹاف اور دیگر عملہ کو منشیات کے عادی نوجوانوں کی پہچان، معائنہ اور خصوصی علاج کی تربیت دی جائے گی جبکہ ڈی ایڈکیشن پالیسی کے تحت اساتذہ، اسلامی سکالرز، سماجی کارکن، ولیج لیول ورکران، پیرا ہیلتھ ورکرز، آشا ورکران، ائے این ایم اور وکلاء کو بھی تربیت دینے کا پرواگرام بنایا گیا ہے۔ پالیسی میںریاسی سرکارسے کہاگیا ہے کہ جموں و کشمیر میں پہلے سے موجود منشیات مخالف قوانین کو سختی سے لاگو کیا جائے۔ پالیسی کے ایکشن پلان میں بتایا گیا ہے کہ منشیات مخالف قوانین میں  Saolvents اور Synetheticdrugsکو بھی شامل کرنے کیلئے بحث و مباحثوںکا انعقاد کیا جائے۔ ڈی ایڈکیشن پالیسی میں محکمہ تعلیم سے کہا گیا ہے کہ وہ تعلیمی مشن میں تبدیلی لاکر عمارت سے باہر کھیلوں کونصاب میں شامل کرنے کے علاوہ بچوں کو اخلاقی تعلیم بھی فراہم کرے۔ ڈرگ ایکشن پالیسی میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر شراب، سگریٹ اور چرس کے اشتہاروں کے ذریعے پذیرائی پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ جم، باڈی بلڈنگ سینٹروں اور جسم بنانے والی ادویات کو فروخت کرنے والے دکانداروں کیلئے نئے قوائد و ضوابط تشکیل دے ۔ پالیسی میں کہا گیا ہے کہ فوڈ کنٹرول آرگنائزیشن کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ان جگہوں اور
 عمارتوں کا مائنہ کرے جہاں نشیلی ادویات فروخت کرنے کی شکایت موصول ہوجائے۔ پالیسی کے تحت محکمہ صحت نے کہا ہے کہ Buprenorphire,Tramadolاور Tapentadolکو دوبارہ سے مختلف زمروں میں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غیر تربیت یافتہ افراد ان ادویات کا استعمال نہ کر سکیں۔ ڈرگ پالیسی میں کہا گیا ہے کہ سکولوں میں متواتر طور پر نابالغٖ بچوں پر نظر رکھنے کیلئے وقفہ وفقہ پرمعائنوں کا انعقاد کیا جائے گا  پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈاکٹر قیصر احمد کہتے ہیں کہ ڈرگ پالیسی میں آپسی تال میل پر زور دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپسی تال میل کے بغیر منشیات کی بڑھتی بدعت کو روکنا ناممکن ہے اور اس لئے پالیسی میں محکمہ تعلیم، پولیس ، کرائم برانچ، شعبہ صحت و طبی تعلیم، سوشل ویلفیئر، ایڈس کنٹرول سوسائٹی، یوتھ سپورٹس  اور دیگر محکمہ جات کے رول کی باضابطہ طور پر وضاحت کی گئی ہے۔