تازہ ترین

( مذاکرات مسئلے کے حل کا ذریعہ، کچھ نیا نہیں کہا:حریت (ع

دنیشورشرما نے گیند گورنر کے پالے میں پھینک دی،کہادیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے

24 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عابدبشیر
سرینگر//ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک کے اس بیان کہ حریت کانفرنس کی بات چیت کیلئے آمادگی حوصلہ افزاء ہے، حریت (ع) نے کہا کہ وہ مسائل کے حل کیلئے ہمیشہ بات چیت کی حامی رہی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ مذاکرات ہی مسئلے کا ذریعہ ہے۔شیرکشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں سنیچر کو گورنرکے بیان نے ریاست کے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیداکی تھی ۔گورنر ملک نے کہا تھا کہ حریت رہنمائوں نے رام ولاس پاسوان کیلئے اپنے دروازے بند کئے تھے جب وہ اُن سے ملنے گئے تھے اور اب حریت بات چیت کیلئے تیار ہے جو حوصلہ افزاء ہے ۔ کشمیر میں منشیات کی لت اور اس وباء کوختم کرنے کیلئے میرواعظ کی لب کشائی کی بھی گورنر نے تعریف کی تھی۔ایک بیان میں حریت(ع) ترجمان نے کہا کہ حریت ہمیشہ مسائل کو حل کرنے کیلئے بات چیت کی حامی ہے ۔ ’’ہم نے کچھ نہیں کہا،ہم ہمیشہ سے یہ کہتے آرہے ہیںکہ گزشتہ 72 برس سے کشمیری سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور وہ قدرتی طوراس کاحل چاہتے ہیں ۔حریت کانفرنس کے معرض وجود میں آنے سے لیکر جب تمام جماعتیں ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوئیں ،حریت کایہ موقف رہا ہے کہ پرامن طورمسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سبھی متعلقین کے درمیان بات چیت اور مذاکرات ہی بہتر ہے نہ کہ طاقت کااستعمال‘‘ ۔ حریت بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم نے ماضی میں بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ مذاکرات کئے ۔2016میں رام ولاس پاسوان جو مرکز کے کل جماعتی وفد کے رکن تھے ،نے سیدعلی گیلانی کے گھر جاکر ان سے ملاقات کی کوشش کی ،تاہم اُن کادروازہ بندتھااور ملاقات ممکن نہ ہوئی ۔’کشمیرعظمیٰ‘ سے بات کرتے ہوئے کشمیر پرنئی دہلی کے مذاکرات کار دنیشورشرما نے بال گورنر کے پالے میں پھینکتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں (گورنر)نے بات چیت اور حریت کے بارے میں کچھ کہا ہے ،بہتر ہوگاآپ صرف ان ہی سے پوچھ لیں ۔ شرما نے کہا کہ مجھے کچھ نہیں کہنا ہے ،دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کچھ کہنے سے انکار کیا۔ انٹلی جنس بیوروکے سابق سربراہ شرما کا اکتوبر2017میں نئی دہلی کے نمائندے کے طورتقررکیاگیااورانہیں سماج کے سبھی طبقوں سے بات کرنے کااختیار دیاگیا۔تقرری کے بعدتاہم شرما حریت(ع) کے سینئررہنما پروفیسرعبدالغنی بٹ سے ہی ملنے میں کامیاب ہوئے اورجب اُن سے اس ملاقات کے بارے میں استفسار کیاگیا توا نہوں نے کہا ’’قومی مفاد میں کچھ باتوں کو ظاہر نہیں کیاجاتا‘‘۔دوسری طرف پروفیسربٹ نے ناہی ملاقات کی تصدیق کی اور نہ ہی اس کی تردیدکی ۔ شرما کشمیرمیں نومبر2017میں تھے اور انہوں نے جنوبی کشمیر کے اضلاع کادورہ کیااور نوجوانوں کے کئی وفود سے ملاقی ہوئے ۔سید علی گیلانی،میرواعظ عمرفاروق اور یاسین ملک پر مشتمل اُس وقت کی مزاحمتی قیادت نے مرکزکی بات چیت کی دعوت کوردکیااورکہا کہ خون خرابہ،ہلاکتیں ، گرفتاریاں اور بات چیت ایک ساتھ نہیں ہوسکتے۔