تازہ ترین

پانزرکیگام شوپیان میں خونین معرکہ | 4 جنگجو جاں بحق

مہلوکین میں سرگرم کمانڈر شامل، علاقے میں ہڑتال اور انٹر نیٹ سروس معطل

24 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(   فائل فوٹو    )

شاہد ٹاک
شوپیاں// پانزر کیگام شوپیان میں ایک خونریز تصادم آرائی کے دوران 4مقامی جنگجو جاں بحق ہوئے جن میں ایک سرگرم کمانڈر بھی شامل ہے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں پتھرائو کا معمولی واقعہ پیش آیا۔ مہلوک جنگجوئوں کی یاد میں پلوامہ کے راجپورہ اورکیلر شوپیان میں ہڑتال کی گئی جبکہ شوپیان میں انٹر نیٹ سروس شام تک بند کی گئی۔ مہلوکین کی نماز جنازہ میں لوگوں کی بھاری تعداد شریک ہوئی۔

تصادم آرائی

پولیس نے بتایاکہ جنگجوئوں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملتے پر 44 آرآر، سی آرپی ایف اورریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں نے اتوارکونماز فجرسے قبل ہی قریب4بجے پانزر اور دارم دور کیگام دیہات کوچاروں اطراف سے محاصرے میں لیکرجنگجومخالف آپریشن شروع کیا۔ گائوں کی ناکہ بندی کرنے کے بعدصبح صادق کے بعد گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی گئی۔ اس دوران  قریب 6 بجے محصور جنگجوئوں نے فرار ہونے کی کوشش کی ۔ اسکے بعدطرفین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا ، جو کافی دیر تک جاری رہا۔پولیس نے بتایاکہ کچھ وقت تک شدیدنوعیت کی فائرنگ کے بعدکچھ وقت کیلئے یہ سلسلہ تھم گیا،اوراس دورا ن مقام جھڑپ سے 2جنگجوئوں کی نعشوں کوبرآمدکیاگیا۔انہوں نے کہاکہ کچھ وقت بعدہی یہاں موجوددیگرجنگجوئوں نے پھرفائرنگ کاسلسلہ شروع کیا۔ کچھ دیر تک فائرنگ کاسلسلہ جاری رہنے کے دوران مزید2جنگجومارے گئے۔ پولیس نے بتایاکہ جھڑپ کے دوران مارے گئے چاروں جنگجوئوں کی نعشوں اورضبط شدہ اسلحہ ودیگرممنوعہ سامان کوشوپیان منتقل کیاگیاجہاں مارے گئے جنگجوئوں کی شناخت اور تنظیمی وابستگی کے بارے میں کارروائی عمل میں لائی گئی ۔پولیس ترجمان نے بتایاکہ مارے گئے جنگجوئوں کی شناخت انصارغزوۃ الہندسے وابستہ شوکت احمدمیرعرف ارشدولدغلام محمد میر ساکن چندپورہ راجپورہ پلوامہ اوررفیع الحسن میرعرف امان الحق ساکن کرالہ چیک ، سہیل احمدبٹ ولدمحمدیوسف بٹ ساکن بٹہ مڈن پلوامہ اورآزاداحمد کھانڈے عرف مولوی ساکن بامنوپلوامہ کے بطورہوئی ۔

 ہڑتال ونماز جنازہ

شوکت احمد میر کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس نے 2014 میں حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی تھی۔اس سے قبل وہ کیبل آپریٹر تھا اور اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کر رکھی تھی۔آزاد احمد کھانڈے کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی کافی عرصے سے سرگرم تھا۔تاہم رفیع الحسن میر اور سہیل احمد بٹ محض 3روز قبل ہی گھر سے بھاگ گئے تھے۔رفیع الحسن میر نے ایم اے بی ایڈ کیا تھا اور وہ آئی ٹی آئی ڈپلومہ ہولڈر بھی تھا۔سہیل احمد بٹ ایم بی اے کررہا تھا۔ یہ دونوں19جون کو جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہوئے تھے۔جنگجوئوں کی ہلاکت کیساتھ ہی راجپورہ، دربہ گام، شادی مرگ، کیلر، ابہامہ ، کیگام اور ملحقہ علاقوں میں تجارتی و کاروباری سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔اس دوران انٹر نیٹ سروس بھی بند کی گئی۔بعد دوپہر جنگجوئوں کی شناخت کے بعد انہیں لواحقین کے سپرد کیا گیا، جس کے بعد انہیں اپنے اپنے آبائی دیہات میں سپرد خاک کیا گیا۔ان کی نماز جنازہ میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی اور آزادی و اسلام کے حق میں نعرے بازی کی۔

پولیس بیان

پولیس بیان کے مطابق شوکت احمد کے خلاف سال 2015 سے جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔ ابتدا ئی طورپر وہ کالعدم تنظیم حزب کے ساتھ وابستہ تھا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق شوکت احمد سیکورٹی فورسز پر حملوں، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں کے سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کو انتہائی مطلوب تھا'۔بیان میں دعویٰ کیا گیا: 'مذکورہ مہلوک جنگجو کے خلاف متعدد ایف آئی آر بھی درج کئے جاچکے ہیں۔ پولیس گارڈ پوسٹ پر فائرنگ کے سلسلے میں ایف آئی آر زیر نمبر 113/2016 کے تحت راجپورہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج ہے۔ راجپورہ میں سیکورٹی فورسز کی گشتی پارٹی پر گرنیڈ حملے کے ضمن میں ایف آئی آر زیر نمبر 02/2017 کے تحت پولیس اسٹیشن میں کیس رجسٹر ہے'۔ قصبہ یار علاقے میں دو عام شہریوں بشیر احمد ڈار اور الطاف احمد پر فائرنگ میں شوکت احمد براہ راست ملوث تھا جس دوران بشیر ڈار بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا تھا اس حوالے سے راجپورہ پولیس اسٹیشن میں ایک کیس زیر نمبر 20/2017 کے تحت درج ہے'۔بیان میں کہا گیا: ' عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی حوالے سے بھی راجپورہ پولیس تھانہ میں مزید ایک کیس زیر نمبر 21/2017 کے تحت درج ہے۔ پولیس اہلکار سمیر احمد کو قتل کرنے میں بھی شوکت احمد کا ہاتھ رہا اس سلسلے میں ایک مقدمہ 01/2019 کے تحت راجپورہ پولیس اسٹیشن میں رجسٹر ہے'۔بیان میں کہا گیا کہ مہلوک جنگجو شوکت احمد علاقے میں بھرتی عمل کو فعال کرنے میں بھی پیش پیش رہا اور اُس نے ہی آزاد احمد، رفیع حسن اور سہییل احمد (جنہوں نے حال ہی میں کالعدم تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی) کو جنگجو تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔پولیس بیان میں کہا گیا کہ تصادم کے دوران سیکورٹی فورسز اور پولیس کو کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔