تازہ ترین

’بیک ٹو ولیج‘۔۔۔ ایک اہم پہل

24 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
گورنر انتظامیہ کی طرف سے ایک جامع پہل اور عوام کی دہلیز پر خدمات کی فراہمی کے نعروں کے ساتھ ’بیک ٹو ولیج ‘پروگرام شروع کیاگیاہے جو 20جون سے 27جون تک جاری رہے گا۔اس پروگرام کے تحت ریاست کی لگ بھگ ساڑھے چار ہزار پنچایتوں میں ایک ایک گزیٹیڈ افسر کو بھیجاجارہاہے تاکہ وہ ایک تو مقامی عوام کے مسائل کوخود ان کے ساتھ بیٹھ کر سن سکے اور دوسرے گائوں دیہات کی ترقیاتی ضروریات کے بارے میں جانکاری حاصل کرسکے ۔پروگرام کے تحت ہر ایک گزیٹیڈ افسر کو دو دن اور ایک رات متعلقہ گائوں میں ہی قیام کرناہے اور اس دوران دیہی مجلس کے انعقاد اورعوام کے ساتھ بات چیت کرکے ان کے مسائل کو قلمبند کرنا اور پھر خدمات کی فراہمی کے حوالے سے رپورٹ تحریری طور پر حکام کو پیش کرنی ہے ۔اس پروگرام کیلئے باضابطہ شیڈیول مرتب کیاگیاہے اور ہر سطح کے افسران بشمول آئی اے ایس اور کے اے ایس افسران کو بھی الگ الگ پنچایتوں میں تعینات کیاگیاہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاست کی لگ بھگ 70فیصد آبادی گائوں دیہا ت میں رہتی ہے لیکن کچھ دہائیوں سے اس آبادی میں شہروں اور قصبہ جات کی طرف نقل مکانی کرنے کے رجحان میں جو اضافہ ہوا ہے، اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گائوں دیہات میں لوگوں کو شہروں جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں۔نقل مکانی کا یہ سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہورہا ہے، جس کو قابو کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ریاست کے دیہی علاقوں کی طرف نظر دوڑائی جائے توبہت کم علاقے ہی ایسے نظر آتے ہیں جن کو سڑک سمیت دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔حکام کی طرف سے گائوں گائوں کو سڑک روابط و دیگر سہولیات سے جوڑنے کے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں مگر زمینی سطح پر حالات انتہائی پریشان کن ہیں اور اب بھی پہاڑی اور دورافتادہ علاقوں کے عوام مریضوں کو چارپائیوں پر لیٹا کر میلوں پیدل سفر طے کرناپڑتاہے جبکہ طبی ، تعلیمی و دیگر اداروں کادوردور تک نام و نشان نہیں ۔اگر یہ ادارے ہیں بھی تو وہ برائے نام بن کر رہ گئے ہیں، جن میں نہ ہی عملہ ہے اور نہ ہی بنیادی ڈھانچہ ۔حالانکہ مرکزی معاونت سے دیہات کی ترقی کیلئے متعدد سکیمیں چلائی جارہی ہیں جن کے تحت ہر سال ہزاروں کروڑ روپے فراہم بھی ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں کوئی نمایاں تبدیلی واقع نہیں ہوئی اور نہ ہی بنیادی سہولیات کی فراہمی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکاہے۔اس کے علاوہ آج تک دیہی علاقوں میں پائی جارہی قدرتی صلاحیتوں اور ذخائر کو بھی بروئے کار نہیں لایاجاسکاہے ۔ایسے میں گائوں دیہات کی موجودہ ضروریات کو دیکھتے ہوئے بیک ٹوولیج پروگرام کو واقعی ایک اہم پہل ماناجاسکتاہے، جس سے سرکاری سطح پر تعمیروترقی کے حوالے سے اصل حقائق حکام تک پہنچ پائیں گے، جن کی بنیاد پر وہ بہتر طریقہ سے منصوبہ بندی اور تعمیروترقی کیلئے اقدامات کرپائیں گے ۔اس پہل کو ایک سرکاری سروے مانا جائے تو غلط نہیںہوگا جس کے ذریعہ یہ معلوم کیاجاسکتاہے کہ کس گائوں میں کونسی کونسی سرکاری خدمات کی ضرورت ہے اور کونسی خدمات فراہم کی جارہی ہیں ۔تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پروگرام کو سنجیدگی اور نیک نیتی سے چلایاجائے اور افسران گائوں دیہات میں ٹھنڈی ہوا لگانے کے بجائے ترقی کے حوالے سے ایک نیا تصور لیکر واپس آئیں اور ہر گائوں تک خدما ت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اس میں پائی جارہی صلاحیتوں کوبروئے کار لایاجائے ۔