تازہ ترین

جنوبی کشمیر میں تباہ کن ژالہ باری سے کروڑوں کا نقصان

۔3 محکموں کا فیلڈ عملہ ایک ہفتے میں رپورٹ تیار کریگا

23 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سید اعجاز
پلوامہ//پلوامہ کے درجنوں دیہات میں تباہ کن ژالہ باری، آندھی اور شدید بارشو ں کے نتیجے میں کھڑی فصلوں ،میوہ باغات،درختوں ،گاڑیوں کے ساتھ ساتھ رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ضلع ایگریکلچر آفسر پلوامہ نے بتایا کہ سنیچر کی صبح سے ہی محکمہ نے ڈائر یکٹر ایگریکلچر کی نگرانی میں پورے ضلع میں نقصان کا تخمینہ لگانے کے لئے تفصیلات جمع کرنا شروع کئے۔انہوں نے بتایا کہ ضلع میں فصلوں کو100فیصد نقصان ہوا ہے تاہم متاثرین کو مکمل سرکاری امداد فراہم کی جائے گی۔محکمہ باغبانی کے ضلع سربراہ نے بتایا کہ نقصان کا تخمینہ لگانے کیلئے تین محکموں کا عملہ میدان میں ہے اور چند ایک روز میںرپورٹ مکمل کی جائیگی۔ضلع پلوامہ کے متعدد علاقوں پلوامہ قصبہ ، راجپورہ،ترچھل،ببہ گام ،ٹہاب ،مژھ پونہ،مورن،کاکا پورہ ،ٹنگ ہاڑ ،ہال،گابر پورہ ،آری ہل ،کار مولہ، بٹھنور،پنیر جاگیر،نارستان، زاسو، تملہ ہال،وہاب صاحب،لدھو ،اونتی پورہ ،پکھر پورہ ،موہن پورہ ،تحصیل ترال،آری پل ،وغیرہ کے درجنوںعلاقوں میں جمعہ کی شام شدید ژالہ باری ،آندھی اور تیز ہوائوں کی وجہ سے باغ مالکان کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ ضلع کے ترال ،نور پورہ ،اور پلوامہ کے متعدد علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے الزام لگایا کہ نومبر2018میں بھی تباہ کن ژالہ باری ہوئی تھی، اس کے باجود  متاثرین کو نا معلوم وجوہات کی بناء پر نظر انداز کیا گیا۔ایگریکلچر آفسر پلوامہ آزاد احمد وانی نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ جمعہ کو ضلع میں ہوئی تباہ کن ژالہ باری اور بارشوں کے بعد فیلڈ عملہ رپورٹ تیار کرنے میں مصروف ہے۔محکمہ باغبانی کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے میں رپورٹ تیار کی جائیگی جس کے بعد ہی نقصان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
 
 
 

متاثرین کو امداد دی جائے :حسنین مسعودی/ اکبر لون

سرینگر //نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور جنوبی کشمیر کے رکن پارلیمان ریٹائرڑ جسٹس حسنین مسعودی نے جنوبی کشمیر میں موسم کا قہر جاری رہنے کے نتیجے میں ژالہ بھار ی سے میوہ باغات، کھڑی فصلوں کے ساتھ تیز آندھی اور بادل پھٹنے کے نتیجے میں نقصانات پرگہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور مالکان باغات اور دیگر متاثرین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اننت ناگ ، پلوامہ ، شوپیان، کولگام کے متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنر کو ٹیلیفون پر ہی نقصانات کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا اور اپیل کی کہ وہ اپنی اولین فہرست میں امدادی ٹیمیں وہاں روانہ کرکے متاثرین کے حق میںمالی معاونت  واگزارکریں ۔ اسی دوران شمالی کشمیر کے ممبر پارلیمنٹ اور سابق ریاستی اعلیٰ تعلیم کے وزیر ایڈوکیٹ محمد اکبر لون نے بھی ضلع بڈگام ، بانڈی پورہ ، گریز، سنگرامہ ، سوئیہ بگ ، بڈگام اور دیگر علاقوں میں قہر آنگیز ژالہ بھاری سے متاثرہ مالکان باغات اور دیگر متاثرین کے حق میں فوری امداد کی اپیل کی ۔ ادھرپیپلزڈیموکریٹک پارٹی کے ریاستی سیکریٹری ڈاکٹر میر سمیع اللہ نے پلوامہ میں گزشتہ روز کی شدید ژالہ باری سے ہوئے نقصان پرافسوس کااظہار کرتے ہوئے سرکار سے متاثرین کوامداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
 
 

ناظم باغبانی وڈپٹی کمشنرپلوامہ کا متاثرہ دیہات کادورہ

سرینگر// ڈائریکٹر ہارٹیکلچر کشمیر اعجاز احمد بٹ نے پلوامہ اور شوپیان اضلاع کے کئی علاقوں کا دورہ کرکے وہاں  ژالہ باری سے میوہ باغات کو ہوئے نقصان کا جائزہ لیا۔ڈائریکٹر ہارٹیکلچر نے کہا کہ ژالہ باری سے ہوئے نقصانات کا فوری طور تخمینہ لگایا جائے گا۔انہوںنے چیف ہارٹیکلچر آفیسر کو اس سلسلے میں ایک رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی ۔ڈائریکٹر ہارٹیکلچر نے کسانوں سے تلقین کی کہ وہ میوہ باغات میں درختوں پر ادویات کے چھڑکائوکے لئے ہارٹیکلچر کے ماہرین سے رابطہ کریں۔چیف ہارٹیکلچر آفیسر شوپیان اورچیف ہارٹیکلچر آفیسر پلوامہ کے علاوہ سکاسٹ کشمیر اورمحکمہ زراعت کے کئی ماہرین اُن کے ہمراہ تھے۔ادھر ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ سید عابد رشید شاہ نے ضلع کے کئی دیہات کا دورہ کرکے وہاں ژالہ باری سے میوہ باغات کو ہوئے نقصان کا جائزہ لیا۔گونگو ،ٹینگہ پونہ،ٹنگہ ہار،پائر کے باغ مالکان نے ڈپٹی کمشنر سے گذارش کی کہ نقصانا ت کا تخمینہ لگانے کے لئے فوری نوعیت کے اقدامات کئے جانے چاہیں۔ڈپٹی کمشنر نے اس سلسلے میں ہارٹیکلچر اور مال محکموں کے آفیسران کو ضروری ہدایات دیں۔میوہ باغ مالکان نے کسان کریڈٹ کارڈ کے قرضوں کے سود میں رعایت کا مطالبہ کیا ۔تحصیلدار پلوامہ اورکئی سینئر آفیسران ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ تھے۔میوہ صنعت کو ریاست کی اقتصادیات کے لئے اہم قرار دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کے آفیسران کو ہدایت دی کہ وہ ژالہ باری سے ہوئے نقصان کی بھرپائی کے لئے مناسب اقدامات کریں۔