تازہ ترین

زرعی ایکٹ کی خلاف ورزی اور عدالت کی حکم عدولی

۔6برسوں میں 20فیصد زرعی اراضی سکٹر گئی،50سال میں28لاکھ کنال ختم کی گئی

23 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// جموں و کشمیر زرعی ایکٹ اور جموں و کشمیر لینڈ ریونیوایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہر سرینگر اور دیگر قصبوں میں بڑے پیمانے پر رہائشی بستیوں کے پھیلائو کی وجہ سے صرف 6برسوں کے دوران20فیصد زرعی اراضی کو تعمیراتی و تجارتی مقصد کیلئے استعمال میں لا جاچکا ہے، جبکہ 50 برسوں کے دوران مجموعی طور پر وادی میں زائد از 28لاکھ کنال زرعی اراضی ختم ہوگئی ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ریاست میں عدالت عالیہ کی جانب سے زرعی اراضی بچانے کیلئے حکم نامہ موجود ہے لیکن اسکی برملا خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

پس منظر

سرینگر سمیت دیگر قصبوں میں رہائشی کالنیوںاور تجارتی مراکز کی تعمیر کے نتیجے میں زرعی اراضی ختم ہوتی جارہی ہے۔ سرکاری سطح پر بھی اس کو روکنے کیلئے مناسب کارروائی نہ ہونے سے دلالوں اور اراضی مافیا کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس رجحان کی وجہ سے گزشتہ6برسوں کے دوران ہی 20فیصد زرعی زمین کو تجارتی اور رہائشی بستیوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اکنامک سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 70 فیصد آبادی بالواسطہ یا بلا واسطہ زرعی سرگرمیوں پر منحصر کرتی ہے۔ گزشتہ 10 برسوں کے دوران ریاست میں10لاکھ زرعی اراضی کو زمین منتقلی قوانین کو لاگو نہ کرنے کے نتیجے میںغیر زرعی اراضی میں تبدیل کیا گیا ۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق جموں کشمیر میں سال2005-06میں8.47ہیکٹر زرعی اراضی تھی،جو سال2015-16میں سکڑ کر7.94لاکھ ہیکٹر رہ گئی۔ماہرین کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ10برسوں میں53ہزار ہیکٹر اراضی ،جو کہ10لاکھ60ہزار کنال کے برابر ہے،کو غیر زرعی اراضی میں تبدیل کیا گیا۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق سال2012میں ایک لاکھ58ہزار ہیکٹر اراضی پر پیدواری فصل لگائی گئی تھی،جو کہ سال2015-16میں سکڑ کر ایک لاکھ41ہزار ہیکٹرتک سکڑ گئی۔ محکمہ زراعت کی2011میں مرتب کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وادی میں ہی زائد از2لاکھ کنال زرعی اراضی کو تجارتی و دیگر سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کیلئے تبدیل کیا گیا۔ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کیلئے استعمال کرنے سے براہ راست ریاست کی پیداواری صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ماہرین زراعت کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں 2085کلو فی ہیکٹر چاول کی پیداوار ہوتی ہے جو ہمسایہ ریاست پنجاب میں 3952کلو فی ہیکٹر ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق1952میں جب وادی میں18لاکھ کی آبادی تھی،میں ایک لاکھ63ہزار ہیکٹر زرعی اراضی موجود تھی،جو کہ سال2012تک ایک لاکھ41ہزار740ہیکٹر تک پہنچ گئی۔اسی طرح سال2003میں مکئی کے تحت ایک لاکھ ہیکٹر اراضی تھی،جو کہ سال2012تک80ہزار14ہیکٹررہ گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1950-51میں ریاست میں جہاں 32فیصد اناج درآمد کیا جاتا تھا وہیں اس کی تعداد اب 82فیصد تک پہنچ گئی ہے ۔سروے رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 1961میں جہاں 85فیصد مزدور زراعت کیلئے کام میں لائے جاتے تھے وہیں ان کی تعداد آج 28فیصد تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔

 سرکاری رپورٹ

سرکار نے2009میں ماسٹر پلان کی خلاف ورزی سے متعلق رپورٹ تیار کرنے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے رپورٹ میں کہا ہے کہ جموں کشمیر میں1981میں فی فرد0.14ہیکٹر قابل زراعت اراضی تھی جو2001تک0.08ہیکٹر سکڑ گئی،جبکہ2012تک0.06ہیکٹر فی فرد تک اس میں مزید گرائوٹ آئی۔ریاستی ہائی کورٹ نے 2012میں احکامات صادر کرتے ہوئے ایک مفاد عامہ درخواست میں زرعی اراضی کو غیر زرعی اراضی میں تبدیل کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے اور ضلع ترقیاتی کمشنروں کو اس بات کی ہدایت دی گئی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جموں و کشمیر زرعی ایکٹ اور جموں و کشمیر لینڈ ریونیوایکٹ کو سختی کے ساتھ لاگو کیا جائے ۔