تازہ ترین

پروفیسر محی الدین حاجنی

زندگانی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر

23 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

طارق شبنم
ایشیا میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی آبگاہ ولر جھیل کے کنارے واقع علاقہ بانڈی پورہ کی سر زمین کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فطری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ علم و اد ب کے لحاظ سے کافی زرخیزیت عطا کی ہے ۔یہاں پر کئی بڑے دانشوروں، سخنورں، ادیبوں اور تاریخ دانوں نے جنم لیا ہے اور اُنہوں نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر علم و ادب کے گلشن کو مہکایا ہے ۔مرحوم پروفیسر محی الدین حاجنی کو ان بلند قد شخصیات میں اعلیٰ مقام حاصل ہے، جنہوں نے اپنی ساری زندگی کشمیری زبان و ادب اور تاریخ کی زُلفیں سنوارنے میں صرف کی ۔پروفیسر حاجنی،  جنہیں اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ مغربی علوم پر بھی دسترس حاصل تھی، نہ صرف کشمیری زبان کے اعلیٰ پایہ کے ادیب تھے بلکہ ایک سماجی کارکن ،بلند قد عالم اوردانشور بھی تھے، جنہیں ان کی علمی و ادبی خدمات کے سبب ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔
پروفیسر حاجنی کا اصل نام غلام محی الدین پرے تھا، جنہوںنے 21اور 22 جون1917؁ء کی درمیانی رات میں حاجن کے ایک آسودہ حال گھرانے میں جنم لیا اور ابھی پوری طرح ہوش بھی نہیں سنبھالا تھا کہ محض دو سال کی عمر میں والد کے سایہ شفقت سے محروم ہوئے ۔مرحوم بچپن سے ہی کافی ذہین و فطین تھے۔ چنانچہ گورنمنٹ پرائیمری سکول حاجن سے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول سوپور میں داخلہ لیااور اسی دوران چھوٹی عمر میں ہی سیاسی، سماجی اور ثقافتی معاملوں میں دلچسپی لینا شروع کردی ۔ چھٹی جماعت میں ہی ینگ مینز مسلم ایسوسیشن کے رکن بنے لیکن جلد ہی مسلم سٹو ڈنٹس ایسوسی ایشن قائیم ہوئی اور حاجنی صاحب اس میں جنرل سیکریٹری کے عہدے پر فائیز ہوئے ۔1933؁ء میں شخصی راج کے خلاف قصبہ سوپور میں ایک بڑا جلوس نکلا، جس کی قیادت حاجنی صاحب نے کی۔ اس حرکت پر وہ گرفتار ہوئے اور انہیں سزا بھی ملی، جس کے نتیجے میں مرحوم نو مہینوں تک بستر پر پڑے رہے ۔ مرحوم 1948؁ء میں ایس ۔پی ۔کالج سرینگر سے دوبارہ گرفتار ہوئے اور سات ماہ تک قید رہے جب کہ 1965؁ء میں اپنے گھر سے گرفتار ہو کر سینٹر جیل جموں میں دو سال تک قید رہے ۔
مرحوم حاجنی نے سوپور ہائی سکول سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد سرینگر میں سری پرتاپ کالج میں داخلہ لیا اور یہیں سے اپنے ادبی سفر کا آغاز کرکے کالج میگزین ’’پرتاپ‘‘ کے لئے ’’آواز اخوت‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا ۔قابل ذکر ہے کہ حاجنی صاحب انگریزی ،فارسی،عربی اور اردو زبان پر کافی دسترس رکھتے تھے۔پہلے اردو زبان میں لکھتے تھے، بعد ازاں انہوں نے کشمیری زبان میں نہ صرف لکھنا شروع کیا بلکہ اپنی مادری زبان سے جنون کی حد تک محبت کرنے لگے ۔ایس ۔پی ۔کالج میں دوران تعلیم ہی انہوں نے ’’گریس سند گرء‘‘نامی سٹیج ڈراما لکھا۔ یہ ڈراما ،جو ایک مکمل سماجی ڈراما تھا،کافی مقبول ہوا اور پہلے کالج میگزین ’’پرتاپ‘‘ میںاور بعد ازاں کشمیربزم ادب کے ترجمان رسالہ ’’گلریز‘‘ میں بھی شایع ہوا ۔اس ڈرامے کے متعلق حاجنی صاحب خود لکھتے ہیں کہ ’’ یہ کینژھا مے لیوکھمت چھُ تمہ منز چھُ مے’’گریس سند گرء ‘‘ساروے کھوتہ زیادہ ٹوٹھ‘‘۔یعنی کہ جو کچھ بھی میں نے لکھا ہے اس میں سے ’’ گریس سند گرء‘‘ (دہقان کا گھر) مجھے سب سے زیادہ پیارا ہے جب کہ پروفیسر رشید نازکی صاحب کی رائے میں یہ ڈرامہ کشمیری ادب کا ایک شاہکار ہے، جسے لکھ کر حاجنی صاحب نے کشمیری ڈرامہ کا باضابطہ آغاز کیا ۔
مرحوم حاجنی صاحب 1942؁ء میں محکمہ تعلیم سے منسلک ہوکر بحثیت لیکچرار پرنس آف ویلز کالج جموں میں تعینات ہوئے اور پانچ سال تک یہاں بحسن خوبی اپنے فرائض انجام دینے کے بعد جموں میں حالات کی کشیدگی کے سبب 1947؁ء میں واپس کشمیر آئے ۔ 1948؁ء میں ایس ۔پی ۔کالج میں تعینات ہوئے اور یہاں 1972؁ء تک اپنے فرائیض انجام دینے کے بعد نوکری سے سبکدوش ہوئے ۔مرحوم حاجنی نے اپنے ادبی سفر کے دوران ’حلقہ ادب سوناواری‘ ،’کشمیر کلچرل آرگنائیزیشن ‘اور ’اد بی مرکز کمراز‘ نامی ادبی انجمنوں کی بنیاد رکھی۔’ادبی مرکز کمراز‘ جو آج بھی ایک فعال ادبی تنظیم ہے، کی کو قائم کرنے کے دوران انہوں نے یہ شرط رکھی تھی کہ انہیں کسی عہدہ پر نہ رکھا جائے ۔ 1973؁ء میں مرکز کی سالانہ کانفرنس ،جو ٹیچرس ٹریننگ سکول سوپور میں منعقد ہوئی ،میں جب آپ نے مقالہ پڑھا تو ماہر تعلیم خواجہ غلام السیدین، جو جموں و کشمیر میں پہلے ناظم تعلیمات  تھے،نے صدارت کی کرسی سے اٹھ کر ان کے ہاتھ چومتے ہوئے کہا کہ آج بہت عرصہ کے بعد ایسا بلند پایہ کا مقالہ سننے کو ملا ۔ مرحوم حاجنی کے بے لوث ادبی خدمات کے اعتراف میں کئی اداروں نے ان کے متعلق خاص نمبر شایع کئے ہیں، جن میں ’وولرکی ملر‘(ولر کی لہریں)،حلقہ ادب سونا واری،’شیرازہ حاجنی نمبر‘، جموں کشمیر کلچرل اکادمی، ’پرو‘(پر تو)ادبی مرکز کمراز شامل ہیں جب کہ ساہتیہ اکادمی دلی نے ان کے متعلق نشاط انصاری کا لکھا ہوا، مونو گراف بھی شایع کیا ہے اور کشمیر یونیورسٹی سے نکلنے والے رسالہ ’باز یافت‘ نے بھی گوشہ محی الدین حاجنی شایع کیا ہے ۔
مرحوم پروفیسر حاجنی نے گرسی سند گرء (خانۂ دہقان)، لکُہ رس (لوک رس)،مقالات اور نثرچ کتاب (کتابِ نثر)کے عنوانات سے کئی کتابیں تخلیق کی ہیںجب کہ مختلف پر مواقع شایع شدہ مضامین پر مبنی کتاب’( Discourses of Prof.Hajni)‘جسے ڈاکٹر امین فیاض نے مرتب کیا ہے ،کو حلقہ ادب حاجن نے شایع کیا ہے ۔کچھ حوالوں کے مطابق ’’ کشکول‘‘ کے عنوان سے ان کی ایک تخلیق ابھی غیر مطبوعہ ہے ۔اس کے علاوہ مرحوم نے کتاب الطواسین،مسدس حالی اورالف لیلیٰ، کے کشمیری زبان میں ترجمے بھی کئے ہیں جب کہ کئی نامور کشمیری شعرا کا کلام بھی ترتیب دیا ہے جن میں دیوان وہاب ،’کاشر شاعری‘ (کشمیری شاعری)،’شاہ نامہ وہاب‘ ،’کلیات مولوی صدیق اللہ حاجنی‘ ،’کلام اسد پرے‘ اور کلام ’لسی ڈار مانُس، شامل ہیں ۔مرحوم کو ان کی تخلیقی خدمات کے صلے میں کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے ۔ان کی تخلیق ’’کاشر نثرچ کتاب‘‘ (کشمیری نثر کی کتاب)کو ریاستی کلچرل اکادمی کی طرف سے بیسٹ بک ایوارڈجب کہ حاجنی صاحب کو اسی ادارے کی طرف سے فلیو شپ کے بڑے اعزاز سے بھی نوازا گیا ہے اور ’مقالات‘ نامی کتاب کو ساہتیہ اکادمی دلی کی طرف سے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے عطا ہوا ہے ۔ان کے ادبی خدمات کے اعتراف میںحلقہ ادب سوناواری نے خلعت محی الدین حاجنی اور ادارہ سنگر مال نے حاجنی گولڈ میڈل نامی اعزازات قائیم کئے ہیں ۔خلعت محی ا لدین حاجنی ہر سال یوم محی الدین حاجنی کے موقع پرکشمیری زبان و ادب میں بہترین خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے جب کہ محی الدین حاجنی گولڈ میڈل ادبی مرکز کمراز کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر کشمیر یونیورسٹی میں ایم ۔اے ۔کشمیری کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے امید وار کو دیا جاتا ہے ۔حاجنی صاحب کی تابناک شخصیت اور شاندار ادبی سفر کے تمام پہلوئوں کا اس مختصر سے مضموں میں احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے مگریہ ایک خوش آئند بات ہے کہ حلقہ ادب حاجن اور دیگر ادبی تنظیموںنے ان کے علمی و ادبی کارناموں کونمایاں کرنے کے لئے قابل قدر کام انجام دیاہے اور یہ مشن جاری و ساری ہے ۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اجتماعی طور پر مرحوم حاجنی صاحب کے فن اور شخصیت کے تمام پہلوئوں کو نمایاں کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ کوششیں کی جائیں تاکہ نئی پود کو ان کے علمی کارناموں سے روشناس کیا جا سکے ۔  
زندگانی تھی تیری مہتاب سے تا بندہ تر 
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
مرحوم پروفیسر حاجنی صاحب اپنا طویل اور شاندار ادبی سفر کامیابی کے ساتھ طے کرنے کے بعد بالا آخر 16 جنوری1993؁ء کو اپنے تمام چاہنے والوں کو داغ مفارقت دے کر سفر آخرت پر روانہ ہوئے ۔معروف کشمیری شاعر رحمان راہی حاجنی صاحب کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔
پھول تہ بنجرس مشکہ ہو ت خو د رو گلاب
(کھلا تو بنجر میں مہکتا ہوا خود رو گلاب)
ژول تہ اوبرس ژھایہ ہر دُک  آفتاب 
(گیا تو خزان کا سورج بادلوں کے پیچھے چُھپ گیا)
گامہ ژانگس تل پران نو شاعری
(گائوں کے چراغ کی روشنی میں نئی شاعری پڑھتی ہے)
شہر وونان وانہ پینجہ پیٹھ پران خواب  
( شہر میں دوکان کے تھڈے پر بیٹھ کر پرانے خواب بن رہا ہے)
٭٭٭ 
مضمون نگار معروف افسانہ نگار اور و لر اردو ادبی فورم بانڈی پورہ کے صدر ہیں
رابطہ؛ tariqs709@gmail .com