کُتے ۔۔۔ پیارے کُتے

طنز و مزاج

23 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مشتاق کینی
کُتا ایسا ہر دل عزیز جانور بنتا جارہا ہے کہ آپ اس کو ہر گلی، ہر سڑک یہاں تک کہ ہر باغ اور ہر محفل کے آس پاس دیکھ سکتے ہیں۔ کتنا سُہانا اور دلربا منظر ہوتا ہے جب کتوں کے غول سڑک پر دھما چوکڑی اور چھینا جھپٹی کرتے ہوئے ساری سڑک پر اپنی حکمرانی قائم کرکے ثابت کردیتے ہیں کہ ان کی اعدادی قوت انسان کی افرادی قوت سے برتر ہے۔ رنگ برنگے کتے دُم ہلاتے ہوئے اپنے اپنے علاقے کی حفاظت کے لئے چاک و چوبندہوتے ہیں۔ مجال ہے کہ کوئی کُتا اپنے علاقے کی حد سے باہر جائے اور کوئی دوسرے علاقے کا کُتا اِدھر آئے۔ اگر بھول کے سبب گُھس پیٹھ ہوئی تو گُھس پیٹھئے کو کھدیڑ کے بھگانا عزت اور غیرت کی بات بن کر رہ جاتی ہے اور سڑک میدانِ جنگ بن جاتی ہے۔ اُس وقت انسان اپنے گھروں میں دُبک کر رہنے میں خیر سمجھتا ہے کیونکہ گندم کے ساتھ گن کا پس جانا حماقت کے مترادف ہے۔ کُتوں کی آبادی کے لئے حکومت نے خاص طور پر ایک منفرد محکمہ بھی قائم کیا ہے۔ یہ محکمہ کتوں کو ہر سہولت فراہم کرنے میں تن دہی اور جانفشانی سے کام میں لگا ہوا ہے۔ ہر گلی، ہر بڑی سڑک کے کنارے، یہاں تک کہ سیر و تفریح کے ہر مقام پر محکمہ نے کتوں کے خوردونوش کا معقول انتظام کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں کی صورت میں کر رکھاہے۔ محکمہ اس بات کا خاص خیال رکھے ہوئے ہے کہ کتوں کو مقوی اور ملی جُلی غذا دستیاب رہے۔ محکمہ ماحولیات توازن برقرار رکھنے کے لئے بھی کوشاں ہے اور اِس نے جراثیم کش ادویات کا استعمال کرنا ترک کردیا ہے تاکہ کتوں کی تبدیلی نسل سے ماحول کو زک نہ پہنچے۔
کُتے انسان کے دیرینہ وفادار رہے ہیں۔ اصحابِ کہف کا ساتھ بھی ایک کتے نے دیا تھا۔ اُس کی انسان دوستی اور وفاداری کے قصے مشہور ہیں۔ کئی بار آفاتِ سماوی سے انسان کو ہوشیار کرکے کتوں نے انسانی جان و مال تلف ہونے سے بچالیا۔ انسان کو صحت مند اور تندرست رکھنے کے لئے بھی کتوں نے اس کا ساتھ بخوبی نبھایا۔آپ کسی بھی پارک میں صبح سویرے جایئے اور دیکھئے کہ کُتے انسان کا ساتھ کس جانفشانی سے دیتے ہیں۔ انسان کسرت کرتے ہوتے ہیں اور کُتے ہوشیاری سے اُس پر نظر رکھے ہوئے اُن میں کسی بھی قسم کی سُستی آنے نہیں دیتے۔ آپ دوڑیئے اور دیکھئے کہ عام کُتا بھی آپ کے ہم قدم ہوجائیگا اور آپکو تیز دوڑنے پر مجبور کریگا۔ گرآپ سائیکل پر کسرت کررہے ہیں اور آپ سُست رفتاری کا مظاہرہ کررہے ہوں، کتا آپ کی طرف لپک کر آپ کو سائیکل تیز چلانے پر مجبور کردیگا، جس سے آپ کی صحت برقرار رہے گی۔ اگربچہ آپ کو پریشان کئے ہوئے ہے، آپ دور ہی سے کسی بھی رنگ، کسی بھی نسل یا پھر کسی بھی قد کے کُتے کو دکھا دیجئے اور دیکھئے کہ بچہ کس طرح ’رام‘ ہوجاتا ہے۔ کُتوں نے رات کے وقت رکھوالی کرنے کا ذمہ بھی اپنے سر لے رکھا ہے ۔۔۔ مگر اب وہ نقب زنوں کا ساتھ دینے پر مجبور ہیں کیونکہ انسان کی صحبت میں رہ کر انہوں نے بھی مزاج میں تبدیلی لائی اور انسان ہی کی طرح مراعات کے لئے ’دَل بدلی‘ کرنے میں کوئی شرم نہیں کرنے لگے ہیں۔ نقب زن اور چور اُن کو چپ رہنے کے لئے ’’گوشت و ہڈی‘‘ رشوت دیتے ہیں۔
آپ کبھی بھی موسمِ بہار یا گرما میں گلمرگ، یوسف مرگ، سونہ مرگ، پہلگام یا کسی اور صحت افزاء مقام کے سبزہ زاروں میں رنگ برنگے کتوں کے غول دیکھئے، کس قدر خوب صورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ سیاح، خاص طور پر ’انگریز‘ بڑی ہی دلچسپی اور اشتیاق سے کتوں کے غول دیکھتے ہیں۔ کیونکہ اُن کے ہاں کُتے ’للو پنجو‘ قسم کے ہوتے ہیں۔ یعنی گھریلو۔۔۔ چار دیواری میں بند یا پھر پولیس والوں کے ہمراہ۔ یہاں کے آزاد اور فربہہ کتوں کی مستانہ چال اور گھٹا ہوا جسم کسی بھی باہر سے آئے ہوئے مہمان کو اپنی طرف راغب کرسکتا ہے۔ کتوں کی آبادی بڑھ جانے کے سبب اُن کی برادری میںکافی مسائل پیدا ہونے لگے ہیں۔ مسائل کے حل کے لئے محکمہ کے اعلیٰ افسران اور کُتا نمائندوں کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کا انعقاد ہوا۔ کُتا آبادی کو قابو میں کرنے کے لئے بہت سی تجاویز پیش ہوئیں۔ ایک یہ کہ زہر کا استعمال کرکے کتوں کی آبادی کو کم کیا جائے۔۔۔ لیکن محکمہ مخصوص نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت محکمہ اقتصادی بحران سے دوچار ہے اور یہ ’کتا دشمن‘ عمل ہوگا۔ دوسری تجویز یہ رکھی گئی کہ نس بندی کے پروگرام کو عملایا جائے۔ اس پر کُتا نمائندے برہم ہوگئے اور کہا کہ اگر محکمہ مالی بحران سے دوچار ہے اور زہر کا انتظام کرنے سے قاصر ہے تو نس بندی کا کام کیسے عملایا جانا ممکن ہے۔ محکمہ مخصوص کے نمائندوں نے اپنی ناراضگی جتاتے ہوئے کہاکہ ان کا عملہ کتوں کی سہولت اور آرام برقرار رکھنے کے لئے دن رات ایک کرتا ہے اور یہ (کتے) ہم پر الزام تراشی کرتے ہیں۔ فی الحال کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو قابو کرنے کا معاملہ التواء میں رکھا گیا۔
اس میٹنگ کے برخواست ہونے کے فوراً بعد کتوں نے اپنی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ بلائی جس میں کتوں کے تحفظ اور اُن کے حقوق کے امور پر گفت و شنید ہوئی۔ اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ دیہات کے کتے اکثر دھوبی کے کتے بن کر رہ گئے ہیں جو نہ گھر کے رہے ہیں اور نہ گھاٹ کے اور بہت سارے قصبہ جات میں کتے، کُتے کی زندگی جینے پر مجبور ہورہے ہیں۔ لیکن اس بات پر اطمینان کا اظہار بھی ہوا کہ چوراہوں پر بنے بنکروں آس پاس رہنے والے کتوں کا معیارِ زندگی بڑھ گیا ہے اور کتے کی موت مرنے والے کتوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔وزیر محترمہ، جو مزاجاً کتا طبیعت کی ہیں، کی جانور دوست کاوشوں کی سراہنا کی گئی۔ اُن سے گزارش بھی کی گئی کہ وہ اپنے میک اَپ اور شیمپو کے استعمال کوترک کرکے عملاً جانور دوستی کا مظاہرہ کریں۔ میٹنگ کے آخر پر دس کتوں پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی جو قصبہ جات اور دیہات میں کتوں کو درپیش مسائل کے بارے میں اپنی رائے، تجاویز اور سفارشات پیش کریگی۔ 
اقتصادی امور کے ماہروں نے حکومت کے سامنے ایک تجویز رکھی ہے کہ کُتوں کو عالمی بازار کے بے تاج بادشاہ مملکت چین برآمد کرکے زرمبادلہ کی اچھی خاصی رقم حاصل ہوسکتی ہے، جو کتوں کے ترقیاتی کاموں پر خرچ کی جاسکتی ہے۔ یہ تجویز حکومت کو قابلِ عمل لگ رہی ہے۔
���
کینی ہائوس، کورٹ روڑ سرینگر
موبائل نمبر؛9906633004
 

تازہ ترین