تازہ ترین

نئے انتظامی یونٹ کب فعال بنیں گے؟

19 جون 2019 (13 : 01 AM)   
(      )

 پانچ سال قبل یعنی 2014میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی مخلوط حکومت کے اقتدار کے دورانیہ کے آخری دنوں ریاست بھر میں سینکڑوں نئے انتظامی یونٹوں کا قیام عمل میں لایاگیا اوراس فیصلے پر جہاں کچھ علاقوں میں جشن منایاگیا وہیں نظرانداز کئے گئے علاقوں میں احتجاج اور دھرنے شروع ہوئے ،جس پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل پائی اور جس کی سفارشات پر مزید کئی انتظامی یونٹ قائم ہوئے مگر بدقسمتی سے یہ انتظامی یونٹ برائے نام بن کر رہ گئے ہیں ۔ کیونکہ ان میں نہ ہی عملہ تعینات ہے اور نہ ہی بنیادی ڈھانچہ میسر ہے۔نتیجہ کے طور پر دور دراز اور پہاڑی علاقوں کی عوام کے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ بنتے جارہے ہیں اور انہیں ایک معمولی سے کام کیلئے کئی کئی چکر کاٹنے پڑتے ہیں ۔نئے انتظامی یونٹوں کے حوالے سے بیشتر جگہوں پر یہ صورتحال ہے کہ کئی نیابتیں ایک نائب تحصیلدار اور درجہ چہارم کے ایک ملازم کے ساتھ چل رہی ہیں تو نئی تحصیلوں میں تحصیلدار، نائب تحصیلدار اور درجہ چہارم کا ایک ایک  ملازم تعینات ہے ۔ان دفاتر میں کلریکل اور دیگر اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں اور لوگوں کا جو کام ایک دن میں ہوسکتاہے اُس کو مکمل ہونے میں کئی کئی ہفتے لگ جاتے ہیں ۔ حالت یہ ہے کہ نئی تحصیلوں میں اسٹامپ پیپر  بھی دستیاب نہیں جن کو حاصل کرنے کیلئے لوگوں کو پرانی تحصیلوں میں جاناپڑتاہے ۔یہ انتظامی یونٹ کہیں پر انتہائی ضرورت کے مطابق قائم کئے گئے تو کہیں ان کا قیام سیاسی بنیادوں پر بھی ہواتاہم اس بات سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ ان انتظامی اکائیوں سے لوگوں کو بہت کم فائدہ پہنچ رہا ہے ۔اگر ہر ایک نبایت اور تحصیل میں عملے کی تعیناتی اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے گاتو اس سے ان دور افتادہ علاقوں کے لوگوں کے مسائل اور مشکلات ضرور کم ہوں گی جنہیں ایک سرٹیفکیٹ بنوانے کیلئے میلوں پیدل سفر طے کرکے تحصیل یا ضلع صدر مقام پہنچناپڑتاتھا۔یہاں یہ امر بد قسمتی کا باعث ہے کہ نئے انتظامی یونٹ ، بلاک یا دیگر دفاتر قائم کرنے کے اعلانات کے وقت عملے کی تعیناتی اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کی فکر نہیںکی جاتی اور یہ فیصلے وقت اور سیاسی مصلحت کو مد نظر رکھتے ہوئے کئے جاتے ہیں جن کا خمیازہ بعد میں لوگوں کو ہی بھگتناپڑتاہے ۔یہ عموماً دیکھاگیاہے کہ عوام کی سہولت کیلئے اعلانات او ر وعدے توبڑی آسانی سے کرلئے جاتے ہیں لیکن پھر ان پر عمل درآمد ہونے میں برسہا برس لگتے ہیں ۔ نئے انتظامی یونٹوں کے قیام کا مقصد بھی لوگوں کو ان کی دہلیز پر سرکاری خدمات کی فراہمی تھا لیکن یہ مقصد پور انہیں ہواکیونکہ اعلان کے بعداگلے مرحلے پر سنجیدگی سے اقدامات نہیں کئے گئے ورنہ آج ہر ایک نیابت اور تحصیل میں ضرورت کے مطابق عملہ تعینات ہوتا اور بنیادی ڈھانچے کا بھی فقدان نہیںپایاجاتا۔اگرحکومت صحیح معنوں میں عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے وعدہ بند ہے تو اسے ان انتظامی یونٹوں کو فعال بناناہوگا جوقیام سے آج تک غیر فعال بنے ہوئے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان نئے دفاتر میں درکار عملے کی تعیناتی عمل میں لائی جائے جس سے نہ صرف بیروزگار نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوںگے بلکہ عوام کو مسائل کے حل کیلئے دربدربھی نہیں ہوناپڑے گا۔امید کی جانی چاہئے کہ گورنر انتظامیہ اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کرے گی اور عوام کو مقامی سطح پر خدمات فراہم کرنے کا خواب شرمندہ ٔ تعبیر ہوگا۔