تازہ ترین

اننت ناگ کا فدائی حملہ!

سوزِ دروں

18 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

منظور انجم
   حقیقت میں وہی سے زندگی کی راہ ملتی ہے 
 سفینہ غر ق ہوجائے جہاں ٹکرا کے ساحل سے 
12جون کو جب گورنر ستیہ پال ملک میڈیا کی کہکشاں کے سامنے جنگجوؤں کو ہتھیار چھوڑ کر میز پر آنے کی دعوت دے رہے تھے، جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں جنگجو فورسز پر خون ریز حملے کی تیاریاں کررہے تھے ۔ گورنر کی پریس کانفرنس ختم ہونے کے بعد خبر آئی کہ کھنہ بل ۔ پہلگام روڑ پر جنگجوؤں کے حملے میں سی آر پی ایف کے پانچ جوان ہلاک ہوئے ۔ ایک سٹیشن ہاؤس آفیسر اور ایک خاتون شدید طور پر زخمی ہوئے جب کہ ایک جنگجوجوابی کاروائی میں مارا گیا ۔ ظاہر ہے کہ یہ حملہ اس دباؤ کو توڑنے کی ایک کوشش تھی جو کافی عرصے سے فورسز نے جنگجوؤں پر بنایا ہوا ہے اور جس کے نتیجے میں جنگجوؤں کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔ کئی اعلیٰ کمانڈر مارے گئے جن میں’’ انصار غزوۃ الہند ‘‘کے کمانڈر ذاکر موسیٰ بھی شامل ہیں لیکن اس نقصان سے زیادہ عسکریت پسندوں کیلئے تشویش کی وجہ وہ مایوسی ہے جو فورسز کی مسلسل کامیابیوں کی وجہ سے ان لوگوں میں پھیلنے لگی ہے جو عسکریت پسندوں کی حمایت میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہا کرتے ہیں۔پہلی بار یہ احساس جاگنے لگا کہ عسکریت کو اگر ختم نہیں تو بے اثر بنایا جاسکتا ہے،اس سے پہلے اس کا کوئی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ۔چنانچہ عسکریت کے منتظموں کیلئے اس احساس کومٹانے کی کوشش لازمی ہوچکی تھی، اننت ناگ حملہ غالباً اسی کا نتیجہ تھا ۔اس کا ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے اور وہ یہ ہے کہ حیرت انگیز طور پر’’ العمر مجاہدین‘‘ نامی عسکری تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ۔ یہ تنظیم طویل عرصے سے کسی بھی عسکری سرگرمی میں ملوث نہیں رہی ہے اور اب اسے ایک بھولی بسری تنظیم کے طور پر ہی جانا جاتا تھا ۔اس مرحلے پر اس تنظیم کا اتنے بڑے حملے کے ساتھ ظاہر ہونا کیا عسکریت کی کسی نئی ا سٹریٹجی کا آغاز ہے ؟یہ سوال بڑا اہم ہے کیونکہ گزشتہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے میں حزب المجاہدین ، جیش محمد ، لشکر طیبہ اور کبھی کبھی انصار غزوۃالہند کے علاوہ کسی عسکری تنظیم کا نام نہیں سنا جارہا تھا ۔ان تنظیموں پر بین الاقوامی پابندیو ں اور پاکستان میں ان کے دفاتر بند کئے جانے کے بعد العمر مجاہدین کا سامنے آناایک تو اس بات کا اظہار ہے کہ عسکریت کے منصوبہ سازحکومت ہند کے ملی ٹنسی کے خلاف سخت ترین موقف اور فورسز کی متواتر کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ملی ٹنسی کے خلاف بین الاقوامی رویئے سے مایوس ہوکر پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیںبلکہ نئے حربے اختیار کرکے میدان گرم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنا چاہتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسے حملے فورسز کی کامیابیوں کو روکنے میں مددگار ثابت ہوسکیں گے اور کیا اس سے اُس مایوسی کا خاتمہ ہوگاجس نے عسکریت کے حامیوں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی بے چینی میں مبتلا کردیا ہے ؟
ـعسکری تحریک کے طول پکڑنے سے بھی بیشتر ذہنوں میں یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا عسکریت بھارت جیسے ملک کو جھکانے اور کشمیر کامسئلہ حل کرنے میں فیصلہ کن کردار کی حامل ہوسکتی ہے؟ اب یہ حساب بھی لگایا جارہا ہے کہ اس سے کشمیر کے عوام کو کتنا فایدہ حاصل ہونے کی توقع ہے اور کتنا نقصان اسے اٹھانا پڑرہا ہے ۔تین دہائیوں کے بعد بھی جب کسی کوشش کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو تو مایوسی کا عنصر پیدا ہونا ایک فطری امر ہے ۔ ہندوستان کے حالیہ انتخاب میں بی جے پی کی غیر معمولی کامیابی نے بھی اس مایوسی میں اضافہ کیا ہے اور پاکستان کے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر عسکریت کے خلاف نفرت انگیز روئیے نے آزادی یا مطالبات کے حصول کے لئے عسکریت کی اہمیت و افادیت کوتقریباً ختم کرکے رکھ دیا ۔ کشمیر میں عسکریت کا بنیادی تصوراندرونی اور بیرونی سطح کا وہ دباو پیدا کرنا تھا جو ہندوستان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے ساتھ ساتھ اسے من چاہے مطالبات منوانے پر مجبور کرتا لیکن اس نے بیرونی سطح پر ہندوستان کو زیادہ مضبوط بنایا اور اندرونی سطح پر بھی اس نے حالات کو قابو سے اس حد تک باہر جانے سے روکنے میں کامیابی حاصل کی کہ جو اس کے لئے کوئی بڑا مسئلہ پیدا کرتے ۔اس مرحلے پر اب خود کشمیر کا اپنا وجود داؤ پر ہے ۔ آئینی تحفظات پر سوال کھڑے ہوچکے ہیں اور ریاست میں کشمیر کی مرکزیت کا خاتمہ کرنے کی کوششیں بھی تیز ہورہی ہیں ۔ اسمبلی حلقوں کی نئی حد بندی کی سوچ کا مقصد یہی ہے ۔ عسکریت اس یلغار کو روکنے کے بجائے اس کو اور زیادہ تیز کرنے کا باعث ہورہی ہے بلکہ اگر یہ کہاجائے کہ عسکری حملے مودی حکومت کو یہ جواز فراہم کررہے ہیں کہ وہ کشمیر میں آئین ، قانون ، ضابطوں اوراخلاق کی پرواہ کئے بغیرکسی بھی طرح کے جارحانہ اقدامات سے گریز نہ کرے تو غلط نہیں ہوگا ۔ مودی حکومت کی مقبولیت اور استحکام اب کشمیر سے ہی وابستہ ہوچکا ہے ۔ الیکشن میں زبردست کامیابی بھی اسی کی مرہون ِمنت رہی اس لئے وہ کوئی کشمیر کے بارے میں کوئی لچک پیدا کرنے کے روادار نہیں ہوسکتے ۔وہ یقینا ًسیاسی ، آئینی اور قانونی سطح پر کچھ ایسا کرنے کی سوچ رہے ہوں گے جس سے عوام کی واہ واہ بٹورنے میں کامیابی حاصل ہو ۔ امیت شاہ وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد کشمیر پر پوری توجہ مبذول کئے ہوئے ہے اور میٹنگوں پر میٹنگیں منعقد کی جارہی ہیںجو بے شمار اندیشوں کو جنم دے رہی ہیں ۔اس نازک موڑ پر کوئی نہیں ہے جو کشمیر اور اس کے عوام کی عزت ، وقار اور مفادات کی جنگ کامیابی کے ساتھ لڑ سکے ۔قومی دھارے کی سیاست اس سلسلے میں کوئی بھی کردار اداکرنے کی قوت سے محروم ہوچکی ہے ۔ مزاحمت کی ہمہ گیر قبولیت اور عسکریت نے اس کی عوامی ساکھ کو ختم کرکے رکھ دیا ہے۔پہلے ہی اس کی بے ضابطگیوں اور بے اعتدالیوں سے عوام کے دلوں اور ذہنوں میں اس کے خلاف نفرت کا زہربھرا جاچکا تھا ۔اب رہا سوال مزاحمتی قیادت کا تو این آئی اے نے پہلے ہی اس کی کمر توڑ کررکھ دی ہے ۔ ایسا نہ بھی ہوتا تب بھی ایسے پیچیدہ حالات میں موثر اور نتیجہ خیز کردار ادا کرنے کے لئے اس کی صلاحیتو پر کئی سوال اُٹھ سکتے ہیں ۔عوامی احساسات اور جذبات کے ترجمان بن کر قیادت کے منصب پر براجمان ہونا عزت اور وقارکا مقام تو ہوتا ہے لیکن حقیقی قیادت منصب سے بالکل مختلف ہوتی ہے ۔ قیادت کے پیچھے عوام چلتے ہیں ۔ عوام کے پیچھے قیادت نہیں چلتی ۔ قیادت رہنمائی کرتی ہے اور موجودہ قیادت نے کبھی رہنمائی کا کردار ادا نہیں کیا ۔ جب بھی کوئی غلط بات ہوئی اس نے اس کی نشاندہی نہیں کی اور نہ ہی اسے روکنے کی کوئی کوشش کی ۔ ایسے میں قیادت پیچیدہ مرحلوں پر کوئی موثر اورنتیجہ خیز کردارکیسے ادا کرسکتی؟ اور آج قوم اسی مرحلے پر ہے جب اسے رہبری کی ضرورت ہے ۔ عسکریت پسندوں نے کبھی مزاحمتی قیادت سے کوئی مشورہ نہیں کیا ہے ،وہ ایک الگ اور آزاد قوت ہے ۔ عوامی ہجوم بھی جب جوکرنا چاہتے ہیں کرگزرتے ہیں۔ مزاحمتی قیادت ان کے ہر اقدام کی حمایت کرتی ہے ۔ کبھی کسی بھی مہم یا اقدام کا وقت متعین نہیں کرتی جس کی تحریکوں میں سب سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے ۔موجودہ مرحلہ نہایت ہی حساس اور نازک مرحلہ ہے جس پر اس قوم کی بقاء کا سارا دار و مدار ہے ۔اس مرحلے پر مربوط اور منظم فکر کو کام کرنا چاہئے جس کا دور دور تک کوئی شائبہ نظر نہیں آتا ۔ جرأت مندانہ اور دانشمندانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کا بھی کوئی امکان کہیں موجود نہیں ہے ۔ قوم کی کشتی بھنور میں ہے، اسے اگر اس بھنور سے نکالنے کی کوئی موثر تدبیر نہیں کی گئی تو یقینا کشتی ڈوب جائے گی اور اس کے ساتھ اس قوم کی ساری خواہشات اور ساری اُمیدیں بھی غرق ہوکر رہ جائیں گے ۔دور اندیش ملاح کشتی کو ایسے مقام پر کسی طرح سے بھی لاتے ہیں جہاں کشتی تو غرق ہوجاتی ہے لیکن مسافروں کو زندگی کی نئی راہ مل جاتی ہے۔
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘
