تازہ ترین

مزید خبریں

17 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ملژار فرنٹ نے صحافی شجاعت بخاری کو خراج ادا کیا

جموں //جے اینڈ کے ملچار فرنٹ کا یہاں ایک جنرل باڈی اجلاس منعقد کیا گیا ،جس کی صدار ت سمبو ناتھ سپرو نے کی۔اجلاس میں صحافی شجاعت بخاری کو زبر دست خراج عقیدت ادا کیا گیا ،جس کا قتل ایک سال قبل انکے دفتر کے باہر کیا گیا تھا ،فرنٹ کے ممبران نے  صحافی شجاعت بخاری کو انکی پہلی برسی پر خراج ادا کیا ۔ اس موقعہ پر مقررین نے انکے صفعات بطور ایک سوشل ورکو اور بطور صحافی کے اجاگر کیا۔ ممبران نے  ملک خصوصاً ملی ٹینسی زدہ ریاست جموں و کشمیر میں انکے کردار کی سراہنا کی۔انہوں نے سماج کے کمزور طبقہ اور غریب لوگوں کی بھلائی کیلئے کئے گئے کام کو یاد کیا،خصوصاً 1990کے بعد کشمیری مائیگرنٹوں کیلئے۔سپرو نے مرحوم کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے انکی زندگی پر روشنی ڈالی اور انکے صفعات بطور ایک سماجی کارکن اور ایک صحافی کو یاد کیا۔اجلاس میں کلدیپ کمار رائو، روشن لعل رینہ، غلام احمد میر ،اے آر بھٹ ،آشو زتشی ،کونگپوش ،پربھات سنگھ و دیگران نے بھی شرکت کی۔
    

فزیکل کالج گاڈورہ میں ثقافتی پروگرام کا اہتمام

ارشاد احمد
گاندربل //گورنمنٹ فزیکل کالج گاڈورہ میں ’’شامِ انس‘‘ کے تحت ایک ثقافتی پروگرام منعقد کیا گیا جس کیلئے ضلع انتظامیہ گاندربل، محکمہ انفارمیشن اورسی آر پی ایف کے 118ویں بٹالین نے اشتراک کیا تھا۔پروگرام کا مقصد کشمیر کے لوگوں کے درمیان محبت، ہم آہنگی اور امن کو فروغ دینا تھا۔سی آر پی کے انسپکٹر جنرل روی دیپ سنگھ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروگرام میںشرکت کی جبکہ سی آر پی ایف کے ڈی آئی جی،ڈسٹرکٹ انفارمیشن افسر گاندربل،پرنسپل گورنمنٹ فزیکل کالج ڈاکٹر ہرتیج سنگھ،انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران اورضلع گاندربل سے تعلق رکھنے والے صحافی بھی موجود تھے۔پروگرام میں وادی کے نامور فنکاروں نے شائقین کو اپنے فن سے محظوظ کیا۔جن فنکاروں نے اس پروگرام میںشرکت کی اُن میں شفیع سوپوری،منیر مریم،شازیہ بشیر،الطاف ساحل، نظیر جوش،حسن جاوید،شگفتہ رحمان،راکیش ملہوترہ اورفیروز شاہشامل ہیں۔آئی جی پی سی آر پی ایف روی دیپ سنگھ نے سوسائٹی کے مختلف طبقات کے درمیان امن اور ہم آہنگی پھیلانے پر زور دیا۔ 
 

 شجاعت بخاری کی صحافتی،سماجی اور تہذیبی خدمات یاد

ادبی مرکز کمراز کی طرف سے برسی پرتقریب کا اہتمام

سرینگر//معروف صحافی اور کشمیری زبان کی لسانی تحریک سے وابستہ فعال رضاکار اور ادبی مرکز کمراز کے سابق صدر سید شجاعت بخاری کو ادبی مرکز کمراز کی جانب سے سرینگر میں منعقدہ ایک تقریب کے موقعہ پر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ تقریب میںدانشور، شاعر، تمدنی رضاکار اور سول سوسائٹی سے وابستہ نمائندہ شخصیات نے شرکت کی۔ محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کے اشتراک سے منعقدہ اس تقریب کی صدارت مشہور مفکر اور قانونی ماہر جسٹس بشیر احمد کرمانی نے کی جبکہ ایوانِ صدارت میں محمد شفیع پنڈت، ڈاکٹر الطاف حسین، سید بشارت بخاری، محمد سعید ملک، اور فاروق رفیع آبادی بھی شامل تھے۔اس موقعہ پر مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے ادبی مرکز کمراز کے صدر فاروق رفیع آبادی نے شجاعت بخاری کی اُن خدمات کو دہرایا جو انہوں نے ادبی مرکز کمراز کومضبوط اور مستحکم بنانے میں انجام دیں۔تقریب کاکلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ادبی مرکز کمراز کے سابق صدر اور سینئر ممبر ڈاکٹر عزیز حاجنی نے شجاعت بخاری کو ایک ہیرو قرار دیتے ہوئے اُن کی ہمہ جہت شخصیت کے کچھ امتیازی پہلو اُجاگر کئے۔ تقریب میں شجاعت بخاری میموریل لیکچر پیش کرتے ہوئے ریاست کے سینئر صحافی محمد سعید ملک نے شجاعت بخاری کو ایک نڈر، بے باک اور صاف گو صحافی قرار دیتے ہوئے اُن کی سماجی اور تہذیبی خدمات کو بھی یاد کیا۔ سعیدملک نے مطالبہ کیا کہ شجاعت بخاری کے قتل میں ملوث ذمہ دار لوگوں کو سامنے لانا حکومت کی ذمہ داری ہے جس میں ابھی تک سرکار کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے شجاعت بخاری کے مشن کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ شجاعت بخاری کے برادرِ اکبر سید بشارت بخاری نے نہایت ہی جذباتی اندازمیں شجاعت کی شخصیت کے کچھ ایسے پہلو سامنے لائے جو سُن کر سامعین اشک بار ہو گئے۔ مشہور معالج ڈاکٹر الطاف حسین نے بھی یہ مطالبہ دہرایا کہ شجاعت بخاری جیسے صاف گو اور نِڈر صحافی اور دانشور کے قتل میں ملوث لوگوں کو دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ تقریب کا صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈبشیر کرمانی نے شجاعت بخاری کے تاریخی رول کو کشمیر کے موجود حالات کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جسٹس کرمانی نے اس ضمن میں کشمیری سماج کو اجتماعی طور پر غور و فکر کرنے کی تلقین کی۔تقریب کے آغاز میں اجتماعی فاتحہ خوانی ہوئی۔ جن دیگر شخصیات نے مرحوم صحافی اور تہذیبی رضاکار شجاعت بخاری کو اس موقعے پر خراجِ عقیدت پیش کیا اُن میں مشتاق احمد مشتاق، سلیم بیگ، نسیم شفائی، غلام نبی آتش شامل تھے۔تقریب کے ابتدا ء میں وادی کے کئی نمایندہ شعراء نے سید شجاعت بخاری کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب کی نظامت ادبی مرکز کمراز کے سینئر ممبر شاکر شفیع نے انجام دی جبکہ تحریکِ شکرانہ نائب صدر اول عبد الاحد حاجنی نے پیش کی۔ تقریب میں جو دیگر اہم شخصیات شامل تھیں اُن میں پروفیسر مشعل سلطانپوری، ادبی مرکز کمراز کے جنرل سیکریٹری عبد الخالق شمس، حوا بشیر، بشیر دادا، عیاش عارف، محبوب نوگامی، شبیر مجاہد، بشیر الحق، قرات العین، پروفیسراقبال نازکی، محمد یوسف شاہین اورجیلانی کامران وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
 

ہائی سکول تمنہ کرالہ پورہ انتظامیہ کی نظرو ں سے اوجھل 

اشرف چراغ 
کپوارہ//کرالہ پورہ تعلیمی زون کے تحت آنے والے سرکاری ہائی سکول تمنہ کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔چوکی بل سے ایک کلو میٹر دور نالہ کہمل پر واقع تمنہ نامہ گائوں میں موجود یہ ہائی سکول ایک جنگلی علاقے میں قائم ہے جہا ں اکثر و بیشتر خطرہ لا حق رہتا ہے لیکن ابھی تک ہائی سکول کے لئے کوئی نئی عمارت تعمیر نہیں کی گئی ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ سکول عمار ت کے ارد گرد ابھی تک دیوار بند ی بھی نہیں کی گئی ۔ سکولی عمارت گا ئو ں کے ایک طرف قائم ہونے کے نتیجے میں شرپسندعناصر نے دیوار بندی کی عدم دستیابی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو نقصان پہنچایا ۔مقامی لوگو ں کے مطابق عمارت کی کھڑکیو ں،چھت اور دوسرے حصوں کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے یہ عمارت غیر محفوظ بن گئی ہے  ۔لوگوں نے اس ضمن میں حکام سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
 

 حاجی بل بارہمولہ میں پینے کے پانی کی قلت 

فیاض بخاری
 بارہمولہ// قصبہ بارہمولہ سے14 کلو میٹر دور حاجی بل علاقے میں پینے کے صاف پانی کی سخت قلت ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ مقامی لوگوں نے محکمہ پی ایچ ای پر الزام عائد کر تے ہوئے بتا یا کہ محکمہ کے افسران کی عدم توجہی سے پانی کی سپلائی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ایک مقامی شہری سجاد احمد نے بتا یا کہ اگر چہ علاقے میں ایک واٹرٹینکی نصب ہے تاہم محکمہ کی غفلت شعاری کی وجہ سے وہ خستہ ہوچکی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گائوں میں کئی چشمے موجود تھے تاہم وہ بھی خشک ہوچکے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں کو دورایک نالہ سے پانی حاصل کرنا پڑ تا ہے، جو آلودہ ہے۔ لوگوںنے متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا کہ علاقے کے لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کیلئے فوری طور ا قدامات کئے جائیں۔
 

 سندھ اور برمسرنالوں سے بجری

ریت اور پتھر نکالنے کا سلسلہ جاری

ارشاد احمد
گاندربل//نالہ سندھ اورنالہ نالہ برمسر سمیت دیگر نالوں سے غیر قانونی طور پر بجری،ریت اور پتھر نکالنے کا کام بڑے پیمانے پر جاری ہے۔وائل پل سے پرنگ تک نالہ سندھ میں دن بھر درجنوں ٹپر اور ٹریکٹر غیر قانونی طور پر بجری،ریت اور دیگر تعمیراتی موادنکالنے میںمصروف دکھائی دیتے ہیں جس سے نالہ سندھ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ وسن میں نالہ برمسر سے بھی غیر قانونی طور پر ٹپر،ٹریکٹر یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔محکمہ جیالوجی اور مائننگ کے ضلع آفیسرمنظور احمد نے اس ضمن میں کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ہمارا محکمہ اور سب ڈویژنل مجسٹریٹ کنگن اس سلسلے میں جلد کارروائی کررہا ہے‘‘۔