وزیراعظم کے طلب کردہ کل جماعتی اجلاس میں اہم معاملات پر تبادلہ خیال | اسمبلی انتخابات جلد کروانی کا مطالبہ

کسانوں کی حالت زار، بیروزگاری اورپریس کی آزادی کے معاملات چھائے رہے

17 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
نئی دہلی//جموں کشمیرمیں اسمبلی انتخابات، کسانوں کی پریشانی اور بے روزگاری کل جماعتی میٹنگ میں چھائے رہیں۔  پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس سے  ایک روز قبل کانگریس نے اتوار کو ملک میں بیروزگاری، کسانوں کی پریشانی ، خشک سالی ،پریس کی آزادی اورجموں کشمیراسمبلی کے انتخابات کے فوری انعقاد کے مسائل کو حکومت کے سامنے رکھا۔کل جماعتی میٹنگ جوحکومت نے طلب کی تھی،میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے ان سبھی معاملات پر پارلیمنٹ میں بحث کامطالبہ کیا۔ میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ ،راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد، کانگریس کے ادھیر چودھری، کے سریش، نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اورترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرین موجود تھے ۔ حزب اختلاف نے خواتین کی ریزرویشن بل کامعاملہ زور وشور سے اُٹھایا اور ترنمول کانگریس نے پارلیمنٹ کے روان اجلاس کے دوران اس بل کوپاس کرنے پر زور دیا۔ اپوزیشن نے وفاق کے کمزور ہونے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ دانستہ طور ریاستوں کونشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔آزاد نے میٹنگ کے بعد میڈیا کوبتایا کہ ہم نے حکومت کومبارکبار دی لیکن یہ بھی کہا کہ یہ نظریات کی جنگ ہے ،یہ نظریات کی جنگ تھی اوریہ نظریات کی جنگ رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس سیکولر طاقتوں کی بانی ہے اور یہ اُس روح کو زندہ جاوید رکھنے کیلئے کام کرتی رہے گی چاہے حکومت میں ہویااپوزیشن میں۔غلام نبی آزاد نے کہا کہ اقتدار سے باہر ہونے کے باوجود ہم کسانوں ،مزدوروں اورخواتین کی ترقی کیلئے کام کرتے رہیں گے ۔ہم نے کہا کہ کچھ ایسے معاملات ہیں جن کی طرف حکومت کوتوجہ دینی ہوگی جیسے کسانوں،خشک سالی ،پینے کے صاف پانی کی کمی اورملک میں بڑھتی بے روزگاری۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بیروزگاری کی طرف فوری طور توجہ دینی ہوگی جوگزشتہ پانچ سال میں کافی بڑھ چکی ہے ۔آزاد نے کہا کہ میٹنگ کے دوران ہم نے ذرائع ابلاغ کی آزادی کا معاملہ بھی اُٹھایا۔حزب اقتدار کے کارکنوں کا صحافیوں کے تئیں رویہ بھی زیربحث آیا۔اُنہیں(صحافیوں)کو ماراپیٹا جاتا ہے اوران کی آوازکو دبانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ہم نے اس کی مذمت کی اورحکومت پرزوردیا کہ وہ اس کی طرف دھیان دیں ۔آزاد نے کہا کہ اداروں کی آزادی اور’ وفاق کے کمزور‘ہونے کا مسئلہ بھی حکومت کے سامنے پیش کیاگیا ۔آزاد کے مطابق کانگریس نے حکومت پر واضح کیا کہ جموں وکشمیر میں صدرراج کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ایک طرف حکومت کہہ رہی ہے کہ انتخابات کیلئے ماحول سازگار نہیںہے اور اسی لئے صدرراج نافذکیاگیا ہے اور دوسری طرف مرکز کاکہنا ہے کہ گزشتہ برس پنچایتی انتخابات پرامن طور منعقد کرائیں گئے ۔حال ہی میں جموں وکشمیرمیں لوک سبھا چنائو بھی منعقد ہوئے اور وہ بھی پرامن طور ہوئے ۔آزاد نے کہا کہ اگر پنچایتی اور پارلیمنٹ انتخابات منعقد کرائے جاسکتے ہیں تو اسمبلی چنائو کیوں نہیں؟جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہم نے میٹنگ میں حکومت کو بتایا کہ آپ لوگ جموں کشمیرمیں اسمبلی چنائواس لئے منعقد نہیں کرارہے ہو کیونکہ وہاں بھاجپا کی حکومت قائم نہیں ہوگی  اور یہی وجہ ہے کہ آپ ریاست پر صسدرراج کے ذریعے حکومت کرنا چاہتے ہو۔  مرکزی کابینہ نے گزشتہ ہفتے ریاست جموں کشمیرمیں صدرراج کی مدت میں3جولائی سے چھ ماہ کی توسیع کو منظوری دیدی ۔ترنمول کانگریس نے انتخابی اصلاحات سمیت انتخابات کے سٹیٹ فنڈنگ اور پیپز بیلٹ کا معاملہ اُٹھایا۔پارٹی نے حکومت کی طرف سے آرڈی ننسوں کے استعمال پر بھی حزب اختلاف کی تشویش کوظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی روح کو صرف ہنگامی طور ہی استعمال کیا جانا چاہیے ۔
 

تازہ ترین