تازہ ترین

مزید خبریں

17 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک

کپوارہ اور بڈگام میں زائرین کیلئے سہولیات دستیاب رکھیں :مصطفی کمال

سرینگر// نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال نے عرس مبارک حضرت ذیتی شاہ ولیؒؒ مقام شاہ ولی درگمولہ کپوارہ اور عرسِ حضرت سید صالح خانؒ ؒخانصاحب کے پیش نظرکپوارہ اور بڈگام کی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ زائرین کے لئے ہر سطح پر بجلی، پینے کا پانی، صحت صفائی اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو دستیاب رکھا جائے ۔
 
 

کنزرچھانہ پورہ پل 15برسوں سے تشنۂ تکمیل

ٹنگمرگ//شمالی کشمیر میں پچھلے 15برسوں سے زیر ِتعمیر پُل کو حالیہ طغیانی کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر نقصان پہنچ گیا ہے، جس کی وجہ سے عوام  پریشانیوںسے دوچارہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پندرہ برس قبل اکنامک ریکنسٹرکشن ایجنسی نے اِس پُل کو تعمیر کرنے کی شروعات کی لیکن دو برس قبل یہ کام محکمہ آر اینڈ بی کو سونپا گیا تاہم انہوں نے بھی حتمی مراحل پر ادھورا چھوڑ کرمکمل نہیں کیا۔مقامی لوگوں کے مطابق اگرچہ پل پر 75فیصد کام مکمل ہوچکا ہے تاہم متعلقہ محکمہ اِس کو تکمیل تک پہنچانے میں نا معلوم وجوہات کی بناء پر لیت و لعل کررہا ہے۔ پل کے ایک طرف چک ڈیم میں مبینہ طورخامی رہنے کی وجہ سے حالیہ سیلاب کے دوران نقصان پہنچ گیا ہے ۔ لوگوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لیکرپل کو آمدورفت کے قابل بنایا جائے۔
 
 
 
 

دارالعلوم سید المرسلین چوگام قاضی گنڈ میں داخلے شروع 

سرینگر//دارالعلوم سید المرسلین چوگام قاضی گنڈمیں مکمل شعبہ تجوید و قرات میں نئے داخلے جاری ہیں ۔مدرسہ ہذامیں معروف قاری اور دارالعلوم دیوبند کے سابق صدر قرآء قاری ابوالحسن اعظمی کے شاگرد خاص مولانا قاری نواز احمد شان ،ناظم تعلیمات واستادتجویدوقرات کی زیر نگرانی شعبہ میں اس سال بھی 15طلاب کا داخلہ مطلوب ہے۔ اس کے علاؤہ دیگر شعبہ جات میں بھی داخلے جاری ہیں۔ شعبہ تجوید و قرات میں داخلہ لینے والے طلاب کوماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے گا۔ 
 
 

 شجاعت بخاری کی صحافتی،سماجی اور تہذیبی خدمات یاد

ادبی مرکز کمراز کی طرف سے برسی پرتقریب کا اہتمام

سرینگر//معروف صحافی اور کشمیری زبان کی لسانی تحریک سے وابستہ فعال رضاکار اور ادبی مرکز کمراز کے سابق صدر سید شجاعت بخاری کو ادبی مرکز کمراز کی جانب سے سرینگر میں منعقدہ ایک تقریب کے موقعہ پر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ تقریب میںدانشور، شاعر، تمدنی رضاکار اور سول سوسائٹی سے وابستہ نمائندہ شخصیات نے شرکت کی۔ محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کے اشتراک سے منعقدہ اس تقریب کی صدارت مشہور مفکر اور قانونی ماہر جسٹس بشیر احمد کرمانی نے کی جبکہ ایوانِ صدارت میں محمد شفیع پنڈت، ڈاکٹر الطاف حسین، سید بشارت بخاری، محمد سعید ملک، اور فاروق رفیع آبادی بھی شامل تھے۔اس موقعہ پر مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے ادبی مرکز کمراز کے صدر فاروق رفیع آبادی نے شجاعت بخاری کی اُن خدمات کو دہرایا جو انہوں نے ادبی مرکز کمراز کومضبوط اور مستحکم بنانے میں انجام دیں۔تقریب کاکلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ادبی مرکز کمراز کے سابق صدر اور سینئر ممبر ڈاکٹر عزیز حاجنی نے شجاعت بخاری کو ایک ہیرو قرار دیتے ہوئے اُن کی ہمہ جہت شخصیت کے کچھ امتیازی پہلو اُجاگر کئے۔ تقریب میں شجاعت بخاری میموریل لیکچر پیش کرتے ہوئے ریاست کے سینئر صحافی محمد سعید ملک نے شجاعت بخاری کو ایک نڈر، بے باک اور صاف گو صحافی قرار دیتے ہوئے اُن کی سماجی اور تہذیبی خدمات کو بھی یاد کیا۔ سعیدملک نے مطالبہ کیا کہ شجاعت بخاری کے قتل میں ملوث ذمہ دار لوگوں کو سامنے لانا حکومت کی ذمہ داری ہے جس میں ابھی تک سرکار کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے شجاعت بخاری کے مشن کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ شجاعت بخاری کے برادرِ اکبر سید بشارت بخاری نے نہایت ہی جذباتی اندازمیں شجاعت کی شخصیت کے کچھ ایسے پہلو سامنے لائے جو سُن کر سامعین اشک بار ہو گئے۔ مشہور معالج ڈاکٹر الطاف حسین نے بھی یہ مطالبہ دہرایا کہ شجاعت بخاری جیسے صاف گو اور نِڈر صحافی اور دانشور کے قتل میں ملوث لوگوں کو دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ تقریب کا صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈبشیر کرمانی نے شجاعت بخاری کے تاریخی رول کو کشمیر کے موجود حالات کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جسٹس کرمانی نے اس ضمن میں کشمیری سماج کو اجتماعی طور پر غور و فکر کرنے کی تلقین کی۔تقریب کے آغاز میں اجتماعی فاتحہ خوانی ہوئی۔ جن دیگر شخصیات نے مرحوم صحافی اور تہذیبی رضاکار شجاعت بخاری کو اس موقعے پر خراجِ عقیدت پیش کیا اُن میں مشتاق احمد مشتاق، سلیم بیگ، نسیم شفائی، غلام نبی آتش شامل تھے۔تقریب کے ابتدا ء میں وادی کے کئی نمایندہ شعراء نے سید شجاعت بخاری کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب کی نظامت ادبی مرکز کمراز کے سینئر ممبر شاکر شفیع نے انجام دی جبکہ تحریکِ شکرانہ نائب صدر اول عبد الاحد حاجنی نے پیش کی۔ تقریب میں جو دیگر اہم شخصیات شامل تھیں اُن میں پروفیسر مشعل سلطانپوری، ادبی مرکز کمراز کے جنرل سیکریٹری عبد الخالق شمس، حوا بشیر، بشیر دادا، عیاش عارف، محبوب نوگامی، شبیر مجاہد، بشیر الحق، قرات العین، پروفیسراقبال نازکی، محمد یوسف شاہین اورجیلانی کامران وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
 
 

خورشید گنائی کاخراج عقیدت

سرینگر//گورنر کے صلاحکار خورشید احمد گنائی نے معروف صحافی شجاعت بخاری کی پہلی برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔اپنے پیغام میں خورشید گنائی نے صحافت کے شعبے میں مرحوم کی خدمات کو یاد کیا۔ اُنہوں نے شجاعت بخاری کو ایک ہونہار صحافی اور ایک رول ماڈل قرار دیا جنہوں نے ریاست میں صحافت کے فروغ کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں۔صلاح کار نے کہا کہ شجاعت بخاری نے اپنے پیچھے ایک بڑی میراث چھوڑی ہے جو ریاست کے نوجوان اور اُبھرتے ہوئے صحافیوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگی۔
 
 
 
 

فزیکل کالج گاڈورہ میں ثقافتی پروگرام کا اہتمام

ارشاد احمد

گاندربل //گورنمنٹ فزیکل کالج گاڈورہ میں ’’شامِ انس‘‘ کے تحت ایک ثقافتی پروگرام منعقد کیا گیا جس کیلئے ضلع انتظامیہ گاندربل، محکمہ انفارمیشن اورسی آر پی ایف کے 118ویں بٹالین نے اشتراک کیا تھا۔پروگرام کا مقصد کشمیر کے لوگوں کے درمیان محبت، ہم آہنگی اور امن کو فروغ دینا تھا۔سی آر پی کے انسپکٹر جنرل روی دیپ سنگھ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروگرام میںشرکت کی جبکہ سی آر پی ایف کے ڈی آئی جی،ڈسٹرکٹ انفارمیشن افسر گاندربل،پرنسپل گورنمنٹ فزیکل کالج ڈاکٹر ہرتیج سنگھ،انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران اورضلع گاندربل سے تعلق رکھنے والے صحافی بھی موجود 
تھے۔پروگرام میں وادی کے نامور فنکاروں نے شائقین کو اپنے فن سے محظوظ کیا۔جن فنکاروں نے اس پروگرام میںشرکت کی اُن میں شفیع سوپوری،منیر مریم،شازیہ بشیر،الطاف ساحل، نظیر جوش،حسن جاوید،شگفتہ رحمان،راکیش ملہوترہ اورفیروز شاہشامل ہیں۔آئی جی پی سی آر پی ایف روی دیپ سنگھ نے سوسائٹی کے مختلف طبقات کے درمیان امن اور ہم آہنگی پھیلانے پر زور دیا۔ 
 
 

کانگریس عوامی مفاد کیلئے کام کرنے کیلئے پُرعزم: میر 

سرینگر //پردیش کانگریس کے صدر غلام احمد میر نے کہا ہے کہ پارٹی کیخلاف سازشیں رچائی جارہی ہیں ۔ موہ کولگام ویری ناگ میں وفود اور پارٹی ورکروں کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے غلام احمد میر نے کہاکہ کانگریس پارٹی نے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے دوران وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مخالفین کی بد نام زمانہ مہم کو بھی شکست دی ہے اورپارٹی سیاسی استحصال کرنے والے عناصر کو ہر ایک قدم پر شکست دینے کی اہل ہے ۔انہوںنے کہاکہ بھارت کی سب سے پرانی سیاسی پارٹی کے خلاف سازشیں رچائی جا رہی ہیں ۔انہوںنے کہا کہ پارٹی ملک اور خاص کر ریاست جموں وکشمیر میں لوگوں کی تعمیر ترقی اوریکجہتی کے ساتھ ساتھ عوام کی خدمت آگے بھی جاری رکھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نا انصافیوں،نا برابری اورذات پات کے خلاف آواز اٹھاتی رہے گی ۔
 
 

NEETامتحانات

وادی میں مزیدمراکز قائم کئے جائیں:تاریگامی

سرینگر//نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کوکشمیروادی اور لداخ میں این ای ای ٹی امتحانات کیلئے مزیدمراکزقائم کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ )کے سینئرلیڈر محمدیوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ وادی اورلداخ خطوں کے ہزاروں امیدواروں کاامتحانی مرکز ریاست سے باہررکھاگیااورکشمیراور لداخ کے طلباء کا امتحان میں شرکت کیلئے دہلی یا دیگر ریاستوں کاسفرکرنا مشکل ہے اور ہر بار وادی کے طلاب کو ریاست سے باہر امتحانی مرکز الاٹ کرنے سے انہیں مشکل میں ڈال دیاجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگران کے امتحانی مراکز دیگرریاستوں سے واپس کشمیر اورلداخ میںقائم نہیں کئے گئے توان امیدواروں کوسخت مشکلات کاسامناکرنا پڑے گا۔موجودہ حالات میں ریاست کے طلباء کو دیگر ریاستوں میںسخت مشکلات کاسامناکرناپڑتا ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیری طلباء کیلئے وادی میں ہی این ای ای ٹی امتحان کے مراکز قائم کئے جائیں کیونکہ بہت زیادہ تعداد میں یہاں کے امیدواروں کو دیگر ریاستوں میں امتحانی مراکزالاٹ کئے گئے ہیں ۔ تاریگامی نے کہا کہ متوسط آمدن والے کنبوں کے طلباء کیلئے یہ کٹھن صورتحال ہے ۔انہوں نے کہا کہ وادی میں این ای ای ٹی امتحانی مراکزکی کمی نے گورنر انتظامیہ کے ان دعوئوں کی پول کھول کررکھ دی ہے کہ وادی کے تمام طلباء کیلئے قومی سطح کے امتحانات میں شمولیت کیلئے مراکز کشمیرمیں ہی قائم کئے گئے ہیں۔
 
 
 
 

حکومت ہند فلسطینیوں کی دل کھول کر حمایت کرے

اقوام متحدہ میں بھارت کی اسرائیل کو حمایت افسوسناک : جماعت اسلامی ہند 

نئی دہلی//حالیہ دنوں میں بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ میں اسرائیل کی حمایت کے پس منظر میںجماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی دل کھول کر حمایت کی یقین دہانی کرے۔ایک بیان میں امیر جماعت نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند ، اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل میں اسرائیل کے حق میں بھارت کی طرف سے لیے گئے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتی ہے،جس میں اسرائیل نے ایک فلسطینی حقوق انسانی کی تنظیم کو مشاہد کا درجہ دیے جانے کے خلاف قرارداد پیش کی تھی۔ اسرائیل کی حمایت میں یہ ووٹ، بھارت کی فلسطینی کاز کے سلسلے میں کئی دہائیوں سے چلی آرہی پالیسی سے انحراف ہے۔ اپنے جاری نا جائز قبضہ کو بر قرار رکھنے اورانسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے کی گئی تنقیدوں اور اٹھائی جانے والی آوازوں کو کچلنے کی اسرائیل کی سخت گیر پالیسیوں کی بھارت کی طرف سے توثیق اور نقطہ نظر میں یہ تبدیلی، فلسطینیوں کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے جو کہ ایک آزاد ریاست کے قیام کے جدوجہد میں ہماری تقویت کے محتاج ہیں۔انہوںنے کہاکہ حکومت کا یہ عمل تیل سے مالا مال عرب ممالک کے ساتھ بہتر ہو رہے تعلقات میں بھی رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ’’ ہم بھارت کے انصاف اور امن پسند لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ  اسرئیل کے ناجائز قبضے ، غیرقانونی کالونیوں اورفلسطینیوں کے ساتھ ہورہی ظلم و نا انصافی کے خلاف تمام ترقانونی اور آئینی ذرائع استعمال کرکے اپنی آواز اٹھائیں اور حکومت سے امید ہے کہ وہ اسرائیل کی ناحق حمایت پر نظر ثانی کرے گی‘‘۔
 
 
 

قومی تحقیقاتی ایجنسی کی طلبی 

یاسمین راجہ نئی دہلی روانہ

سرینگر//مسلم خواتین مرکز کی چیئرپرسن یاسمین راجہ قومی تحقیقاتی ایجنسی کے سامنے پیش ہونے کیلئے اتوارکو نئی دہلی روانہ ہوئی۔ایک بیان کے مطابق یاسمین راجہ کو قومی تحقیقاتی ایجنسی نے 17جون کو نئی دہلی میںاپنے ہیڈ کوارٹر پر طلب کیاہے اور یاسمین راجہ کو پانپورپولیس اسٹیشن کی وساطت سے ایک سمن بھیجی تھی ۔ اس سلسلے میں یاسمین راجہ نے تنظیم کے عہدیداروں کے ساتھ مشاورت کے بعدنئی دہلی میں قومی تحقیقاتی ایجنسی کے سامنے پیش ہونے کافیصلہ کیا۔ یاسمین راجہ کے گھر پر پچھلے مہینےNIA  کی ایک ٹیم نے چھاپہ مار کر تلاشی لی تھی، اُس وقت وہ علاج و معالجہ کے لئے ریاست سے باہر تھیں۔ 

گیلانی کی مذمت

سرینگر//حریت (گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے قومی تحقیقاتی ایجنسی کی طرف سے مسلم خواتین مرکزکی چیئرپرسن یاسمین راجہ کو نئی دہلی طلب کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف عوارض میں مبتلاء ہیں اور گزشتہ برس ان کا گردہ بھی نکالا گیا۔ گیلانی نے کہاکہ اس طرح نئی دہلی طلب کرکے ذہنی طور پریشان کرناان کی صحت کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔گیلانی نے مسلم لیگ کے جنرل سیکریٹری کی گرفتاری کی بھی مذمت کی ۔

رفیق گنائی گرفتار

سرینگر//مسلم لیگ کے جنرل سیکریٹری محمدرفیق گنائی کو پولیس نے گرفتار کیا ہے ۔ایک بیان میں مسلم لیگ نے کہا کہ محمدرفیق گنائی سنیچرکو رشتہ داروں کے ہاں ماگام ٹنگمرگ میں تھے اور رات کے دوران وردی پوشوں نے اُنہیں گرفتار کرکے کارگو منتقل کیا۔لیگ نے ان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گرفتاریوں سے جمہوری اقدار کی آبیاری نہیں ہوسکتی ہے اور نہ ہی حکومت کی مراد برآسکتی ہے ۔
 
 
 
 
 
 

کشمیر یونیورسٹی کے کیمپس میں 23ویں کتاب میلے کا دوسرا دن

کشمیر میں تمام اسکیموں کے نفاذ کی کوشش کی جائے گی :ڈاکٹرشیخ عقیل احمد

سرینگر// علامہ اقبال لائبریری کشمیر یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں وادیٔ کشمیر میں چل رہے CABA.MDTPکے ساتھ ایک روزہ مذاکرہ و CABA.MDTP کی تقسیم اسناد کا اہتمام کیا گیا جس میں سینٹرل کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر معراج الدین میر بطور مہمان ذی وقار اور کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد مہمان خصوصی کے طور پرموجود تھے۔اس تقریب میں وادی کشمیر میں چل رہے CABA.MDTP کے89مراکز کے سینٹر انچارج،طلبا اور اردو عربی ور فارسی سینٹر کے انچارج شریک تھے۔قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹرشیخ عقیل احمد نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر خطے کی زمین اردو زبان کے لیے بڑی زرخیز ہے اسلئے قومی اردو کونسل اپنی تمام اسکیمیں زیادہ سے زیادہ یہاں کے این جی او،کالجوں اور مدرسوں کے توسط سے چلانا چاہتی ہے تاکہ یہاں کے عوام ان اسکیموں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔انہوںنے کہا کہ کشمیراورہندوستان کی دیگرریاستوں میں چل رہے تمام کمپیوٹرسینٹرس اوراردو، فارسی و عربی کے سینٹرمحض اسٹڈی سینٹرنہیں ہیں بلکہ ہم اسے این سی پی یو ایل کے ذیلی مراکزکی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور ان سینٹروںکے انچارج ہماری طاقت ہیں۔ہمیں خوشی ہے کہ ان سینٹرس سے ہزاروں کی تعداد میں طالب علم اردو، فارسی،عربی اورکمپیوٹرکی تعلیم حاصل کرکے برسرروزگارہورہے ہیں اور ان سینٹرس میں ہزاروں کی تعدادمیں اساتذہ درس وتدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔سینٹرل یونیورسٹی  کشمیرکے وائس چانسلرپروفیسرمعراج الدین میر نے اپنی تقریر میں کہا کہ قومی اردو کونسل کو کمپیوٹر، اردو، عربی اورفارسی کے مزید سینٹریہاں کھولنا چاہئے ۔ یہی نہیں بلکہ اردو صحافت کو بھی یہاں مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔اس کیلئے ہماری یونیورسٹی طلبا کو تعاون دینے کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کونسل کے جو مراکز یہاں چل رہے ہیں ان کی بہترین کارکردگی کے لیے ایک کمیٹی کی بھی تشکیل کی جانی چاہیے تاکہ اگر ان کی کارکردگی میں کسی نوع کی کمی آتی ہے تو انھیں دور کیا جا سکے۔انہوںنے مزید کہا کہ کونسل کے سینٹروں کو یہاں کے کالجوں اور اسکولوں میں کھولنا طلبا کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوگا۔کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے اپنی تقریر میں کہا’’ میرے نزدیک تمام طلبا ایک جیسے ہیں خواہ وہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوں یا قومی کونسل کے مختلف مراکزمیں‘‘۔انہوں نے کہا’’اردو کا جو حق ہے وہ اسے ملنا چاہیے اس کے لیے یہاں کی عوام کو آگے بڑھ کر کونسل کی مختلف اسکیموں سے استفادہ کرنا چاہیے‘‘۔انہوں نے پروفیسرمعراج الدین میر کی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی میں صحافت کا شعبہ بہ حسن وخوبی چل رہا ہے اور اردو صحافت کو مستحکم کرنے کے لیے صحافیوں کی تربیت وقتا فوقتاضروری ہوتی ہے۔لہٰذا کونسل کے تعاون سے ان صحافیوں کی تربیت کا پروگرام منعقدکیا جانا چاہیے۔
 
 
 
 

 کبیر جینتی پر عوا م کوگورنر کی مبارکباد 

نیوز ڈیسک

سرینگر//گورنر ستیہ پال ملک نے کبیر جینتی کے موقعہ پر عوام کو مبارک باد دی ہے ۔مبارک بادی کے اپنے پیغام میں گورنر نے کہاکہ سنت کبیر کی تعلیمات آنے والے نسلوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوں گی ۔اُنہوں نے کہاکہ سنت کبیر کی تعلیمات برابری اور سماجی انصاف پر مبنی ہے جو ہمیں لالچ ، نفرت اور غرور سے دور رہنے کا درس دیتی ہیں۔گورنر نے ریاست میں امن و امان اور تعمیر و ترقی کے لئے دعا کی ہے۔
 
 
 

عالمی یوم پدرؔ | وامق فاروق کے والد بیٹے کی یاد میں نڈھال

بلال فرقانی

سرینگر// عالمی یوم پدر کے موقعہ پر9سال  قبل مبینہ طور پر پولیس ٹیر گیس شیلنگ کے نتیجے میں جاںبحق ہوئے علم وامق فاروق کے والد فاروق احمدنے اپنے لخت جگر کو اشکبار آ نکھوں سے یادکرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایک نہ ایک دن انہیںضرور انصاف فرہم ہوگا۔ دنیا بھر میں جون کی دوسری اتوار کو عالمی یوم پدر منایا جاتا ہے،تاہم امریکہ میں یہ دن جون کی تیسری اتوار کو منایا جاتا ہے۔وادی میں بالخصوص یوم پدر کی اہم اہمیت ہیں،کیونکہ گزشتہ27برسوں کے دوران سینکڑوں والدین نے اپنے معصوموں کے جنازوں کو کندھا دئے ہیں۔مہلک و غیر مہلک ہتھیاروں سے مرنے والے نوجوانوں کی فہرست اگرچہ طویل ہے تاہم ایسے والدین کی دنیا بھی اجڑ گئی،جن کے لخت جگر حصول تعلیم کی بھینٹ چڑ گئے۔رعنا واری کا معصوم طالب علم 9برس قبل31جنوری کو غنی میموریل اسٹیڈیم کے نزدیک مبینہ طور پر پولیس کی طرف سے چلائے گئے ٹیر گیس شیل لگنے سے جاں بحق ہو اتھا اور اس دوران لواحقین نے الزام عائد کیا تھا کہ مذکورہ علاقے میں پولیس نے بلا وجہ کاروائی کرکے ان کے لخت جگر کو جاں بحق کیا ۔لواحقین نے عدالت کا دروزاہ کھٹکھٹایا اور انصاف کی امید لیکر سڑک سے عدالت تک دہائی دی تاہم9برس گزر نے کے باوجود بھی نہ ہی ان کے لواحقین وامق کی یادوں کو فراموش کرسکے ہیں اور نہ ہی وہ ان کے دل سے دور ہو اہے ۔ وامق فاروق کے والد فاروق احمد کا کہنا ہے ’’آج بھی میں اپنے لخت جگر کی انتظا ر میں زندگی کاٹ رہا ہوں‘‘۔فاروق احمد کو آج بھی دن یاد ہے جب اسکا لخت جگر اورکرکٹ کا شیدائی وامق فاروق غنی ممیوریل اسٹیڈیم کھیلنے کے لئے گیا تھا تاہم شام کو واپس نہیں آیا ۔
 
 
 

اجس بانڈی پورہ میں باب العلم لائبریری کا افتتاح

 بانڈی پورہ//اجس بانڈی پورہ میں باب العلم پبلک لائبریری کا با ضابطہ طور پر افتتاح کیا گیا ۔افتتاح سے قبل ایک پر وقار تقریب منعقد ہوئی جس میں سماج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیا ت کے علاوہ نوجوانوں کے ایک اچھی تعداد نے شرکت کی ۔تقریب کی صدارت کشمیر یونیورسٹی کے ڈائریکٹر شمالی کیمپس پروفیسر ڈاکٹر نصیر اقبال نے کی جبکہ ایوان صدارت میں ڈاکٹر زاہد اشرف وانی اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ لائبریری کشمیر یونیورسٹی ،ولر اردو ادبی فورم کے صدر طارق شبنم ،لیکچرر راتھر منظور،راتھر فاروق ،شمس الدین بٹ ،افروز وانی،راتھر سجاد ،انجینر رشید اورحئی ظہور بھی موجود تھے ۔صاحب صدر نے اپنے خطبے میں لائیبری کے منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دور حاضر میں ایسے علمی ادارے قائم کرنے کی سخت ضرورت ہے تاکہ نوجوان پود کو خرافات سے باز رکھ کر کتاب کی طرف مائل کیا جاسکے۔ یہ لائبریری کشمیر یونیور سٹی سے لائبریری سائنس میں فارغ التحصیل شیخ ابرار،راتھر وسیم اور اویس بٹ نے قائم کی ہے جس میں فی الو قت مختلف موضوعات پر ہزاروں کتابیں موجود ہیں ۔تقریب کے نظامت کے فرائض راتھر امتیاز نے انجام دئے ۔مختلف سماجی اور ادبی حلقوں میں لائبریری کے قیام پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔
 
 
 

ضلع کمشنر کپوارہ کا مژھل میںعوامی دربار 

اشرف چراغ 
کپوارہ//عوامی رابطہ مہم کے تحت ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ نے مژھل کا دورہ کر کے وہا ں پر ہورہی تعمیراتی کامو ں کا جائزہ لیا جس کے بعد انہوں نے وہا ں ایک عوامی دربار میں لوگو ں کی بنیادی سہولیات کے حوالے سے جانکاری حاصل کی ۔ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ انشل گرگ نے شمالی ضلع کپوارہ کے مژھل علاقہ کا دورہ کیا اور وہا ں پر پہلے تعمیراتی کامو ں کا جائزہ لیکر انہیں مقررہ وقت پر مکمل کر نے کی ہدایت دی ۔انہو ں نے ایک عوامی دربار منعقد کیا جس میں میں مژھل کے لوگو ں نے بھاری تعداد میں شرکت کر کے اپنے اپنے علاقوں کی شکایتیں درج کرائیں ۔لوگو ں نے مژھل میں پانی ،بجلی اور سڑکو ں کے حوالہ سے ضلع ترقیاتی کو مکمل جانکاری دی ۔لوگو ں نے ضلع ترقیاتی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ مژھل سے پوشواری تک ایک بہتر سڑک رابطہ بنایا جائے جبکہ مژھل سے رنگ پائین تک بھی سڑک کا جال بچھایا جائے اور رنگ پائین سے ڈپل تک چونٹواری کے مقام پر ایک پل تعمیر کیا جائے تاکہ لوگو ں کو عبور و مرور سے حوالہ سے مشکلات کا سامنا نہ کر نا پڑے ۔لوگو ں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مژھل میں ایک ریسونگ اسٹیشن کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ اس دور دراز علاقہ کو لوگو ں کو بجلی فراہم کی جائے گی جو یہا ں کے لوگو ں کی دیرینہ مانگ ہے ۔علاقہ کے لوگو ں نے ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر ضلع ترقیاتی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ کپوارہ سے مژھل تک ایک سرکاری بس کو چالو ں کیا جائے ۔مژھل کے پرائمری ہلتھ سنٹر میں مریضوں کو مشکلات کے حوالہ سے بتا یا کہ اسپتال میں ایکسرے پلانٹ نصب کیا جائے جبکہ ماہر امراض خواتین کے ڈاکٹر کو بھی تعینات کیا جائے تاکہ یہا ں سے درد ذہ میں مبتلا خواتین کو یہا ں سے ضلع کے دیگر اسپتالو ں کو منتقل نہ کیا جائے ۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے اس موقع پر مقامی انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ مژھل کے لوگو ں کی شکایتو ں کا ازالہ کر نے کے لئے اقدامات کرے ۔انہو ں نے لوگو ں سے کہا کہ وہ انتظامیہ سے ساتھ قریبی تال میل قائم رکھے تاکہ ان کے بنیادی مسائل کی طرف تو جہ دی جائے گی ۔
 
 
 

سینٹور ہوٹل کے مالکانہ حقوق ریاستی حکومت کو منتقل کئے جائیں گے

 ریاستی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے ساتھ نئی دہلی میں اہم مشاورت آج

سرینگر//مرکزی سرکار ریاستی حکومت کو سینٹور ہوٹل کے مالکانہ حقوق تفویض کرنے جارہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ریاست کے چیف سیکریٹری بی وی آر سبھرامنیم، محکمہ سیاحت کے کمشنر سیکرٹری ریگزن سمفیول کے علاوہ محکمہ مال کے افسران مرکزی وزارت سیول ایو ییشن کے ساتھ معاملے پر تبادلہ خیال کررہی ہے اور آج اس حوالے سے اہم پیش رفت ہونے جارہی ہے۔ کے این ایس کے مطابق اگر ذرائع کی صحیح مانی جائے تو اس حوالے سے سوموار کو نئی دہلی میں اہم پیش رفت ہونے جارہی ہے اوراس حوالے سے اہم پیش رفت ہونے کا قوی امکان ہے۔نئی دہلی میں آج صبح خصوصی میٹنگ منعقد ہورہی ہے۔خیال رہے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے حال ہی میں ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ سینٹور ہوٹل کو جلد ہی ریاستی حکومت کے کنٹرول میں دیا جائے گا۔
 
 
 

نئے انتظامی یونٹ عوام کیلئے درد ِسر 

عملے کی شدید قلت ، تحصیلداروں کو درجہ چہارم ملازمین کی مد د حاصل 

جاوید اقبال

مینڈھر //پانچ سال قبل 2014میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی مخلوط سرکار کے دورانیہ میں ریاست بھر میں سینکڑوں نئے انتظامی یونٹ قائم کئے گئے تھے تاہم ان میں نہ ہی عملہ تعینات ہواہے اور نہ ہی بنیادی ڈھانچہ فراہم ہے جس کاخمیازہ عام لوگوں کو بھگتناپڑرہاہے اور ان کے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں ۔ سب ڈویژن مینڈھر میں بھی دو نئی تحصیلوں بالاکوٹ اور منجاکوٹ کا قیام عمل میں لایاگیا اور ساتھ ہی کئی نیابتیں بھی بنائی گئیںتاہم جہاں نیابتوں کاکام نائب تحصیلدار اور درجہ چہارم کے ایک ملازم کے ہاتھ میں ہے وہیں تحصیلوں کاکام تحصیلدار، ایک نائب تحصیلدار اور ایک درجہ چہارم کا ملازم چلارہاہے ۔بالاکوٹ ،منکوٹ ،بھاٹہ دھوڑیاں ،چھترال اور کسبلاڑی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بتایاکہ 2014میں اس وقت کی مخلوط حکومت نے کئی انتظامی اکائیاں تو کھول دیں  لیکن پانچ سال گزرجانے کے بعد بھی ان میں ملازمین تعینات نہیں ہوئے ہیں جس سے ان کے کام کاج متاثر ہورہے ہیں ۔ان کاکہناہے کہ نیابتیں ایک نائب تحصیلدار اور ایک درجہ چہارم کے ملازمین کے ساتھ چل رہی ہیں جبکہ دونوں تحصیلوں میں سارا کام تحصیلدار، نائب تحصیلدار اور درجہ چہارم کے ملازمین کے سپرد ہے ۔ان کاکہناہے کہ تحصیلیں تو بن گئیں مگر ان نئی تحصیلوں میں کوئی درخواست لکھنے والاعرضی نویس یا بیان حلفی دینے والا شخص نہیں بیٹھتاہے اور انہیں ایک روپے کے ٹکٹ کیلئے بھی مینڈھر آناجاناپڑتاہے ۔ان کاکہناہے کہ ان نئی تحصیلوں سے انہیں کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ مقامی لوگوں کاکہناہے کہ انہیں امید تھی کہ گورنر راج کے دوران عملے کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا اور ان کے مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ نئے انتظامی یونٹ عوام کے ساتھ ایک دھوکہ کی مانند ہیں اور انہیں بیوقوف بنایاگیاہے کیونکہ یہ پوری طرح سے فعال نہیں ہیں ۔ ایس ڈی ایم مینڈھر ڈاکٹر ساہل جنڈیال کا کہنا ہے کہ عملے کی قلت کا مسئلہ درپیش ہے اوراس حوالے سے ان سے پہلے متعلقہ حکام کو تحریری طور پر بھی آگاہ کیاگیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ نیابتوں اور نئی تحصیلوں میں عملے کی قلت کا مسئلہ حکام کو حل کرناہے لیکن اسٹامپ فروشی کیلئے تو کوئی بھی شخص بیٹھ سکتاہے جس کیلئے سرکاری ملازم کی ضرورت نہیں ہے ۔
 
 
 

کپوارہ جیل میں نظربندوں کی بگڑتی صحت پریشان کن:صحرائی

سرینگر // تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے کپوارہ ڈسٹرکٹ جیل میں نظر بند تنظیم کے ضلع صدر دانش مشتاق اور دیگر اسیران کی بگڑتی صحت اور جیل انتظامیہ کی طرف سے مناسب علاج و معالجہ نہ ملنے پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی لاپرواہی نظر بندوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ ہے ۔محبوسین کے لواحقین کے مطابق دانش مشتاق کو کپوارہ جیل میں پھسل کر گرنے کی وجہ سے سر میں گہری چوٹ لگی ہے۔ڈاکٹروں نے ان کو سرینگر ہسپتال منتقل کرنے اور ماہر ڈاکٹروں سے علاج کرانے کا مشورہ دیا تھا ،مگر ایک مہینہ گزرنے کے باوجود بھی جیل انتظامیہ نے ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی اور اُن کو علاج معالجہ کے لئے سرینگر منتقل نہیں کیا گیا ۔لواحقین نے دانش مشتاق کی صحت کے بارے میں زبردست تشویش کا اظہار کیا ۔محمد اشرف صحرائی نے جیل انتظامیہ سے دانش مشتاق اور دیگر اسیران کو مناسب علاج معالجہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
 
 
 

کارپٹ ایکسپورٹ پرموشن کونسل نے

سرینگر میں کام کاج شروع کیا

سرینگر//دستکاروں اور ہاتھ سے بنے قالین برآمد کرنے والے افراد کی معاونت کے لئے کارپٹ ایکسپورٹ پرموشن کونسل کے دفتر نے آئی آئی سی ٹی کیمپس باغ علی مردان خان نوشہرہ سرینگر سے کام کاج شروع کیا۔ اس کا باضابطہ افتتاح 23 فروری کو ٹیکسٹائلز کی مرکزی وزیر سمرتی ایرانی نے کیا تھا۔سی ای پی سی کے چیئرمین مہاویر پرتاپ شرما نے کہا کہ یہ دفتر متعلقہ صنعت سے متعلق سکیموں کی مؤثر عمل آوری کو یقینی بنائے گا۔ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سنجے کمار نے کہا کہ یہ دفتر ریاست میں قالین بافی کی صنعت کو مزید فروغ دینے میں کافی معاون ثابت ہوگا۔
 
 
 

بڈگام میں ’بیک ٹودی ولیج پروگرام‘کے سلسلے میں تقریب 

بڈگام//محکمہ دیہی ترقی کے افسران اور اہلکاروں کو ’’بیک ٹو دی ولیج پروگرام‘‘ کی مؤثر عمل آوری کے بارے میں جانکاری فراہم کرنے کے لئے محکمہ کی طرف سے ایک جانکاری پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر ڈاکٹر سید سحرش اصغر نے پروگرام کی صدارت کی۔اس موقعہ پر اے سی ڈی بڈگام کے علاوہ مختلف محکموں کے ایگزیکٹیو انجینئروں،ضلع پنچایت آفیسر،بی ڈی اووز،اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئروں،پروگرام آفیسر اورولیج لیول ورکروں کے علاوہ دیگر آفیسران بھی موجود تھے۔اس دوران ترقیاتی کمشنر نے پروگرام کی خصوصیات کو اجاگر کیا ۔انہوںنے اس پروگرام کی من وعن عمل آوری کو یقینی بنانے پر زوردیا۔انہوںنے آفیسران کو اپنی ٹیموں کے ذریعے پروگرام کے کامیاب عمل آوری کے لئے اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔اس موقعہ پر اے سی ڈی اورڈی پی اوبڈگام نے پروگرام کے خدوخال کو اجاگر کیا۔
 
 
 

کیبل نیٹ ورک پر اسلامی چینلوں کی نشریات بحال کی جائے

سرینگر// سرینگر میں کیبل نیٹ ورک پر اسلامی چینلوں کو بند کرنے پر شہریوں نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی شہریوں نے بتایا کہ نجی کیبل نیٹ ورک کے منتظمین نے گزشتہ کئی دنوں سے اسلامی چینلوں کو بند کیا ہے،جس کی وجہ سے انہیں ماہ مقدس میں اسلامی پروگراموں تک رسائی کا سلسلہ رک گیا ہے۔سٹیزنز فورم نے بھی کیبل پر اسلامی چینلوں کو بند کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔فورم نے ان چینلوں کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
 
 
 

انصاری موٹرس میں ’ٹوئیوٹاگلین زا‘کی نقاب کشائی

سرینگر//انصاری موٹرس نے ٹوئیوٹاگلینزاکی نقاب کشائی سے کھلی چھت والی گاڑیوں کے حصہ میں قدم رکھا۔اس گاڑی کی نقاب کشائی پہلے گاہک طارق احمدصوفی نے آپریٹنگ افسر سیدالطاف کی موجودگی میں کی۔اس گاڑی کو نوجوانوں کی ضروریات کومدنظر رکھتے ہوئے تخلیق کیاگیا ہے ۔اس کھلی چھت والی گاڑی میں آرام ،سلامتی اورحفاظت کے بہترین انتظامات کئے گئے ہیں ۔اس کانام گلین زا جرمنی زبان سے مستعار لیا گیا ہے اور اس کے معنی چمکدار،بہترین ہیں ۔اپنے نام ہی کی طرح  یہ گاڑی نوجوانوں کی پسندکو مدنظر رکھکر بنائی گئی ہے ۔اس گاڑی کا اندرون جتنا خوبصورت ہے اتناہی اس کا بیرون بھی خوبصورت ہے ۔اس کا گاڑی کا انجن کافی مضبوط اور ایندھن کی کم کھپت کرنے والاہے جس سے کہ گاڑی چلانے کا مزہ کچھ اور ہی ہے ۔اس سلسلے میں مارکیٹنگ اور سیلز کے سربراہ مسٹر وزیر نے کہا کہ ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہیں کہ ہم نے کھلی چھت والی گاڑیوں کے حصے میں قدم رکھا ہے ۔