تازہ ترین

نئے چہروں کیساتھ پارلیمنٹ میں نئی سوچ آنے سے بنے گا نیا ہندوستان: مودی

17 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
 
نئی دہلی//وزیر اعظم نریندر مودی نے 17 ویں لوک سبھا کے پہلے سیشن سے قبل شام میں تمام سیاسی پارٹیوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں بڑی تعداد میں نئے چہرے آئے ہیں تو اسی کے ساتھ نئی سوچ سے ہی نئے ہندوستان کی تعمیر ہوگی۔مسٹر مودی نے اتوار کو کل جماعتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں تمام افراد بہت سے مسائل اور مدعے لے کر گئے تھے ۔ عوام نے ووٹ دیا ہے اور ووٹ ملنے کے بعد ہم تمام نمائندے پورے ملک کے نمائندے ہو جاتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ نیا ہندوستان نئی سوچ کے ساتھ بنے ۔ پارلیمنٹ کی شروعات اچھے ماحول میں ہونی چاہیے ۔ پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے اجلاس کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم نے کہا کہ اس بار لوک سبھا میں بہت سے نئے چہرے آئے ہیں۔ نئے چہروں کے ساتھ نئی سوچ بھی آنی چاہیے ۔ ہم سبھی کو گذشتہ لوک سبھا کی مدت کار کے آخری دو سال میں جو ہوا اس پر خود احتسابی کرناچاہیے ۔ وہ گزرے ہوئے دو سال واپس نہیں آ سکتے ۔ ہمیں‘ سب کا ساتھ سب کا وکاس، سب کا وشواس ’کے ساتھ آگے بڑھنا ہے ۔ مسٹر جوشی نے بتایا کہ وزیر اعظم نے تمام پارٹیوں کے رہنماؤں سے گاندھی کی 150 ویں یوم پیدائش کے موقع پر یہ غورو خوض کرنے کو کہا کہ وہ کس چیز کی قربانی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے 19 جون کو شام تین بجے پارلیمنٹ میں موجودہ پارٹیوں کے صدور کی ایک میٹنگ بلائی ہے جبکہ اگلے دن 20 جون کو شام سات بجے انہی رہنماؤں کو ان کی پارٹی کے تمام اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ مدعو کیا ہے ۔ ان ملاقاتوں میں‘ ایک ملک ایک انتخاب’، گاندھی جی کی 150 ویں یوم پیدائش منانے سمیت کئی اہم مسائل پر گفتگو کی جائے گی۔پارلیمنٹ کے پہلے سیشن میں قانون سازی کے کام کاج کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جوشی نے کہا کہ اس وقت نافذ دس آرڈیننس کو منسوخ کرنے والے بل کا لایا جانا ضروری ہے ۔ علاوہ ازیں گذشتہ لوک سبھا کے دوران رد ہونے والے 46 بل کو بھی ضروری تبدیلی کے ساتھ لایاجائے گا لیکن ان کے وقت کے بارے میں صدر جمہوریہ کے خطاب کے بعد بتایا جا سکے گا۔ترنمول کانگریس کے مسائل پر حکومت کے موقف کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جوشی نے کہا کہ ترنمول کانگریس کے رہنماؤں نے کچھ مسائل اٹھائے ہیں اور کچھ مشورے دیے ہیں۔ حکومت سب کو اعتماد میں لے کر چلنا چاہتی ہے ۔ آئین کے دائرے میں ان پر غوروخوض کیا جائے گا۔