تازہ ترین

مجرموں کے دید کی ہے کو توالی منتظر

17 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

شفیع احمد نیو کالونی ، کھریوکشمیر
بچپن سے ہم سنتے آئے تھے لیکن کبھی دیکھا نہیں تھا، پراب تو سبھوں کو پتہ چل ہی گیا کہ قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں۔اتنے لمبے کہ پٹھان کوٹ سے دراز ہوکر رسانہ کٹھوعہ میں مجرموں کی گردن دبوچ لیں۔ جبھی تو عدالت نے فیصلہ ہی نہیں سنا یا بلکہ انصاف بھی کیا۔ اور وہ جو قانون کی راہ میں رکاوٹ بنے کھڑے ہوگئے تھے یہاں تک کہ ترنگا بھی لہرا کر اس کا بھی دُر اپیوگ کیا تھا اپنا سا منہ لے کر رہ گئے اور ہمیں تو بچوں کا وہ گیت آیا کہ اب تو جیل میں جانا پڑے گا ، جیل کی روٹی کھانی پڑے گی جب ملزمین کو تا عمر قید اور کئی ایک کو پانچ پانچ سال جیل کی سزا سنائی گئی   ؎
یہ عداوت کا فسانہ بھی بدل جائے گا 
وقت کے ساتھ زمانہ بھی بدل جائے گا
کہیں آٹھ سالہ آصفہ کہیں اڑھائی سال کی ٹونکل شرما درندگی کا شکار بنی تو ہم سوچتے تھے کہ کیا ابھی بھی دنیا قائم رہنے کی کوئی وجہ بنتی ہے یا یہ کہ ہوس پرستوں کو دنیا مٹانے کا کوئی اور بھی بہانہ چاہئے ۔بھائی ہماری بھی کوئی خطا نہیں ۔ کئی کالے کوٹ والے ہمارے دوست ہیں ، کئی ایک ہمارے ہم جماعتی تھے۔مانا روزی روٹی کمانے کے لئے کوٹ کالے پہنتے ہیں لیکن وکلائے حق دل کے اُجلے ہیںجیسے سپر رِن سے دُھلے ہوں کہ داغ دھبہ نظر نہ آئے ۔ایسے میں ہم حیران تھے کہ شاعرظرافت اکبر ؔالہ آبادی نے کس بنا پر مشہور طنزیہ شعر کہہ ڈالا کہ پورے سماج میں کالا کوٹ کچھ اتنا زیادہ کالا نظر آتا کہ خود کوئلہ بھی شرما جائے یا کم ازکم وکلائے ناحق کے تئیں شکوک پیدا کر دئے   ؎ 
 پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا 
لو آج ہم بھی صاحب ِاولاد ہوگئے
اس شعر کے ساتھ ہم اپنے وکیل دوستوں کو چڑِاتے بھی تھے اور ہنسی مذاق کا نشانہ بھی بناتے مگر ہمیں کیا معلوم تھا کہ شاعر گرامی مردم شناس ہیں۔دلوں کا حال جانتے ہیں، چہروں کی ساخت پہچانتے ہیں، ہونٹوں کا زیر وبم سمجھتے ہیں۔سال ہا سال پہلے وکیلوں کی ایک کھیپ کا اندر باہر کالا پن بھانپ لیا تھا جبھی تو ان کا کچا چٹھا بیچ بازار میں بس ایک شعر سے بکھیر دیایعنی ان کے کالے جسم کے ساتھ ان کا دل و روح کا کالا پن ہمارے سامنے آگیا۔آٹھ سال کی معصوم بچی کا درد بھی انہیں نہ رلا سکا ، اس کی آہ کا اثر بھی ان کی آنکھوں میں تری پیدا نہ کرسکا بلکہ قاتل کی طرف داری میں سڑکوں پر نکل آئے جیسے عدالتی افسران نہ ہوں گلی محلوں کے غنڈے ہوں، سیاسی مشٹنڈے ہوں۔اسی پولیس فورس کا راستہ روکا جس کی واہ واہ تب کرتے جب وہ بانہال کے اس پار گولیاں پیلٹ چلاتے ہیںاور پھر اتنا ہی نہیں بد کرداروں کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے اور ان کی واہ واہ کرتے شاید یہ بھی نعرہ لگایا ہو کہ سانجی رام آگے بڑھو ہم تمہارے ساتھ ہیںاور دلچسپ بات یہ ہے کہ سانجی اپنا گھنائونا کام اکیلے نہیں کرتا بلکہ سانجھے انداز میں کرتا ہے ۔ ہے تو وہ سانجی رام لیکن رام جی کا یہ نقلی بھکت رام مندر میں سب کچھ انجام دیتا دلولااتا ہے جس مندر کی قسمیں کھاتا ہے ،اسی کی آستھا کو گندا کردیتا ہے ۔عجب نہیں کہ سیتا ماںبھگوان رام سے کہہ دے :اچھا ہوا راؤن نے اغواء کیا تھا نہ کہ آج کے نقلی رام بھکت جیسوں نے۔ عدالت نے سانجی کے بیٹے کو ،بھتیجے کو، جان کار یومیہ مزدوری والے پولیس والے کو شامل بربریت کرتا ہے اور خود پولیس ٹکڑی کو منہ بولے داموں خرید لیتا ہے ۔پیسہ بولتا ہے جبھی تو پولیس والے اپنی کہانی گھڑتے ہیں ،جو تفتیش کرنے گئے ،وہ اعانت کار بنے ،جرم کے چھپانے دبانے میں لگ گئے اورپھر تو کالے کوٹ کی فوج کا سپہ سالار کچھ زیادہ ہی بھڑک گیا،جیسے اس کے منسٹر نے جموں میں گوجروں کو دھمکی دی کہ سن سنتالیس یاد کرو۔ ویسے اس نے بانوئے کشمیر اور ہل والے قائد ثانی کو یاد دلایا کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے تمہیں ائر پورٹ سے باہر نہیں نکلنے دیا۔پھر تو منسٹر غصے سے لال ہوگیا اور ڈوگرہ سوبیمان یاد آیا تو خود ہی ترنگا لے کر میدان میں کودا کہ چلو زور آزمائیں ۔ادھر رام پرکاش کی گنگا بھی اُلٹ گئی او ر وہ بھی ڈوگرہ سوابھیمان بچانے نکلا ۔اب تو فوج پولیس سب کو چیتاؤنی دے ڈالی کہ ہم سامان حرب و ضرب لے کر میدان میں آئیں گے، اپنے گروگھنٹال سانجی رام کو جیل سے نکالیں گے کہ وہی ان کا پیر و مرشد ہے اور پھر بی جے پی کے سابق ایم پی کھنڈوا(مدھیہ پردیش) نند کمار چوہان نے سیدھا نشانہ سرحد پار داغا کہ آصفہ کا ریپ پاکستان کی سازش ہے ۔بھائی جب پار والے ہیضہ پھیلانے والے چوہے اور جاسوسی والے کبوتر بھیج سکتے ہیں پھر ریپ کیا چیز ہے ۔چلو خدا خدا کرکے قانون کے لمبے ہاتھوں نے پردہ تار تار کردیا ، نہیں تو شیطان صفت لوگوں کی ہمدردی بھی لوگ اس قدر رکھتے ہیں کہ گمان ہوتا ہے کہیں یہ لوگ کسی اور دنیا کے باسی تو نہیں۔
کسی اور دنیا کے باسیوں کی بات چلی تو بھارتی فضائیہ کا وہ اے این ۳۲؍ طیارہ یاد آیا جو کوئی دس دن پہلے شمال مشرق میں اُڑ کر لاپتہ ہوگیا ۔فضائیہ کے لوگ تو ڈھونڈتے رہے پر سراغ نہ ملا ،البتہ بھارت ورش کے خبر رسان ادارے بڑے ہی جیالے اور متوالے ہیں کہ کہیں نہ کہیں سے سراغ لے کر پہنچ ہی جاتے ہیں۔حملے کے بارے میں کہیں سے مصدقہ خبر ملے نہ ملے لیکن اپنے لوگ ٹی وی اسٹیڈیو میں بیٹھ کر ہی تاریں ہلا دیتے ہیں ، اندرونی خبریں ملاتے ہیں ، سیکورٹی ایجنسیوں کو سلا دیتے ہیں کہ بھائی لوگو تم آرام فرمائو ہم جانیں تو کام جانیں ۔ادھر طیارہ سیکورٹی ایجنسیوں کو ملا نہیں ادھر ٹی وی والوں نے کسی اور دنیا یعنی Alien   کا راز فاش کردیا کہ وہی اس جہاز کو اغوا ء کر کے لے گئے ہیں ۔ المختصر ISRO  کے سائینس دانوں کی اب کوئی ضرورت نہیں رہی کیونکہ ٹی وی والے اب خلا کی خبریں از خود لے کر آتے ہیں پھر بھلا ہزاروں لاکھوں کروڑ خرچ کرنے کی ضرورت ہی کیا ۔یہ ہوا نا طاقتور اور قابل بھروسہ میڈیا ۔اس قابل بھروسہ میڈیا کے کیا کہنے کہ ملک کشمیر میں خوشگوار موسم اور باقی ملک میں تیز گرمی کا بانڈا بھی پھوڑ دیا ۔اس کافنڈا بھی بیچ بازار کھول دیا ۔وہ جو موسمی ماہرین مغربی ہواؤں کے سبب کشمیر میں بارشوں کی بات کرتے ہیں ،اسے بھی مملکت خداداد کی سرحد سے جوڑ دیا کہ وہی تو مغربی سرحد ہے جہاں سے ملک کشمیر کے لئے ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں ۔یوں وہاں سے آتنک واد ہی نہیں آتا بلکہ خوشگوار موسم بھی در آمد ہوتا ہے۔اسی لئے تو ٹی وی اسکرین پر سیکورٹی افسر چیختے ہیں کہ کچھ تو کرنا پڑے گا۔ایک تو کشمیری سرخ گال رکھتے ہیں پھر مملکت کی ہواؤں کے سبب موسم کا لطف لیتے ہیں لیکن ہم ہیں کہ جھلس رہے ہیں۔
بھارت ورش کے میڈیا پر خود بعض جرنلسٹ بھی لعن طعن کرتے رہتے ہیں لیکن اب کی بار مودی سرکار کے راج بھون کشمیر کے مکین بھی برس پڑے ۔خیر ہم تو کب سے کہتے آئے ہیں کہ ٹی وی اسکرین پر شیطان بولتا ہے لیکن وائسرائے سمیت لوگ نہیں مانتے تھے ۔اب تو خود وائسرائے کشمیر بھی بولتے ہیں لیکن کوئی مانتا نہیں اور اگر کوئی مانتا بھی ہے تو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے چھوڑ دیتے ہیں اور میڈیا کے وارے نیارے کہ اپنا ایجنڈا چلا رہا ہے ۔ایک واقعے کو آدھار بنا کر پورے علاقے کی شبیہ خراب کردیتے ہیں لیکن جس واقعے کو اگنور کرنا چاہے تو کرلے بھلا سوال پوچھنے والا ہے ہی کون؟
اس بیچ خبر تو مزیدار اور خوشبو دار آئی ۔مزہ اور خوشبو تو مصالحہ جات کا ہے کیونکہ یہ خبر دسترخوان سے اٹھ کر آئی ہے، اسی لئے ناک میں گھستے ہی معدے تک سارے انگ اُچھل پڑے ۔اپنے وائسرائے کشمیر دھمکی موڈ سے ہٹ کر دعوت موڈ میں آگئے ہیں اور اعلان کردیا کہ ملک کشمیر کے نوجوانو ادھر میں نے دسترخوان بچھا لیا ، جوق در جوق آجائو اور دعوت عام میں شرکت کرکے پیٹ کی آگ بجھائو ۔اسے کشمیری کہتے ہیں ’’ گردَن شاند دِن۔‘‘ دستر خوان پر چونکہ ضیافتیں سجی ہیں اور وہ بھی کشمیری وازہ وان کی تو بھلا خوشبو کیوں نہ پھیلے؟مطلب وہ جو راج بھون کے عقب میںدھواں اُٹھ رہا ہے وہ کشمیری آشپازوں نے آگ جلائی ہوگی تاکہ بڑی چھوٹی دیگوں میں رستہ گوشتابہ پکایا یہ جا سکے اور دوسری طرف دھنا دھن ٹھک ٹھک ہورہا ہے وہ تو گوشت کوٹنے کا سلسلہ جاری ہے اسی سے تو گوشت کی ضیافتیں مزہ دیتی ہیں اور پھر مصالحوں سے خوشبو بکھر جاتی ہے اور راج بھون کے اطراف یہ گانا بج رہا ہے   ؎
آجا میں تو مٹا ہوں تیری چاہ میں 
تجھ کو پکارے میرا پیار 
یہ سن کر تو ہم ان افواہ بازوں پر  بپھر گئے جو الزام پہ الزام دیتے ہیں کہ جو دھنا دھن ہم سن رہے ہیں ،وہ اصل میں عام خام لوگوں کو مختلف جگہوں سے گرفتار کرکے ٹارچر کی آواز ہوتی ہے اور جو آگ دھواں اُٹھ رہا ہے وہ اصل میں رضوان پنڈت جیسے بے گناہ قیدیوں کے اَنگ جلانے سے اُٹھ جاتی ہے۔اچھی بھلی عوام دوست وائسرائے انتظامیہ پر الزام تراشی اچھا پربھاؤ نہیں ڈالتی۔عوام دوست نہ ہوتی تو بھلا ستر ہزار شکایتوں کو کیسے رفع دفع کرتے ؟ جبھی تو راج بھون کا فون ، وٹس اَپ عام جنتا کے لئے کھلا رہتا ہے تاکہ وہ براہ راست اصل مکین سے بات چیت کر سکیں ، حال چال پوچھیں ، کچھ اپنی کہیں کچھ اُدھر کی سنیں ۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ جب کوئی سیاست دان اپنا دُکھڑا سنانے لگے ، سرکار بنانے کا قدم اٹھائے تو بے چاری فیکس مشین ناکارہ رہے۔کیا پتہ اب کی بار گورنر سرکار میں فیکس مشین بدل دی گئی ہو ۔ پہلے تو مودی مہاراج بنا دعوت کے مملکت خداداد پہنچے کہ سابق وزیر اعظم کی پوتی کی شادی میں شرکت کریں اور تو اور جنم دن کی مبارک باد دینے بھی بنا پروگرام آ دھمکے ،لیکن اب کی بار تو اپنی تاج پوشی کی رسم میں جہاں اوروں کو بلایا ،وہیں کپتان صاحب کو دعوت نہیں دی کہ کپتان تو باؤنسر مارنے کا پرانا عاشق ہے۔اسے کہتے ہیں   ؎
 جو پیار کیا تو پیار کیا  
جو نفرت کی تو نفرت کی 
بھلے ہی بھکشک جانے کے لئے سفر لمبا ہو ، وقت کا زیاں ہو لیکن مملکت ِخداداد کے اوپر سے ہوائی سفر نہیں کریں گے کہ کیا پتہ وہ جو پکڑ پکڑ کر بند کئے گئے کہیں کسی کھیت کھلیان میں ہی گھوم رہے ہوں۔چلو بے چارے بھکت جن کسی بات پر خوشی تو منائیں بلکہ ناچیں گائیں    ؎
امن و سلامتی کی روش ہے میرا شعار 
دنیا کو یہ پیام دئے جا رہا ہوں میں 
بھارت نے پائلٹ ابھی نندن کی شکل میں 
جو کچھ دیا مجھے وہ لوٹا رہا ہوں میں
رابط (wanishafi999@gmail.com/9419009169)