تازہ ترین

یادوں کے جھروکے سے

منظر منظر نقش نظر میں دل میں چہرہ چہرہ ہے

17 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نذیر جہانگیر
ضروری  نہیں جن یادوں تک میں قارئین کو رسائی دے رہا ہوں وہ میری ہی ذات، تجربات اور مشاہدات کے محور پر گھومتی ہوں بلکہ میری یادوں میں دوسرے لوگوں کی وہ یادیں بھی محفوظ ہوسکتی ہیں جو ان دوسرے لوگوں کے تجربات اور مشاہدات سے جڑی ہوں اور جنہیں میں دلچسپ جان کر مضامین کے اس سلسلے میں بیان کرتا رہوں گا۔ جن دنوں میرا فیس بک اکاونٹ ہوا کرتا تھا، ان دنوں میرے ایک فیس بک فرینڈ نے ایک خوبصورت کہانی اپنی ٹائم لائن پر پوسٹ کی تھی۔ یہ کہانی مجھے بڑی دلچسپ بھی لگی اور سبق آموز بھی، اس لئے مذکورہ فیس بک فرینڈ سے شکریہ کے ساتھ اس کہانی کو یہاں بیان کررہا ہوں۔
’’روسی مصنف حمزہ رسول نے اپنی کتاب ’’ میرا داغستان‘‘ میں ایک بہت خوبصورت واقعہ لکھا ہے:ایک بار وہ ایک گاؤں سے گذر رہے تھے تو دیکھا کہ پہاڑی علاقوں میں رہنے والی دو قباںُیلی عورتیں آپس میں جھگڑا اور تکرار کر رہی ہیں اور اسی تکرار کے دوران ایک عورت نے دوسری عورت کو بد دعا دی :’’ جااللہ تیرے بچوں کو اس انسان سے محروم کر دے جو انہیں ان کی زبان سکھانے والا ہے‘‘۔ اس کے بعد دوسری عورت کا بھی غصہ کافور ہو گیا اور پھر اس نے بھی وہی بد دعا دوسرے طریقے سے لوٹائی اور کہا :’’اللہ کرے تیرے یہاں ایک آدمی بھی ایسا نہ بچے جو تیرے بچوں کو ان کی زبان سکھا سکے۔‘‘
رسول حمزہ توف ’’میرا داغستان‘‘ میں لکھتے ہیں کہ میری مادری زبان ’’آوار‘‘ ہے ،اگرچہ میں روسی میں شاعری کرتا ہوں اور ہمارے ہاں ایک گالی ایسی ہے جس پر قتل ہو جاتے ہیں کہ جا تو اپنی مادری زبان بھول جائے۔بقول رسول حمزہ توف کہ صرف ستر ہزار افراد آوار زبان بولتے ہیں۔حمزہ رسول توف اپنی اسی کتاب میں ایک انکھ نم کردینے والا واقعہ بھی لکھا ہے:ایک مرتبہ پیرس کے ادبی میلے میں شریک ہوا وہاں میری آمد کی خبر پا کر ایک مصور مجھ سے ملنے چلا آیا اور کہنے لگا کہ میں بھی داغستان کا ہوں، میری مادری زبان آوار ہے۔میں داغستان کے فلاں گاؤں کا رہنے والا ہوں لیکن شاید تیس برس ہو گئے میں یہاں فرانس میں ہوں۔وہ مصور انقلاب کے کچھ ہی دن بعد وہ تعلیم کی غرض سے اٹلی چلا گیا۔ وہیں اُس نے ایک اطالوی خاتون سے شادی کرلی اور ہمیشہ کے لئے بس گیا۔ بے چارہ پہاڑی رسم ورواج کا ساختہ پرداختہ تھا ،اس لئے اس نئے وطن میں بسنے اور وہاں کے ماحول میں اپنے آپ کو ڈھالنے میں اُسے خاصی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔خود کو اس نئی دنیا کا عادی بنانے کے لئے اُس نے سیر وسیاحت کا سہارا لیا۔ دور دراز ملکوں کی راجدھانیوں میں دل بہلانے کی کوشش کی، مگر جہاں بھی گیا وطن کی یاد اور اپنے وطن سے جدائی کا احساس سایہ کی طرح اُس کے ساتھ رہا۔
میں نے اُس سے کچھ تصویریں دکھانے کی خواہش کی، محض یہ دیکھنے کے لئے کہ اُس مصور نے اپنے ان جذبات اور اپنی ان کیفیات کو رنگ کے قالب میں کس طرح ڈھالا ہے۔
اُن میں ایک تصویر نظر آئی جس کا عنوان تھا ’’وطن کی غمگین یاد‘‘، اُس تصویر میں ایک اطالوی عورت (مصور کی بیوی) دکھائی دی جو داغستانی عورتوں کا روایتی لباس پہنے ایک پہاڑی چشمے کے کنارے کھڑی تھی۔ اُس کے ساتھ میں چاندی کی ایک منقش صراحی تھی جس پر گوتسا تلی کے کاری گروں جیسے نقش بنے تھے، جن کی کاری گری دُور دُور تک مشہور ہے۔ پس منظر میں پہاڑ کی ڈھلوان پر بسا ہوا ایک سنسان سا تنہا آوار گاؤں تھا۔ گاؤں کے پتھریلے مکانات کے پس منظر میں پہاڑ تھے، جو گاؤں سے زیادہ اُداس اور بے جان لگ رہے تھے پہاڑ کی چوٹیاں کُہر میں ڈوبی ہوئی تھیں۔’’کُہر پہاڑوں کے آنسو ہیں‘‘ مصور نے وضاحت کی۔ ’’کُہر جب ڈھلوانوں پر چھا جاتی ہے تو شبنم کا روپ لے کر صاف شفاف قطروں کی صورت میں ڈھلکتی نیچے، گہرائیوں میں جاگرتی ہے۔ یہ کُہر میں ہوں۔‘‘۔
ایک دوسری تصویر میں ایک چڑیا دکھائی گئی تھی جوبنجر پہاڑوں پر اُگنے والی ایک خاردار جھاڑی پر بیٹھی تھی۔ چڑیا چہچہا رہی تھی اور ایک مکان کی کھڑکی میں ایک پہاڑی دوشیزہ کا افسردہ اور معصوم چہرہ نظر آرہا تھا، مجھے یہ تصویر کافی دلکش لگی، میری دلچسپی محسوس کرتے ہوئے مصور نے کہا:’’یہ ایک پرانی آور لوک کتھا پر مبنی ہے۔‘‘
’’کون سی لوک کتھا؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’کہانی یوں ہے کہ ایک بار ایک چڑیا کو پکڑ کر پنجرے میں بند کر دیا گیا۔ چڑیا پنجرے میں رات دن چلایا کرتی: میرا وطن، وطن، وطن بالکل اسی طرح ان تمام طویل برسوں کے دوران میں وطن، وطن کی رٹ لگائے رہا ہوں ۔ایک دن اُس چڑیا کو پکڑنے والے نے سوچا: ’’آخر اس چڑیا کا وطن ہے کہاں اور کس قسم کا ہے؟ یقیناً وہ کوئی خوب صورت وادی اور سرسبزو شاداب پہاڑ ہوگا جہاں خوب صورت اور قد آور درخت ہوں گے اور ایسی خوبصورت چڑیائیں ہونگیں جو فردوس میں ہی دیکھی جاسکتی ہیں۔ میں چڑیا کو آزاد کردوں گا، ا س پیچھا کروں گا اور یوں اُس خوبصورت وادی تک پہنچ جاؤں گا، اُس نے پنجرے کا دروازہ کھول دیا اور اُسے اُڑ جانے دیا۔ چڑیا اڑ کر دس قدم گئی اور پھر ایک اجاڑ سی جھاڑی پر جا بیٹھی جو ننگی بوچی پہاڑی پر اُگی ہوئی تھی۔ اُسی جھاڑی کی کسی شاخ پر اُس کا گھونسلہ تھا۔میں بھی اپنے پنجرے کی تیلیوں سے اپنے وطن کو دیکھتا رہا ہوں۔
’’تو پھر آپ وطن کیوں نہیں لوٹنا چاہتے؟‘‘میں نے پوچھا۔
’’اب بہت دیر ہو چکی ہے۔جب میں نے وطن چھوڑا تھا تو میرے پہلو میں ایک جوان دل تھا جس میں ایک جوالا بھڑک رہی تھی اور اب میں محض اپنی بوڑھی ہڈیاں لے کر اپنے وطن کس منہ سے جاؤں؟
خدا جانے میری ماں اب زندہ بھی ہوگی یا مر چکی ہوگی‘‘
رسول حمزہ توف لکھتا ہے میں نے داغستان واپسی پر اس کے عزیزوں اور ماں کو تلاش کیا اس مصور کے بارے میں اس کے خاندان کو یقین تھا کہ وہ مر چکا ہے مصور کی ماں سے یہ خبر سن کر حیرت میں مبتلا ہوئی اس کی ماں کو علم ہی نہ تھا کہ اس کا بیٹا ابھی تک زندہ ہے۔ رسول حمزہ توف نے مصور کی ماں کو یقین دلاتے ہوئے کہا آپ کا بیٹا سچ میں زندہ ہے اور وہ فرانس میں خوش و خرم ہے۔‘‘
یہ سن کر اس کی ماں نے رو رو کر برا حال کر لیا۔اس دوران مصور کے عزیز بھی افسردہ چہروں کے ساتھ گاؤں کے ایک مکان میں اس کے اردگرد جمع اپنے اس سپوت کی کہانی سننے کے لئے جمع تھے جس نے ہمیشہ کے لئے اپنا وطن چھوڑ دیا تھا ۔ مصور کے رشتہ داروں نے اس کے وطن عزیز چھوڑنے کا قصور تو معاف کر دیا تھا لیکن انہیں یہ جان کر مسرت ہوئی کہ ان کا کھویا ہوا بیٹا ابھی زندہ ہے۔
مصور کے ماں نے رسول سے پوچھا مجھے بتاؤ کہ اس کے بالوں کی رنگت کیسی ہے اس کے رُخسار پر جو تِل تھا کیا اب بھی ہے، اس کے بچے کتنے ہیں؟اور پھر ایک دم سے مصور کی ماں نے پوچھا :’’رسول تم نے میرے بیٹے کے ساتھ کتنا وقت گزارا؟‘‘
’’ہم صبح سے شام تک بیٹھے کھاتے پیتے رہے اور داغستان کی باتیں کرتے رہے‘‘ رسول نے جواب دیا۔
اچانک اُس کی ماں نے مجھ سے ایک سوال کیا: ’’اُس نے تم سے بات چیت تو آوار زبان میں کی ہوگی نا؟‘‘
’’نہیں! ہم نے ترجمان کے ذریعے بات چیت کی۔ میں روسی بول رہا تھا اور آپ کا بیٹا فرانسیسی‘‘ وہ آوار زبان بھول چکا ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
مصور کی بوڑھی ماں نے یہ سنتے ہی سر پر بندھا سیاہ رومال کھول کر اپنے چہرے پر کھینچ کر اسے روپوش کر لیا جیسے کہ پہاڑی علاقوں میں ماںُیں اپنے بیٹے کی موت کی خبر سن کر اپنے چہروں کو ڈھک لیتی ہیں۔ اسوقت اوپر چھت پر بڑی بڑی بوندیں گررہی تھیں، ہم آوارستان میں تھے، غالباً بہت دُور دنیا کے اُس سرے پر پیرس میں داغستان کا وہ بیٹا بھی جو اپنے قصور پر نادم تھا، برستے پانی کی آواز سن رہا ہوگا۔
پھر ایک طویل خاموشی کے بعد ماں نے کہا ’’ رسول! تم سے غلطی ہوئی ہے میرے بیٹے کو مرے ہوئے ایک مدت بیت گئی جس سے تم ملے میرا بیٹا نہ رہا ہو گا کیونکہ میرا بیٹا اس زبان کو کبھی بھلا نہیں سکتا جو میں نے اسے سکھائی ۔رسول۔۔۔! اگر وہ اپنی مادری زبان بھول چکا ہے تو میرے لئے وہ زندہ نہیں، مر چکا ہے‘‘۔
ذرا سوچئے کہ ایک ماں کیلئے اپنے بیٹے کے زندہ رہنے کی خبر زیادہ خوش خبری کا باعث نہ بنی مگر جب اس نے یہ سنا کہ اس کے بیٹے نے اپنی مادری زبان کو ترک کر دیا ہے، یہ خبر اس کے لئے حادثے کا سبب بن گئی۔سوال یہ ہے کہ اگر یہی واقعہ ہندوپاک کے خطے میں مسلمان ماؤں کے ساتھ پیش آجائے کہ اس کا بیٹا امریکہ یا انگلینڈ میں جاکر فراٹے دار انگلش بولنا شروع کر دیا ہے تو کیا اس کا بھی ردعمل ایسا ہی ہوتا؟ شاید وہ خوش ہوکر اپنے رب کی بارگاہ میں دعا کرتی کہ اے اللہ! تو بڑا مہربان اور کریم ہے کہ تو نے میری دعا قبول کر لی اور میرا بیٹا فر فر فر انگلش بولنے لگا ہے۔یہ تلخ حقیقت ہے اور یہی ہماری ماؤں اور بیٹیوں کی ترجیحات اور کامیابی کا تصور بن چکا ہے جنہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ کیا ہیں ،ان کا نصب العین کیا ہے اور انہیں اپنی اولادوں کو کیا بنانا ہے؟‘‘
خیر آگے بڑھتے ہیں۔ آج میں جب اپنی یادوں کو ٹٹولنے لگا اور ذہن کے دھندلکوں میں جھانک کر ماضی کے واقعات پر نظر ڈالی تو خیال آیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ (جل جلاله وعز شانہ) نے یہ کیسی عجیب قسم کی شئے( جسے دماغ کہا جاتا ہے) انسان کو عطا کی ہے کہ اس میں ایسا سٹور ہاؤس ہے، جس میں ہزاروں اور لاکھوں یادیں اور تصویریں محفوظ ہوجاتی ہیں۔ انسان کا ایک ایک عضو  اللہ تبارک وتعالیٰ (جل جلاله وعز شانه) کا معجزہ اور کرشمہ ہے۔ انسان ایک مخلوق ہے مشین نہیں۔ یہ سوچتا بھی ہے اور محسوس بھی کرتا ہے۔ یہ جب کوئی کام کرتا ہے تو کرنے سے پہلے سوچتا بھی ہے کہ اس کو کرنا کیسے ہوگا؟
اسی دماغ سے حواس خمسہ بھی جڑے ہیں کہ انسان کو سننے، دیکھنے، سونگھنے، ذائقے اور چھونے کی قوتیں ہیں۔ انہی ذرائع سے ہم علوم یا معلومات حاصل کرتے ہیں۔ پھر علوم یا معلومات حاصل کرنے کا ایک اور ذریعہ ہمارے احساسات بھی اسی کے ساتھ جڑے ہیں اور ہم یاداشت اور تخیل کی وساطت سے علم حاصل کرتے ہیں۔ دوسری چیزوں کے تصورات کے علاوہ ہم اپنی ذات کی موجودگی سے بھی آگاہ ہیں۔ درحقیقت ہمارے پاس دو دماغ ہوتے ہیں، ایک شعوری دماغ اور دوسرا لاشعوری دماغ۔ شعوری دماغ ہمارے کنٹرول میں ہوتا ہے اور لاشعوری دماغ براہ راست ہمارے کنٹرول میں نہیں ہوتا، جب کہ لاشعوری دماغ ہی ہمارا تن ساز ہوتا ہے، یعنی یہی ہمارا جسم بناتا ہے۔ یہ ہمارے جسمانی افعال خودکار طریقے پر انجام دیتا رہتا ہے۔ ہم بیدار ہوں یا نیند میں، یہ لاشعوری دماغ ازخود کام کرتا رہتا ہے۔ کتنا یہ دشوار کام ہوتا اگر ہمیں ہر لمحے اپنے شکم کو غذا کے ہاضمہ پر ہدایات دینا پڑتیں تاکہ ہمارے خون کی گردش برقرار رہے؟ جب کہ ہماری ہر حرکت اور فعل حیران کن طریقے پر از خود جاری ہے۔ اصل میں بدن کے ہر ایک سیل یعنی خلیہ اور ایٹم میں اینٹلی جینس یعنی ذہانت موجود ہے جس کا لاشعوری دماغ سے رابطہ قائم ہے۔ ہماری آگاہی کے بغیر خلیوں میں یہ مجموعی کیمیاوی تبدیلی یعنی میٹو بولک فنکشن چلتی رہتی ہے۔ ہم ان چیزوں کے متعلق اسی وقت واقف ہوجاتے ہیں جب ہم کچھ بے چینی محسوس کرتے ہیں یا کسی مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ شعوری دماغ احکامات دیتا ہے اور لاشعوری دماغ اس کو بجا لانے میں سرگرم رہتا ہے۔ 
حقیقت یہ ہے کہ دماغ کی صحیح تشریح اور تفسیر ہمارے پاس نہیں ہے۔ لغت میں گوکہ اس کے معانی عقل کی قوت، آگاہی کی نشست، احساسات، خیال وغیرہ کے بتائے گئے ہیں مگر یہ دماغ کی مکمل تفصیل وتشریح نہیں۔ لغت کے یہ معانی دماغ کی کچھ جزیات ہیں۔ افلاطون کا ماننا تھا کہ دماغ ایک روحانی صفت ہے جو قدرت کی طرف سے عطا ہوتی ہے اور یہ مادی جسم سے الگ چیز ہے۔ دماغ کی حقیقت پر بہت تحقیق ہوئی ہے مگر اس معاملے میں انسان کو کچھ زیادہ جانکاری نہیں ملی بلکہ وہ اس معاملے پر زیادہ قیاسوں سے ہی کام لیتا رہا ہے۔ سائنس دانوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ہم اس کی تحقیق میں کچھ زیادہ پیش قدمی نہیں کرپائے اور اس معاملے میں بہت کم دریافت ہوئی ہے۔خوابوں کی دنیا بھی اسی دماغ سے متعلق ہے۔ ان خوابوں میں کہیں ہم خلاؤں میں محو پرواز ہوتے ہیں اور کبھی سمندروں کو گزرگاہ بنالیتے ہیں، کبھی چاند ستاروں کی سیر کرتے ہیں اور کبھی جنگلوں میں کھوجاتے ہیں، کبھی شیر اور ہاتھی ملتے ہیں اور کبھی لذیذ میوے کھاتے ہیں۔ اس کائینات میں سائنس دانوں کے نزدیک سب سے پیچیدہ اور پراسرار چیز انسانی دماغ ہے۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس میں ایک سو ارب کے قریب اعصابی سیل یا خلئے ہوتے ہیں۔ ایک ایک اپنے ہزاروں پڑوسیوں سے ترسیل میں رہتا ہے جس سے ناقابل تصور قسم کی بک بک پیدا ہوجاتی ہے۔ 1953ء میں ’’ریپڈ آئی مومنٹ‘‘ یعنی آنکھ کی تیز حرکت کی دریافت ہوئی۔ اس دریافت سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ یہ ’’ترسیلی بک بک‘‘نیند میں بند ہوجاتی ہے مگر اب سائنس دان کہتے ہیں کہ گہری نیند میں اس ترسیلی بک بک میں 40 فیصد کے قریب کمی تو ہوجاتی ہے مگر رات میں چار یا پانچ وقفوں میں دماغ اسی طرح سرگرم ہوتا ہے جیسے بیداری میں۔ ایک محقق کہتا ہے کہ خواب دیکھنے کے بعد ہی ہمیں بیداری میں معلوم ہوجاتا ہے کہ ہمارے دماغ نے ہمیں جھانسہ دیا ہے، خواب میں یہ بات انسان کیوں سمجھ نہیں پاتا کہ پانی پر چلنا ممکن نہیں ہے۔ 
کئی برس پہلے کی بات ہے کہ میں خوابوں کے متعلق انگریزی میں کوئی جامع کتاب کی تلاش میں یہاں کے سرکردہ کتب فروشوں کے پاس گیا مگر کسی کے پاس ایسی کوئی کتاب دستیاب نہیں تھی۔ پھر میں یہاں کی معروف لائبریریوں میں گیا مگر وہاں بھی ایسی کوئی کتاب نہ ملی۔ چنانچہ میں نے خود انگریزی میں ایک جامع کتاب لکھنے کی ٹھان لی اور پھر مختلف ذرائع سے اس موضوع پر جو بھی مواد ہاتھ آیا، اسے پڑھا اور ایک مفصل کتاب لکھ ڈالی۔ خواب ذہنی پریشانیوں کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے، الہام بھی ہوسکتا ہے، مستقبل کی پیش گوئی بھی ہوسکتی ہے اور کچھ شکمی گڑبڑ کا اثر بھی ہوسکتا ہے، اپنے جذبات اور خیالات کا عکس بھی ہوتا ہے، روحانی سفر بھی ہوتا ہے یا بعض ادویات کے اثرات کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ مسلمان کا ہی خواب سچا ہوگا اور غیر مسلم کا خواب معتبر نہیں ہوگا۔ نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔ مصر کے غیر مسلم بادشاہ نے جب خواب دیکھا تو حضرت یوسف علیہ السلام نے اس کی تعبیر بتائی جو سچ ثابت ہوئی۔ ابوجہل بھی خوابوں کی تعبیر دینے میں ماہر تھا، اور ظاہر ہے کہ اس کے پاس مسلمان خوابوں کی تعبیر لینے نہیں جاتے ہوں گے۔ آج کچھ ذکر میں خوابوں کے حوالے سے بھی کروں گا جو قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہوں گے۔’’احیاء العلوم‘‘ امام غزالیؒ کی مشہور تصنیف ہے۔ اس کتاب کی چار جلدیں ہیں۔ اس تصنیف کے دیباچے میں درج ہے کہ مشہور صوفی قطب شاذلیؒ اس کتاب کے پہلے منکر تھے۔ ایک دن وہ اس کتاب کو ہاتھ میں لئے ہوئے نکلے اور لوگوں سے پوچھا یہ کونسی کتاب ہے؟ پھر اپنے جسم پر کوڑوں کے نشانات دکھائے اور کہا کہ میں اس کتاب کا منکر تھا، کل میں نے خواب دیکھا جس میں امام غزالیؒ نے مجھے حضورﷺ کے دربار میں لیا ، جہاں مجھے اس کتاب کے انکار پر کوڑے لگائے گئے۔ 
ہندوازم میں بھی خوابوں کو خدا کی طرف سے سچی میسیج مانا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مہاراجہ ہریش چندرا نے، جو اپنی سچائی میں مشہور تھا، مشہور سادھو ویشوامترا کو خواب میں یہ وعدہ دیا کہ وہ اپنی ساری جائداد اُسے بخش دے گا۔ دوسرے دن ویشوامترا اُس کے پاس آیا اور خواب میں کیا گیا وعدہ یاد دلایا جس پر ہریش چندرا نے ساری سلطنت ویشوامترا کے حوالے کی اور خود اپنے کنبے کے ساتھ جنگل چلا گیا۔
ایک دن بدھ مت کے بانی سدھارتھ نے خواب دیکھا جس میں اس نے ایک لاش کو زمین پر لٹائے ہوئے پایا۔ ایک سادھو نے اُسے کہا: ’’سدھارتھ! یہ تم ہو، اس سچائی کو جاننے کی کوشش کرو اور اسی روشنی میں اپنی زندگی گزارو!‘‘ جب سذھارتھ جاگا اُس نے اپنے محل کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی اور بیٹے کو بھی چھوڑا اور آخر وہ گوتم بدھ بنا۔ 
دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک دفعہ سخت سردی میں ہٹلر نے ایک بنکر میں رات گزاری۔ اُس نے خواب دیکھا کہ جیسے زمین اور ملبہ اُس پر گرا اور وہ اسی میں دَب گیا۔ وہ بدحواسی میں جاگ کر بنکر سے باہر بھاگنے لگا۔ وہ ابھی کچھ ہی فاصلہ طے کرپایا تھا کہ وہ یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ ایک بم اُس بنکر پر آگرا اور اُس میں موجود تمام کے تمام لوگ مرگئے۔امریکہ کے سابق صدر ابراہیم لنکن نے قتل سے صرف کچھ دن پہلے خواب میں موت سی خاموشی دیکھی اور سسکیوں کی آواز سنی۔ وہ سیڑھیوں سے نیچے اُترا مگر وہاں کوئی نہ تھا مگر غمگین صورت حال تھی۔ وہ مشرقی کمرے میں گیا وہاں ایک میز پر کفن میں لپٹی ہوئی کوئی لاش تھی۔ سپاہی اس کو گھیرے ہوئے تھے۔ ابراہیم لنکن نے ایک سپاہی سے پوچھا یہ کون مرا ہے؟ سپاہی بولا: یہ پریذیڈنٹ ہے جسے قتل کیا گیا۔
 آخر میں کچھ باتیں کلچرل اکیڈمی کےتعلق سے۔ یہ نہ جانے ’’کشمیر عظمیٰ‘‘ کو کیا سوجھی جو مجھے ایک قلم کار کی حیثیت عطا کی اور میرے کالم اور مضامین چھاپتا رہا؟ (قارئین کرام کو یاد ہو کہ نہ یاد ہو مگر میں بھولا نہیں ہوں کہ ’’کشمیر عظمیٰ‘‘ میں ایک طویل عرصے تک ’’اپنا خیال رکھئے گا‘‘ اور ’’وغیرہ وغیرہ‘‘ کے عنوانات سے میرے کالم چھپتے رہے ہیں)۔ آج اتفاق سے انٹرنیٹ پر کلچرل اکیڈمی والوں کی طرف سے شائع رائیٹروں کی فہرست نظروں سے گزری تو دریافت ہوا کہ میں نہ تین میں ہوں اور نہ تیرہ میں۔ چالیس سال سے جو رائیٹر میری یاداشت میں رجسٹر ہوتے آئے ہیں وہ تو تیس چالیس  سے زیادہ نہیں مگر اس فہرست میں دو سو چھپے ہیں۔ خیر میرا نام تو دو سو میں بھی نہیں ہے کیونکہ کلچرل اکیڈمی والے  مجھے رائیٹر مانتے ہی نہیں اور ایسا دُرست بھی ہے۔ میرا لکھنا تو ایسا ہے کہ ’’کوا چلا ہنس کی چال‘‘ مگر حیرانی اس پہ ہے کہ اس فہرست میں کوئی اجمیرہ پمپری ہے، بدری ناتھ ہے، کلہن کول ہے، بھگت یار ہے، مگر کشمیر کے معروف افسانہ نگار ہردے کول بھارتی اور اوتار کرشن رہبرؔ کا نام بھی کہیں ظاہر نہیں ہے۔ حیرت یہ بھی کہ رفیق مسعودی صاحب کا نام بھی دو سو میں نہیں ہے، حالانکہ وہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ ہی نہیں بلکہ کلچرل اکیڈمی کے سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔ سجود سیلانیؔ بھی نہیں ہیں اور بھی کئی نام ہیں جو کلچرل اکیڈمی والوں نے التفات کے قابل نہیں سمجھے ہیں، مثلا اختر۔ اکیڈمی والو! میرے نام کو چھوڑو مگر اپنی فہرست کو دُرست کرکے اس میں ان لوگوں کو تو لکھ لو جو کشمیری ادب کے جھلملاتے ستارے ہیں تاکہ تمہاری فہرست کچھ حد تک تو اعتبار کے قابل لگے! کوئی کام ذرا ڈھنگ کا بھی کیا کرو! ورنہ ضرورت ہی کیا تھی ایسی فہرست آن لائن ڈالنے کی؟
zirsha123@gmail.com