تازہ ترین

تجارتی یونٹوں کے نام پر سبسڈی کا خرد برد

ڈپٹی میئر سرینگراور کئی بنک وسرکاری ملازمین کیخلاف مقدمہ درج

16 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک

مالی بدنظمی میں ملوث عناصر کیخلاف ہوگی قانونی کارروائی: اے سی بی

 
سرینگر // انٹی کورپشن بیورو نے سنیچر کو سرینگر میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئر شیخ عمران، جموں وکشمیر بنک کے کئی افسران سمیت انتظامیہ میں شامل کئی افسران کیخلاف مبینہ خردبرد معاملے کے تحت کیس درج کرلیا ہے۔انٹی کورپشن بیورو کے مطابق ڈپٹی میئر شیخ عمران نے لاسی پورہ پلوامہ میں تجارتی یونٹ کو قائم کرنے کیلئے رقومات کا خاکہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیخ عمران نے غیر قانونی طور پر سرکار سے بھاری سبسڈی حاصل کرنے کی غرض سے غلط تخمینہ پیش کیا تھا۔ انٹی کورپشن بیورو کا کہنا ہے کہ ڈپٹی میئر نے بڑے پیمانے پر سبسڈی حاصل کرنے کی خاطر غلط تخمینہ سرکار کو پیش کیا تھا جس کے بعد انہوں نے بنک سے بڑے پیمانے پر قرضے حاصل کرکے خزانہ عامرہ کو چونا لگایا۔بیورو کے مطابق اس سلسلے میں ایک انٹی کورپشن بیورو نے ڈائریکٹر مسرز قہوہ اسکائر پرائویٹ لمیٹڈ بہوری کدل سرینگر، جموں وکشمیر بنک کے متعدد افسران کیساتھ ساتھ انتظامیہ میں شامل چند افسران کیخلاف پولیس تھانہ اننت ناگ میں کیس زیر نمبر3/2019زیر دفعہ 5(1)(d)پی سی ایکٹ سموات2006 لائق سزا زیر دفعہ 5(2)آف 420اور 120-Bآر پی سی درج کیا گیا ہے۔بیورو کے بقول تینوں شراکت داروں نے لاسی پورہ پلوامہ میں سٹوریج یونٹ کو قائم کرنے میں بڑے پیمانے پر مالی خرد برد کیا ہے۔بیورو کے مطابق کیس کی تحقیقات کے دوران اس بات کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ ڈپٹی میئر شیخ عمران نے لاسی پورہ دپلوامہ میں سٹوریج یونٹ کو قائم کرنے کے حوالے سے جو تخمینہ جموں وکشمیر بنک کے پاس جمع کرایا اُس میں کئی گنا زیادہ رقم تجارتی یونٹ کے قیام کیلئے دکھائی گئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹر مسرز قہوہ اسکائر پرائویٹ لمیٹڈ شیخ عمران نے کئی گنا سبسڈی کے حصول کی خاطر بنک کو پیش کئے گئے تخمینے میں یونٹ کے قیام سے متعلق رقم کو کئی گنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔بیورو کا کہنا تھا کہ باغبانی کے فروغ سے متعلق مشن سے متعلق قواعد و ضوابط کے تحت ایک مشترکہ ٹیم جس میں باغبانی شعبے سے متعلق ماہرین اور سرکاری افسران شامل تھے نے شیخ عمران کے ہمراہ لاسی پورہ پلوامہ جاکر یہاں جائے واقعہ کا آن سپاٹ جائزہ لیا جس کے بعد 33کروڑ لاگت کے پروجیکٹ جس میں سبسڈی رقم شامل تھی کو قواعد و ضوابط کے تحت خودمختار جائزہ کمیٹی گورنمنٹ آف انڈیا کو ہری جھنڈی کیلئے روانہ کیا گیا۔اس کے بعد ریاستی سرکار نے بھی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جنہوں نے فی نفسہ لاسی پورہ پلوامہ جاکر یہاں انفراسٹرکچر کاجائزہ لیا۔بیورو کے مطابق ریاستی سرکار دمیں شامل چند افسران نے اس موقعے پر لاسی پورہ میں یونٹ کا جائزہ لینے کے بعد بغیر کسی کمی یا بیشی کے، سبسڈی رقم کو واگذار کرنیکی سفارش کی۔بیورو کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آگئی کہ مسرز قہوہ گروپ کے مزید 6تجارتی یونٹس قائم ہیں جس کیلئے شیخ عمران نے مذکورہ یونٹوں کو فروغ دینے کیلئے بڑے پیمانے پر مالی خرد برد کیا ہے۔
بیورو کے بقول شیخ عمران کے کھاتے میں اس وقت138کروڑ بطور قرضہ ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات واضح ہوگئی کہ قہوہ گروپ اور اسی طرح کے دیگر تجارتی یونٹس ’’نان پرفارمنگ اسٹس‘‘ ہیں جس کے بعد شیخ عمران نے قرضے سے متعلق بنک کے ساتھ معاملات کو حل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد بنک نے شیخ عمران کے 33کروڑ قرضے کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا۔اس سلسلے میں بنک کے ساتھ قرضے سے متعلق معاملات کو ایک ہی چٹکی میں حل کرنے کے حوالے سے جموں وکشمیر بنک نے مسرز قہوہ گروپ کو 105کروڑ روپے دو قسطوں میں ادا کرنے کو کہا جس کے لیے 50کروڑ روپے کو 25مارچ 2017کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق انٹی کورپشن بیورو کی جانب سے انکوائری میں اس بات کا خلاصہ کیا گیا ہے کہ شیخ عمران نے باغبانی محکمے اور جموں وکشمیر بنک کے افسران کے تعاون سے باغبانی شعبے کو فروغ دینے کی خاطربڑے مقدار میں سبسڈی رقم کو ہڑپنے کی کوشش کی ہے۔انکوائری میں بتایا گیا ہے کہ قہوہ گروپ کے مالک شیخ عمران اور اُن کے شراکت داروں نے سبسڈی رقم کو ہڑپنے کی خاطر اپنے تجارتی یونٹوں کو ’’نان پرفارمنگ اسیٹس‘‘ کے طور پر دکھایا جبکہ اس دوران انہوں نے قرضے سے متعلق ایک بھی قسط بنک کو واپس نہیں کی۔انکوائری کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈپٹی میئر شیخ عمران اور اُن کے شراکت داروں کی طرف سے مجرمانہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں جموں وکشمیر بنک کے کئی افسران شامل ہیں۔انٹی کورپشن بیورو کے بقول معاملے سے متعلق تحقیقات کو آگے بڑھانے کیلئے بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور آنے والے وقت میں ملوث عناصر کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔