تازہ ترین

غزلیات

16 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

تُو مجھے اپنا بنا بھی لے تو کیا مل جائے گا
حسرتیں پہلے گنوا دیں اب فقط دل جائے گا
 
جھک گیا چوکھٹ پہ تیری میرا سر تو کیا ہُوا
میں نے جو نظریں اُٹھائیں آسماں ہِل جائے گا
 
تُو مسیحا ہے کہاں کا ہاتھ میں تاثیر کیا
فصلِ گُل میں داغ میرا خودبخود سِل جائے گا
 
نفرتوں کا بیج ہی بویا ہے اُس نے ہر طرف
اور اب بھی سوچتا ہے پھر کنول کِھل جائے گا
 
کب تلک دربان بیٹھے گا ترے رُخسار پر
حُسن ڈھلتا جا رہا ہے اب ترا تِل جائے گا
 
اب قیامت کی گھڑی جاویدؔ ہے نزدیک تر
خاک سے پیدا ہُوا ہے خاک میں مِل جائے گا
 
سردار جاوید خان
پتہ مہنڈر، پونچھ
موبائل نمبر ؛9419175198
 
 
میرے سر پر آج بھی آکر ٹھہرا تھا سورج
درد کی حدّت پر دیتا سا  پہرا تھا  سورج
 
پیاس نے کھل کر خاک اُڑائی آنکھوں میں سوکھی
دشت میں جس دن پرچم بن کر لہرا تھا سورج
 
کالے رنگ کی موجیں اب تک اُٹھتی ہیں رہتی 
اک دن اُترا مجھ میں تیرا گہرا تھا سورج
 
باندھ  رہا  تھا  رختِ سفر بھی  شب کا مسافر
بانہوں میں لیکر سہلاتا صحرا تھا سورج
 
چاندنی  لیکر  دھوپ میں اک بکھری پائیل تھی
میں  نے کتنا پکارا  لیکن  بہرا  تھا  سورج
 
رات کو اوس کے بستر پر  تھی چاندنی بکھری 
ابر میں دن کو چھپا کر بیٹھا چہرہ تھا سورج
 
تب سے شب بھر جاگتے رہتے تارے ہیں  شیداّؔ
جس دن باندھ کے سر پر نکلا سہرا تھا سورج
 
علی شیداّؔ
 نجدون نیپورہ اسلام آباد،  
 فون نمبر9419045087
 
 
اِدھر نا ہی اُدھر اچھا لگے ہے 
مجھے تو تیرا در اچھا لگے ہے 
 
تری یادیں بسی ہیں اِس میں ورنہ 
مجھے یہ دل کدھر اچھا لگے ہے 
 
کبھی اس پہ عمل کر کےبھی دیکھو 
مِرا کہنا اگر اچھا لگے ہے 
 
ہمارا حال کچھ ایسا ہوا ہے 
کہ صحرا ہی نہ گھر اچھا لگے ہے 
 
پرندوں سے ہی رونق ہے وگرنہ 
بن اِن کے کب شجر اچھا لگے ہے 
 
ہمیں معلوم ہے انجامِ اُلفت 
مگر پھر بھی یہ ڈر اچھا لگے ہے 
 
یہ اِندرؔ ہی توہو سکتا جسے، دل 
وفا، زلفیں، جگر اچھا لگے  ہے 
 
اِندرؔ سرازی
ضلع ڈوڈہ، پریم نگر، جموں 
موبائل نمبر؛ 7006658731 
 
 
ہے یہاں ہر کوئی ندامت میں
صرف میں ایک ہوں شرارت میں
وصل واجب ہوا ہے اب ہم پر
نیند آتی نہیں ہے فرقت میں
بدنصیبی ہے اور کچھ بھی نہیں
ورنہ ہے خوب لطف چاہت میں
اب تلک کچھ نہیں کیا حاصل
کی بسر زندگی عداوت میں
دور میخانے سے رہے یہاں ہم
ہے شرابِ طہور جنت میں
راز کی ایک بات کہنی ہے
دے رہا ہوں میں جاں محبت میں
جان اپنی کہا ہے اس نے مجھے
ہوں دعاگو، رہوں سلامت میں
سو گیا ہے بدن مرا بسملؔ
اتنی راتیں گزاریں خلوت میں
 
سید مرتضیٰ بسمل
شانگس اننت ناگ کشمیر
طالب علم:شعبہ اردو ساؤتھ کیمپس کشمیر یونیورسٹی
موبائل نمبر؛6005901367
 
 
تجھے میں اپنا سب کچھ مانتا ہوں
میرے بھی تم نہیں یہ جانتا ہوں
مٹا ہوں سادگی پہ تیری ہمدم
تری دھڑکن کو دل پہچانتا ہوں
میری ناکامیوں پہ کیوں ہو شاداں؟
کبھی کیا تم سے میں کچھ چاہتا ہوں
اُجالے زندگی میں کر دے میری
دعائیں روشنی کی مانگتا ہوں
کہیں ٹھوکر کا خدشہ ہو تو پرویزؔ
سنبھل کر زندگی کو لانگتا ہوں
 
پرویز یوسفؔ
کنٹریکچوَل لیکچرر ماڈل ہائیر سیکنڈری چندوسہ بارہ مولہ۔
فون نمبر؛9469447331
 
 
وحشت سی اب ہے چھائی میرے دل کہاں ہو تم
ہر اور ہے تباہی میرے دل کہاں ہو تم
یہ آسماں یہ تارے سب خاموش ہیں جیسے
اک ہُوک ہے اُٹھ آئی میرے دل کہاں ہو تم
وہ راستے کہ جن پہ کبھی چل رہے تھے ہم
آندھی ہے اُن پہ چھائی مرے دل کہاں ہو
آنکھیں بُجھی ہیں گم سبھی چہرے بھی ہوگئے
سوچوں یہ قضاء آئی مرے دل کہاں ہو تم
مجھ کو اکیلے چھوڑ کے راقمؔ چلا کیا
یہ رات، یہ تنہائی میرے دل کہاں ہو تم
 
راقم حیدر
شالیمار، سرینگر، حال بنگلور،موبائل نمبر؛9906543569