تازہ ترین

سفید کتوبر

16 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ناصر ضمیر
مجھے اب بہت دن ہوگئے اِس شہر میں۔
آج کام مکمل ہوجائے تو آگے بڑھوں۔ مجھے جلدی سے شہر کے مفامات میںپہاڑی کے دامن میںواقع زیارت گاہ پر پہنچنا ہوگا۔  بابا وہی پر ہونگے۔ اب ڈیڑھ مہینہ ہونے کو آیا ہے جب میں پہلی دفعہ اس قدجع خلائق زیارت گاہ پر اِن سے مِلا تھا۔مجھے یاد ہے کہ بابا نے آواز دیکر مجھے پاس بُلایا اور پوچھا ۔
کون ہو تم؟
جی مسافر۔
کیا کرتے ہو؟
شہر شہر ، گائو ںگائوں بھٹکتا ہوں اور لوگ گیت ، کتھائیں اور کہانیاں جمع کرتا ہوں اور اُنکو لکھ کر محفوظ کر لیتا ہوں ۔
ہوں!یہ بھی کوئی کا م ہوا بھلا۔ بابا نے حیرت سے پوچھا۔
جی حضرت۔
میرا یہی کام ہے اور شاید میرا مقدر بھی ۔ پھر میں نے پہلی دفعہ بابا کو غور سے دیکھا۔ ایک ایسا بزرگ جس کے  کپڑ ے پُرانے اور میلے تھے لیکن جس کے چہرے پر نور تھا اور ایک عجیب کشش تھی ، سفید چہرے پر بڑی ہو ئی داڑھی اور ماتھے پر پسینے کی بوندیں ۔
اور آ پ کون ہیں حضرت ، میں نے پوچھا۔ 
بابا ملنگی ۔
وہ مسکرائے اور بولے .
سب مجھے اسی نام سے پُکارتے ہیں ۔ برسوں سے اسی چوکھٹ پر پڑا ہوا ہوں کہ کبھی اس ولیِ کامل کی نظر عنایت ہوگی اور سکون سے میری روح جسم سے جُدا ہوکر پرواز کرے گی ۔ 
اچھا ایک بات سُنو۔ بابا نے اُوپر آسمان کی طرف نظریں اُٹھائیں، کچھ سوچنے لگے اور پھر فرمایا۔ 
میں کچھ لکھنے کے لئے کہوں تو لکھو گے ۔ 
جی ضرور۔ میں نے بے جھجک ہو کر کہا ۔ پر لکھنا کیا ہے ؟
داستان ۔ ایک داستان عشق ۔ بابا نے فرمایا ۔ پر اِسکو لکھنے میں تمہیں کئی دن لگیں گے ۔
میرا کام ہی یہی ہے، میں نے جواب دیا۔ 
یہ داستان سفیان اور حیا کی داستان ہے ۔ بابا نے فرمایا۔
 پھر کیا تھا ۔ بابا کہتے گئے میں لکھتا گیا۔ ہر روز نیا باب مجھ سے رقم کرواتے گئے ۔
یہ داستان عشق کچھ یوں ہے ۔
سفیان ایک متوسط درجے کا خوبصورت نوجوا ن ہے ۔ تعلیم وتربیت اچھی پائی اور شکل وصورت بھی۔ تعلیم سے فارغ ہوکر کالج میںلیکچرار بنا۔ جوانی میںعشق کا بخار سب کو چڑھتا ہے، اُسے بھی چڑھا اور اپنے دور کے رشتے کی ایک لڑکی حیا کے عشق میں گرفتار ہوا۔ قسمت اچھی تھی عشق کی دُعا کو قبولیت ملی اور حیا بھی اُس سے ٹوٹ کر چاہنے لگی ۔شادی ہوئی ، آپسمیں دُکھ سکھ بانٹے اور تین بچوں کے ماں باپ بن گئے ۔ 
پہلے تو بابا نے سفیان کے بچپن اور جوانی تک کئی قصے رقم کروائے پھر حیا کے حُسن اور اُسکی وفا شعاری پر کئی صفحے لکھوا ڈالے۔مجھے ساری روداد کچھ خاص معلوم نہ ہوئی، اسی لئے ایک دن پوچھ بیٹھا ۔
تو بابا سفیان اور حیا اپنی محبت کے سہارے اور تین بچوں کے ساتھ ایک خوشگوار زندگی گذارنے لگے ۔ پھر کیا ہوا؟
پھر سفیان کی زندگی میں ایک لڑکی آئی۔ بابا نے فرمایا ۔ 
لڑکی !
ہاں لڑکی جس کا نام  تھا ۔ ایک نہایت آوارہ طبیعت ، جھوٹی اور مکار لڑکی ، جو جہاں جاتی عشق کا جال پھینک کر دوسروں کو پھانس لیتی ۔ ان میں لڑکے ہی نہیں ہوتے بلکہ بال بچوں والے مرد بھی ہوتے ۔بینش تھی تو سفیان کی شاگرد اور عمر میں بارہ تیرہ سال سفیان سے چھوٹی ۔ مگر اِ س نے یہ جال سفیا ن پر بھی پھینکا اور اُسے اپنی طرف راغب کرہی لیا۔ 
مگر بابا سفیان کی محبت تو حیا ہے نا، اس کی شریک حیات اُسکی ہمسفر ۔ توو ہ بینش کی چکر میں کیسا پڑ گیا۔ 
مرد کے پھسلنے کا کوئی وقت نہیں ہوتا ۔
بینش نے اُسے اپنے جال میں پھانس لیا اور وہ اُ س کے پیچھے دیوانہ ہوکر سب کچھ بھول گیا ۔ یہاں تک کہ اُسکی اصل محبت ، اُسکی چاہت ، اُسکی ہمسفر حیا کو بھی اور اپنے بچوں کو بھی ۔ بینش نے اُسے اپنی جھوٹی محبت کا بھرم دلا یا اور د ن بہ دن اُ سکے قریب آتی گئی ۔ اتنے قریب کہ ۔۔۔۔۔۔
بابا کہتے کہتے رُک گئے۔
پھر بابا نے بینش کی نادانیوں کے قصے رقم کروائے۔ عشق اور ُمشک چھپائے نہیں چھُپتے۔ بھلا سفیان اور بینش کا یہ کھیل حیا سے کب تک چھُپتا ۔ آخر کا ر اُسے پتہ چل ہی گیا۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا اور پیروں تلے زمین کھسک گئی ۔ دس سال قبل شادی کے وقت اپنا یا ہوا فیصلہ اُسے غلط دِکھنے لگا۔اُسے سفیان کی بے وفائی سے بہت دُکھ پہنچا۔ 
یہاں بینش کا دل بھی کسی اور کی چاہت کے لئے بے قرار ہونے لگا۔ وہ اب سفیان سے اوب چکی تھی اور کسی نئے شکار کی تلاش میں لگ گئی ۔ بالآخر اُسے ایک ہم عمر مل ہی گیا، جس کے ساتھ وہ گُل چھرے اُڑانے لگی۔ اب جب بھی سفیان اُسے ملنے کی کوشش کرتا تو وہ نہایت ہی بے رُخی سے پیش آتی۔ پھر جلد ہی بینش نے سفیان سے تمام تر رابطے منقطع کردیئے ۔ سفیان خود کو سنبھال نہ پایا کیونکہ اُسے دوہری مار سہنی پڑی۔ اول تو اپنی وفا شعار شریک حیات سے بے وفائی کا غم اور دوسرا بینش کی بے وفائی۔ وہ خود پر نادم بھی تھا اور شرمندہ بھی۔ حیا نے اُسے گھر سے نکال دیا تھا ۔ بینش نے بھی اُسے نہیں اپنایا۔ وہ در در بھٹکتا رہا اور پھر پتہ نہیں کہاں غائب ہوگیا۔
میں نے بابا کو بیچ میں ٹوک کر پوچھا کہیں سفیان نے خودکشی تو نہیں کی یا وہ کہیں مَر وَر تو نہیں گیا ۔ 
نہیں۔۔۔۔نہیں، بابا مسکرائے۔ اگر وہ مرگیا ہوتا تو اُسکی روح سفید کبوتر بن کر نیلے آکاش میں کہیں اُڑتی ہوئی دکھائی دیتی۔ بابا نے پھر کہنا شروع کیا۔
کچھ عرصہ گذرنے کے بعد حیا کو یہ احساس ہو ا کہ سفیان آخر اُسکا شوہر ہے اور ساتھ میں اُسکے بچوں کا باپ بھی تو سفیان کی غلطی کی سزا وہ خود کو تود ے سکتی ہے پر بچوں کونہیں ۔بابا کھانستے ہوئے کہنے لگے عورت آخر موم کی طرح پگھل جاتی ہے  حیا نے سفیان کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا ۔ مگر اب مسئلہ یہ تھا کہ آخر سفیان کہاں گیا اور کہاں سے اُسے ڈھونڈ کر واپس لائے۔
اِدھر بینش من ہی من شرمندہ ہوئی اور سوچنے لگی کہ اُسکی نادانیوں کی وجہ سے ایک ہنستا کھیلتا گھر ٹوٹ گیا ، بکھر گیا  اور اُسے سفیان کی اُسکے تئیں محبت رہ رہ کر یاد آنے لگی ۔ اُسے یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ سفیان کو گھر والوں نے ٹھکرادیا ہے۔اُسے لگا کہ اُسے واپس سفیان کے پاس واپس جانا چاہئے اور اُسے معافی مانگ لینی چاہئے اور اگر سفیان راضی ہوا تو و ہ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی کی نئی شروعات کریں گے۔ اُس نے بھی سفیان کی تلاش شروع کی ۔ اتفاق کی بات ہے کہ ایک ہی دن حیا اور بینش دونوں کو سفیان کا پتہ چلا گیا ۔ حیا اور بینش دونوںپاگلوں کی طرح دوڑتی بھاگتی ہوئی سفیان سے ملنے نکل پڑیں۔ بابا کہتے کہتے رُک گئے ۔ 
پھر کیا ہوا ؟
میں نے تجسُس سے پوچھا۔
 بہت دیر ہوگئی ہے ۔۔۔۔ بابا نے مجھ سے کہا جائو کل آنا یہ قصہ مکمل کرلیتے ہیں ۔ تم بھی اب تھک گئے ہونگے۔
میں اُٹھا اور واپس مڑنے سے پہلے بابا سے کہا۔ یہ کہانی پھیلتے پھیلتے اب ایک کتاب کی شکل اختیار کرنے کو ہے۔ بابا میری بات پر مُسکرائے اورفرمایا چلو یہی سہی ۔ کل اِس کتاب کومکمل کرلیتے ہیں ۔پر اب تم جائو ۔
مجھے تیز تیز قدم بڑھانے چاہئیں۔بابا درگاہ کی چوکھٹ پر انتظار کررہے ہونگے ۔ میںکتاب مکمل کرکے آج ہی اس شہر سے کوچ کر جائوں گا۔ مجھے تو ابھی بہت سارے گیت ، کتھائیں اور کہانیاں اکٹھی کرنی ہیں ۔ کیا پتہ آخر سفیان کا کیا ہوا ہوگا۔ حیا اور بینش کی زندگیوں میں سے کس کی زندگی سنور گئی ہوگی ۔ اور ۔۔۔۔۔
میں تجسُس اور اشتیاق کے مارے تیز تیز قدموں سے درگاہ کی اور بڑھنے لگا ۔
درگاہ کے سامنے آج حاضرین کی کافی بھیڑ اُمڈ آئی ہے۔ میںاپنے ساتھ بڑ بڑایا۔ میں بھیڑ میںسے اپنے لئے جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگا کہ ایک آواز میرے کانوں سے ٹکرائی ۔
اللہ بابا ملنگی کی مغفرت فرمائے، ابھی ابھی دم توڑ دیا۔
 میں ٹھٹھک کر رہ گیا اور کاندھے پر لٹکے تھیلے میں اُدھوری کتاب کے صفحات نکال کر اُن پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ میں نے پچھتاوے اور ا فسردگی کے عالم میں اُوپر آکاش کی طرف نظریں اُٹھائیں تو دیکھا کھلے ، نیلے آکاش میں سفید کبوتر اُڑرہا تھا۔ 
���
محلہ جامع قدیم سوپور
موبائل نمبر؛9419031183،7780889616
E-mail : nasirzameer77@gmail.com