تازہ ترین

نتیش نے پھر اٹھایا بہار کے لئے خصوصی ریاست کے درجے کا مطالبہ

16 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی// بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے آج پھر سے ریاست کو خصوصی درجہ دیے جانے کا مطالبہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسا ھونے سے ریاست میں نہ صرف پرائیویٹ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ صنعتوں کے قیام، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ہی لوگوں کے معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ مسٹر نتیش کمار نے یہاں راشٹرپتی بھون کے کلچرل سینٹر میں منعقد ہ نیتی آیوگ کی گورننگ کونسل کی پانچویں میٹنگ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے مرکزی حکومت سے مسلسل بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دیئے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ حاصل ہونے سے جہاں ایک طرف مرکز کے منصوبوں کے لئے مرکز کے فنڈ میں اضافہ ہو جائے گا، جس سے ریاست کو اپنے وسائل کا استعمال دیگر ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں میں کرنے کا موقع ملے گا"۔وزیر اعلی نے کہا کہ خصوصی ریاست کا درجہ پانے والی ریاستوں کے مطابق مرکزی مصنوعات و خدمات ٹیکس(جی ایس ٹی) میں خاطر خواہ بھرپائی ملنے سے پرائیویٹ سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ہونے سے ریاست میں صنعتیں قائم ہوں گی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔ بہار کے وزیر اعلی مسٹر نتیش کمار نے کہا کہ ریاستی حکومت گزشتہ کئی سالوں سے 10 فیصد سے زیادہ اقتصادی ترقی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے ، جو قومی شرح ترقی سے زیادہ ہے ۔ اس کے باوجود ریاست کی فی کس آمدنی دیگر ترقی یافتہ ریاستوں اور قومی اوسط کے مقابلے میں بہت کم ہے ۔بہار کو ملک کی دیگر ترقی یافتہ ریاستوں اور قومی اوسط کے حصول کے لئے ریاستی حکومت طویل عرصے سے بہار کے لئے خصوصی درجہ کا مطالبہ مرکزی حکومت سے کرتی رہی ہے ۔  مسٹر نتیش کمار نے ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھو رام راجن کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کی سفارش میں ریاستوں کے لئے مجموعی ترقیاتی انڈیکس پیش کیا گیا ہے ۔ اس کے مطابق ملک کی 10 سب سے زیادہ پسماندہ ریاستوں کی نشاندہی کی گئی ہے ، جس میں ریاست بہار بھی شامل ہے ۔ اس کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا تھا کہ سب سے زیادہ پسماندہ ریاستوں میں ترقی کی رفتار بڑھانے کے لئے مرکزی حکومت بصورت دیگر مرکزی مدد فراہم کر سکتی ہے ۔ وزیر اعلی نے کہا کہ اگر بین علاقائی اور بین ریاستی سطح میں فرق سے متعلق اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چل جائے گا کہ بہت سی ریاستیں ترقی کے مختلف زاویے جیسے فی کس آمدنی، تعلیم، صحت، توانائی، ادارہ جاتی خزانہ اور انسانی ترقی کے انڈیکس پر قومی اوسط سے کافی نیچے ہیں۔ مثال کے طور پر بہار کی فی کس آمدنی مالی سال 2017-18 میں 28485 روپے تھی، جو ملک کی اوسط فی کس آمدنی 86668 روپے کا صرف 32.86 فیصد ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں 2005 میں فی کس بجلی کی کھپت صرف 76 یونٹ تھی، جو سال 2017-18 میں بڑھ کر 280 یونٹ ہو گئی جبکہ قومی اوسط کھپت 1149 یونٹ تھی۔مسٹرنتیش کمار نے کہا کہ "اگر انسانی ترقی کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو واضح ہوگا کہ تیزی سے ترقی کے باوجود اب بھی ہمیں لمبی دوری طے کرنی ہے ۔ 2005 میں ریاست میں زچگی کی شرح اموات (فی لاکھ آبادی پر) 312 تھی، جو سال 2016 میں گھٹ کر 165 رہ گئی ہے ، جبکہ قومی اوسط 130 ہے ۔ 2005 میں بچوں کی شرح اموات (فی ایک ہزار آبادی پر) 61 تھی جو سال 2016 میں گھٹ کر 38 رہ گئی ہے ۔