تازہ ترین

جتنا دباؤ ڈالنا ہے ڈال لو، پیپلز پارٹی ڈرنے والی نہیں، بلاول بھٹو

16 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ جتنا دباؤ ڈالنا ہے ڈال لو پیپلز پارٹی جھکنے اور ڈرنے والی نہیں ہے۔لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئے پاکستان کے نئے پنجاب کی صورتحال سب کے سامنے ہے، نالائق حکومت نے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے لیے نالائق وزیراعلیٰ منتخب کیا، وفاق جس طرح صوبوں کے وسائل و حقوق پر ڈاکہ ڈال رہا ہے اور پنجاب میں جو معاشی حملے ہورہے ہیں یہ عوام کے ساتھ سب سے بڑی نا انصافی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پرانے پاکستان میں پنجاب کا بجٹ 60 کھرب ہوتا تھا وہ اب نئے پاکستان میں 23 کھرب ہوگیا ہے، اس کٹوتی کا بوجھ یہاں کے عوام، غریب، کسان، بے روزگار نواجون کو اٹھانا پڑے گا۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ماہر اقتصادیات خبردار کر رہے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت  آئی ایم ایف بجٹ کو منظور کرتی ہے تو 80 لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہوں گے، حکومت غریبوں، مظلوموں کا حق ماررہی ہے اور امیر ترین لوگوں چوروں ڈاکووں کے لیے ایمنسٹی اسکیم دی جاتی ہے لیکن غریبوں، کسانوں، مزدوروں کے لیے کوئی ایسی اسکیم نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر صوبے کا بجٹ کم کیا جارہا اس سے زیادہ ظلم کیا ہوسکتا ہے،پاکستان کے عوام بہت بہادر ہیں اور ملک کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں لیکن جب صاف نظر آئے کہ امیروں کے لیے بیل آؤٹ اور ایمنسٹی جبکہ مظلوم پاکستانیوں کے لیے مہنگائی، غربت اور بے روزگاری ہو تو پھر یہ ایک نہیں 2 پاکستان ہیں، اس کے خلاف آواز بلند کرنا پیپلزپارٹی کا فرض ہے۔چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ عوام کے حقوق پر حملے کیے جارہے، پیپلزپارٹی اس معاشی دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گی، پہلے بھی کہا تھا کہ اگر یہ لوگ عوام دشمن بجٹ پیش کرتے ہیں تو پیپلز پارٹی سڑکوں پر نکلنے گی اور عوامی رابطہ مہم شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے عوام دوست بجٹ پیش کرنے کا موقع دیا لیکن جس طرح کا عوام دشمن بجٹ پیش ہوا یہ اس ملک کی معاشی خود کشی ہے، عمران خان نے کہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف نہیں جائیں گے لیکن انہوں نے وہاں جاکر پورے ملک کو معاشی خود کشی کروا دی۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہمارے جمہوری اور انسانی حقوق پر جو حملے ہورہے ہیں، اس کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا فرض ہے، 1973 کا ا?ئین، 18 ویں ترمیم اور ہمارے جمہوری حقوق حقوق پر حملے کیے جارہے ہیں، ہم یہ برداشت نہیں کریں گے۔