تازہ ترین

فرقہ پرستوں نے اردو کو مسلمانوں کے ساتھ جوڑ کر بڑا ظلم کیا

غیر ملکی زبانوں سے مرعوب ہونے کی قطعی ضرورت نہیں :ڈاکٹر فاروق

16 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//کشمیر یونیورسٹی میںکل23ویں کُل ہند اردو کتاب میلہکا افتتاح کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ اورپا رلیمنٹ ممبر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ریاست میں اردو کی موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو کھبی بھی کسی مخصوص طبقے،مذہب یا فرقے کی نہیں رہی،جبکہ قومی کونسل برائے فروغ اردو کے ڈائریکٹر شیخ عقیل احمد نے کشمیر کو اردو کا مرکز اور علم و ادب کا گہوارہ قرار دیا۔ ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے اس میلے کا اہتمام قومی کمیشن برائے فروغ اردو زبان نے کیا ہے۔تقریب میںکشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد بھی موجود تھے۔ میلہ کا افتتاح کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اردو بھارت کے گنگا ،جمنی تہذیب کی عکاسی اور نمائندگی کرتی ہے۔‘‘انہوں نے ریاست میں علاقائی زبانوں اور اردو کی موجودہ صورت حال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنی مادری زبان کے ساتھ ساتھ اردو زبان کی تعلیم وتدریس پربھی زوردینا چاہیے۔انہوں نے کہا’’ اردو ہندوستانی زبان ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیر کی سرکاری زبان بھی ہے۔‘‘ ڈاکٹر عبداللہ کا کہنا تھا کہ غیر ملکی زبانوں سے ہمیں مرعوب ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ اردو میںتمام علوم وفنون کا خزانہ موجود ہے۔ڈاکٹر شیخ عقیل احمد کہا کہ کشمیر چونکہ اردو کا مرکز ہے، علم و ادب کا گہوارہ ہے اور یہاں اردو کے چاہنے والو ںکی اچھی خاصی تعداد ہے، اس لیے قومی اردو کونسل نے اس بار کشمیر میں کتاب میلے کے انعقاد کیا ۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر ہمارے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے اور ہمیں کشمیر ی ادیبوں اور شاعروں سے اپنے رشتے کو اور بھی مضبوط کرنا ہے اور فروغ اردو کے منصوبوں میں کشمیری ادیبوں اور شاعروں کو خصوصی طور پر شامل کرنا ہے۔ پروفیسر طلعت احمد نے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی کونسل کے تعاون سے اردو زبان کی ترویج و ترقی کے لئے ہر پروگرام کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا’’اردو زبان کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہے بالخصوص جموں و کشمیر میں چونکہ اس کویہاں سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے،لہٰذااس کے فروغ کے لیے نہ صرف اعلیٰ سطح پر بلکہ بنیادی سطح پر بھی زور دینے کی ضرورت ہے۔‘‘
 
 
 
 

میری کتاب منظر عام پر آنے کے بعد ایک بڑا طوفان اٹھے گا

سرینگر//ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جب میری کتاب منظر عام پر آئے گی تو ایک بہت بڑا طوفان اٹھے گا۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں ایسی باتیں ہیں جن سے طوفان اٹھنا طے ہے۔میلے کے حاشئے پر انہوں نے کہا ’حضور میری کتاب میں ایسی باتیں ہیں کہ اللہ نجات دے، میں سمجھتا ہوں کہ طوفان اٹھے گا‘۔ تاہم انہوں نے مزید کوئی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا۔ذرائع نے بتایا کہ فاروق عبداللہ کی کشمیر پر دوسری کتاب اسی سال منظر عام پر آسکتی ہے جس میں انہوں نے دھماکہ خیز انکشافات کئے ہیں۔ اُن کی پہلی کتاب 'مائی ڈسمسل' سنہ 1985ء میں شائع ہوکر منظر عام پر آئی تھی۔یو این آئی