تازہ ترین

زراعت اور پچھڑے شعبوں پر بھی دھیان دینا چاہئے :گڈکری

15 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 نئی دہلی// سڑک ونقل وحمل کے وزیر نتن گڈکری نے صنعتی گھرانوں سے ملک کی ہمہ جہت ترقی کے لئے صنعتی شعبوں کی ترقی کے ساتھ ہی زراعت اور پچھڑے علاقوں میں ترقی کے لئے کام کرنے کی درخواست کی ہے ۔مسٹر گڈکری نے جمعہ کو یہاں ہندوستانی صنعتی تنظیم (سی آئی آئی) کی قومی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی کے لئے صنعتی ترقی بہت ضروری ہے لیکن ہماری بڑی آبادی زراعت پر منحصر ہے اس لئے زرعی شعبہ میں کیسے ترقی دی جاسکتی ہے اس کے لئے بھی صنعتی گھرانوں کو کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ پچھڑے علاقوں کی ترقی بھی سب کی ذمہ داری ہے اس لئے اس طرف بھی دھیان مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش نئی تکنیک کے استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے اس کے لئے ٹریننگ مراکز کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے ۔ صنعتی گھرانے اس کام میں آگے آئیں گے تو حکومت مدد کرے گی۔حکومت ایسے تکنیکی ٹریننگ کے ادارے کھول رہی ہے جن کے ذریعہ سے روایتی تکنیک کو مستحکم کرکے لوگوں کا مہارت مہیا کیا جارہا ہے ۔مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت کا مقصد روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا ہے اس کے لئے تکنیکی ترقی اور ماہر ملازموں کی ٹیم تیار کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کام کے لئے کارپوریٹ گھرانوں کو بھی سامنے آنا چاہئے ۔ صنعت گھرانے اس کام میں جو بھی مدد کرنا چاہیں گے حکومت ان کو اس کی اجازت دے گی اور حکومت کی طرف سے مدد بھی کی جائے گی۔مسٹر گڈکری نے کہا کہ حکومت روایتی صنعتوں کو ترقی دینے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔ روایتی کام کارکردگی کے ساتھ ساتھ آگے بڑھے اس کے لئے ان کو مہارت کی بنیاد پر ترقی دی جارہی ہے ۔ مہارت کے مراکز کے ذریعہ ملازموں کو جدید تکنیک کی ٹریننگ دی جارہی ہے تاکہ ملک کے روایتی پیداواروں کو عالمی سطح کا بنایا جاسکے اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کئے جاسکیں۔انہوںنے اس معاملے میں بانس کی صنعت کا ذکر کیا اور کہا کہ اس پر خصوصی دھیان دیا جارہا ہے اور بانس کی پیداوار کو نئی تکنیک کے ساتھ ترقی دی جارہی ہے ۔ بانس سے بنے ہوئے سامان کی ملک ہی نہیں بیرون ممالک میں بھی بہت طلب ہے ۔ بانس کا سامان بنانے کے لئے نئی تکنیک کا استعمال کئے جانے کے ساتھ ہی ملازموں کو ٹریننگ دی جارہی ہے ۔ حکومت اس سمت میں خصوصی دھیان دے رہی ہے یو این آئی۔