تازہ ترین

مودی اور عمران کرغزستان پہنچ گئے،آپسی ملاقات کا امکان معدوم

14 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی +اسلام آباد//ہند وپاک وزرائے اعظم شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان کے19ویں اجلاس میں شرکت کے لئے کرغزستان پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ اپنے اپنے ملکوں کی نمائندگی کریں گے۔ اس اہم اجلاس میں دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات شیڈول نہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی بہت سے ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کریں گے۔ وہ اس سمٹ سے الگ کرغستان کے صدر کے ساتھ بھی دو طرفہ بات چیت کریں گے۔وزیر اعظم نے بشکیک کیلئے روانگی سے قبل بدھ کی شام کہا کہ ہندوستان دو سال پہلے ایس سی اوکی مکمل رکنیت حاصل کرنے کے بعد سے اس کے مختلف اجلاسوں میں فعال طور پر سرگرم رہا ہے۔عمران خان اپنے دورے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 2سیشن سے خطاب کریں گے، اس کے علاوہ ایس سی او کے ارکان اور مبصر ممالک سمیت اہم بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندگان شریک ہوں گے۔اجلاس کی سائیڈلائن پر وزیر اعظم عمران خان کی شرکت کرنے والے ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات متوقع ہے ۔
 

مودی اور شی پنگ کے درمیان ملاقات

پاکستان پر دہشت گردی بند کرنے پر دیا زور

بشکیک//وزیراعظم نریندر مودی نے کرغزستان میں چینی صدر شی ز نپنگ کے ساتھ ملاقات کے دوران پاکستان کی طرف سے سرحد پار دہشت گرد ی کے مسئلے پر بات کی۔مودی نے کہاکہ انہیں امید ہے کہ اسلام آباد خطے میں امن و امان کو قائم کرنے کیلئے دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کرے ۔وزیراعظم مودی نے زی پنگ کے ساتھ کرغزستان شنگائی کانفرنس کے حاشیے میں دوبدو ملاقات کے دوران کیا ۔یہ نریندر مودی کے دوبارہ وزیراعظم ہند بننے کے بعد دونوں رہنمائوں کی پہلی میٹنگ ہے۔مودی نے کہاکہ پاکستان اپنی سرزمین پر بھارت کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیاں بند کردے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خوشگوار بننے میں مدد ملے گی۔
 
 

ایک نادر موقعہ:حریت 

ہند و پاک قیادت نزدیک آئے

نیوز ڈیسک
 
سرینگر //حریت (ع) نے کہا ہے کہ شنگھائی کانفرنس دونوں ملکوں کی قیادت کیلئے تعلقات کی نہج استوار کرنے کا بہترین موقعہ فراہم کررہی ہے، جس کا فائدہ اٹھایا جائے۔ چیئر مین میر واعظ عمر فاروق کی صدارت میںحریت کی ایگزیکیٹو کونسل ، جنرل کونسل اور ورکنگ کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں کہا گیا کہ وسط ایشیاء کے ملک کرغزستان میں منعقد ہونے جارہی شنگھائی تعاون کانفرنس ہند وپاک کی سیاسی قیادت کیلئے دونوں ممالک کے تعلقات میں جمی برف کو پگھلانے کا ایک نادر موقعہ فراہم کرتی ہے اورحریت امید کرتی ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر آپسی تعلقات اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کے حل کے لئے مثبت اقدامات کی جانب قدم بڑھائے گی۔ اجلاس میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ ہندوستان اور پاکستان اپنے فضائی راستوں پر عائد پابندیوں کو ختم کرکے فضائی رابطوں کو بحال کریں گے تاکہ ان فضائی راستوں سے سفر کرنے والے مسافروں کو آسانیاں پید اہوجائینگی اور ان پابندیوں کے نتیجے میں سفر کرنے والے لوگوں کو درپیش مشکلات کاازالہ ہوسکے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ حریت کانفرنس کا ہمیشہ سے یہ واضح موقف رہا ہے کہ صرف سیاسی جرات مندی سے عبارت اقدامات اور اپروچ کواپنانے سے ہی اس مسئلے کے دائمی حل کی جانب آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ اجلاس میں برصغیر ہند وپاک اور جموں کشمیر میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیل کے ساتھ غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں کشمیر میں جاری خون ریزی ، قتل و غارت گری، حقوق انسانی کی شدید پامالیوںجس کی وجہ سے آئے روز انسانی جانوں کا زیاں ہورہا ہے پر شدید فکر و تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں کہا گیا کہ کشمیری عوام کے تئیں حکمرانوں کی جانب سے اختیار کی جارہی جارحانہ پالسیوں اور ظلم و تشدد سے عبارت روئیوں سے نہ ماضی میں کچھ حاصل ہوسکا ہے اور نہ اب کے اس طرح کی پالسیوں سے کچھ حاصل ہونے والا ہے کیونکہ جموں کشمیر کی موجودہ تشویشناک صورتحال اصل میں مسئلہ کشمیر کے حل کے تئیں اختیار کی جارہی تاخیری طریق کار کا نتیجہ ہے ۔