تازہ ترین

عطیہ خون کرنے والوں کا عالمی دن

زندگی کو جلا بخشنے میں محوانسانی جذبوں کے حامل رضاکار انتظامیہ کی نظروں سے اُوجھل

14 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی

۔’166پوائنٹ خون عطیہ کرنے والارضاکار 3بار ریاستی ایواڑ سے محروم ‘

 
سرینگر//عالمی یوم خون عطیہ کناں پر ان رضاکاروں نے سرکار اور انتظامیہ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ166پوائنٹ خون کا عطیہ دینے والے شبیر حسین خان خاکی کو3بار ریاستی ایوارڈ سے ڈراپ کیا گیا۔ دنیا بھر میں14جون کو عالمی یوم خون عطیہ کنان منایا جاتا ہے،جبکہ ’ ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے‘ اْن8 دنوں میں سے ایک دِن ہے جو ہرسال عالمی ادارہ صحت کی طرف سے منایا جاتا ہے۔ امسال یہ دن ’’زندگی کا تحفہ دو،خون ہم سب کو جوڑتا ہے‘‘کے عنوان کے تحت منایا جائے گا یعنی لوگوں میں زیادہ سے زیادہ خون عطیہ کرنے کا شعور اجاگر کرنا اس سال کا خاص موضوع ہے۔یہ دن 14جون 1868 کوآسٹریلیا کے ڈاکٹر کارل لینڈ اسٹینئرکے یوم پیدائش کی مناسبت سے ہر سال14جون کو منایاجاتا ہے جنہوں نے خون کے اجزاء کو 4گروپوں میں تقسیم کیا تھا جس پر انہیں نوبیل انعام بھی ملا تھا۔دنیا بھر میں ایک طرف خون کا عطیہ دینے والے رضاکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے دن منایا جاتا ہے وہیں وادی میں رضاکاروں کو نظر انداز کئے جانے کابھی سلسلہ جاری ہے۔شہر خاص کے کمانگر پورہ حول سے تعلق رکھنے والے شبیر احمد خان خاکی نے اب تک رضاکارانہ طور پر166پوائنٹ خون کا عطیہ پیش کیاہے،جو ریاستی سطح پر ایک ریکارڈ ہے ۔ شبیر خاکی نے 1980سے خون کا عطیہ رضاکارانہ طور پر پیش کرنے کی شروعات کی جو اپنے آپ میں ایک مثال ہے ۔ شبیر خاکی کوآج بھی یاد ہے کہ پہلی مرتبہ انہوں نے اپنی والدہ کیلئے خون دیا تھا،اور اس دن انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ عطیہ خون کس قدر ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے’’ مجھے کئی ایک ایسے واقعات بھی یاد ہیں،جب خون کی عدم دستیابی سے مریض موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھے،اور میرے خون نے انہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے حیات بخش کیا،اور اس لمحہ جو خوشی مجھے حاصل ہوئی،اس کا متبادل دنیا میں اور کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔‘‘ شبیر احمد کا کہنا  ہے کہ تاہم سماجی میڈیا کی وجہ سے خون دینے والے رضاکاروں کو کافی سہولیات میسر ہوئی،جس کی وجہ سے بر وقت وہ خون کا عطیہ پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا’’ پہلے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر ہی انہیں معلوم پڑتا تھا،تاہم موبائل اور سماجی میڈیا نے جہاں دیگر شعبوں میں انقلاب لایا وہی رضاکاروں کیلئے یہ بھی منافع بخش ثابت ہوا،کیونکہ انہیں بروقت خبر ملتی ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ میرے خون سے اگر بچے کو چند لمحے بھی زندگی میسر آجائیں تو میرے لئے اللہ کی جانب سے یہ بہت بڑا اجر و انعام ہوگا۔ شبیر خاکی کا خون ’’ائو نگیٹو‘‘ ہے،جو کہ محال ہی پایا جاتا ہے،اور اگر اس گروپ میں کوئی مریض خون کی کمی میں مبتلا ہوتا ہے،تو اس خون کو حاصل کرنے میں کافی دشواریاں پیش آتی ہیں،تاہم ان لوگون کیلئے شبیر مسیحا سے کم نہیں۔شبیر خاکی کے طرز پر ہی دیگر خون عطیہ کرنے والے رضاکاربھی اس کو عبادت کا ایک درجہ سمجھتے ہیں۔ با لہ ہامہ سرینگر سے تعلق رکھنے والے شوکت علی وانی اب تک94پوائنٹ،جبکہ ماگام بڈگام سے تعلق رکھنے والے ماسٹر سجاد80اور بمنہ سرینگر سے تعلق رکھنے والے غلام حسن میر55پوائنٹ خون کا عطیہ دے چکے ہیں۔ رضاکاروں نے تاہم سرکار اور انتظامیہ کے علاوہ سماج کی طرف سے انہیں نظر انداز کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ شبیر حسین خاکی کا کہنا ہے کہ انہیں3بار ریاستی ایوارڈ کی سفارش کی گئی ،تاہم انہیں ہر بار نظر انداز کیا گیا۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ’’ صوبائی کمشنر کشمیر کی طرف سے انکے ایوارڈ کیلئے 3بار سفارش کی گئی تھی،تاہم جنرل ڈپارٹمنٹ سے انکے دستاویزات کو ہی غائب کیا گیا‘‘۔ شبیر حسین نے سوالیہ انداز میں کہا کہ وہ رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ پیش کرتے ہیں اور اس کا معاوضہ بھی انہیں اللہ کے حضور میں ملے گا،تاہم سماجی اور انتظامی سطح پر انکی حوصلہ شکنی کی جاتی ہیں۔ سماجی کارکن اعجاز طالب کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ شبیر حسین خاکی جیسے شہریوں کی حوصلہ افزائی کیلئے نہ صرف اعزازات دیئے جانے چاہئیں بلکہ ان کی گفتگو کے ذریعے ان کے خیالات کے ذریعے خون عطیہ کرنے کے جذبہ کو بھی پروان چڑھانا چاہئے۔جموں کشمیر کی سر زمین خون کے عطیات کے حوالے سے بھی زرخیزہے، وادی میں خون کے عطیات کے لئے لوگ پرجوش ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ خون کے عطیہ کے تعلق سے دیہی علاقوں کے عوام میں بیداری لانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حادثات کے موقع پر بری طرح زخمی ہونیوالے افراد کیلئے خون کا عطیہ کرتے ہوئے ان کی جان بچانے کیلئے اہم کردار نبھانے کاجذبہ دلوں میں پیدا ہوناچاہئے،جبکہ انسانیت کاجذبہ اگر دلوں میں ہو تو اس سے کئی افراد کو بچایا جاسکتا ہے۔وادی کے سب سے بڑے امراض زنانہ اسپتال کے شعبہ ہیماٹولیجی اور بلڈ بنک افسر ڈاکٹر جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ اس دن کو منانے کا مقصد مریضوں اور خون کا عطیہ دینے والوں کے درمیان روابط بنانا ہے،جبکہ ان  مریضوں کی داستان کو اجاگر کرنا ہے،جن کی زندگی عطیہ خون سے بچ گئی۔ 
 
 
گورنر کا پیغام
سرینگر//گورنر ستیہ پال ملک نے 14 جون کو عالمی سطح پر ہر سال منائے جانے والے ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں صحت مند انسانوں میں رضا کارانہ طور پر خون کاعطیہ دینے کے بارے میں بیداری کرنی ہوگی۔گورنر نے کہا کہ خون کا عطیہ دینے سے نہ صرف دوسرے لوگوں کی جان بچائی جاسکتی ہے بلکہ خون کا عطیہ دینے والا انسان بھی صحت مند رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے کے انعقاد سے ہمیں خون کا عطیہ دینے کا مقدس فریضہ انجام دینے کا موقعہ ملتا ہے۔گورنر نے کہا کہ ہر سال بلڈ بنک چلانے والے لوگ لاکھوں لوگوں کی جان بچانے میں اپنا کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے ہر صحت مند انسان سے اپیل کی کہ وہ آگے آکر باقاعدہ طور پر خون کا عطیہ دیں۔