تازہ ترین

سرفراز سینئر کھلاڑیوں کی بدترین فارم سے پریشان

14 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
لندن؍پاکستان کے کپتان سرفراز احمد بھی سینئر کھلاڑیوں خاص طور پر شعیب ملک کی بدترین فارم سے پریشان ہیں۔ آسٹریلیا کے خلاف اہم میچ میں صفر پر آؤٹ ہونے کے بعد سابق کپتان کے کیریئر پر کئی سوالات اٹھ گئے ہیں۔سرفراز احمدنے شعیب ملک کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ سینئر کرکٹر ہیں اور انہیں امید ہے کہ ان کا تجربہ آئندہ میچوں میں کام آئے گا، مجھے یقین ہے کہ ان کی طرف سے ایک اچھی اننگز آنیکو ہے، شاید بھارت کے میچ میں ہو۔کپتان کا کہنا ہے کہ مجھے اپنی ٹیم پراعتماد ہے، ہم صورتحا ل بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم ہر میچ کو فائنل کی طرح کھیلیں گے۔ کرکٹ میں منصوبوں پر عمل کرنا بہت اہم ہوتاہے۔ وہ ٹیم جواپنے منصوبوں پر عمل کرتی ہے،وہ میدان مار لیتی ہے۔ یہ آسٹریلیا کے خلاف ہمارے میچ کا خلاصہ ہے۔اگر ہم دو سے تین اوور اور کھیل لیتے تو ہم ہدف تک پہنچ جاتے۔ ہم نے مکمل طور پر نہیں، بلکہ کچھ حد تک، اپنے منصوبوں پر عمل کیا۔ سرفراز کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے مخالفین سے بھی زیادہ غلطیاں کیں اور آخر میں یہ واضح فرق تھا۔میرے حساب سے آغاز اچھا تھا۔ بارش ٹل گئی تھی اورموسم کی صورتحا ل تبدیل ہوگئی تھی، ہمارامنصوبہ تھا کہ اگر ہم ٹاس جیتے تو پہلے فیلڈ نگ کریں گے اور پھر انہیں 270-280 تک محدودرکھیں گے۔شکست کے زخموں سے چور پاکستانی کرکٹ ٹیم جمعرات کوٹاؤنٹن سے مانچسٹر پہنچ گئی ہے جہاں اتوار کو ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا میچ پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جا ئے گا۔بھارت کی ٹیم ٹورنامنٹ میں زبردست فارم میں ہے۔سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ فیلڈنگ مطلوبہ معیار کی نہیں تھی، بلے باز سیٹ ہو کر آؤٹ ہوئے جبکہ بولرز نے پہلے پندرہ اوورز میں اچھی بولنگ نہیں کی۔ وہ اہم ٹاس جیتے کیونکہ صبح کے وقت وکٹ فاسٹ بولرز کے لیے مدد گار تھی تاہم محمد عامر کے سوا دیگر بولرز نے صحیح جگہ بولنگ نہیں کی اور کافی رنز دیئے۔شائقین کرکٹ سوال کررہے ہیں کیا پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میں ایک بار پھر شائقین کو دھوکا دے گی یا گرتی گراتی ٹورنامنٹ کا اختتام دھماکے کے ساتھ کرے گی؟ویسٹ انڈیز کے بعد آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست نے سینئر بیٹسمینوں کی غیر ذمہ داری کی قلعی کھول دی ہے جبکہ کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ پچ پر گھاس تھی ہم نے خراب بولنگ کی، محمد عامر کے علاوہ کوئی بولر پچ سے مدد نہ لے سکا۔یہ وکٹ 270، 280 کی تھی لیکن پاکستانی ٹیم نے زیادہ رنز دے ڈالے۔