تازہ ترین

نوائے سروش!!!

3 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل
اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل-
عذاب دانش حاضر سے ہوں با خبر
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل
(علامہ اقبال)
اور آج کے موضوع کی وضاحت سے قبل فارسی زبان کا یہ شعر رقم کرنا لازمی بن گیا:-
بماند ناز شرین بے خریدار
اگر خسرو نہ باشد کوہکن ہست۔
بلا شبہ اس امر تلخ میں کوئی دو رائے نہیں کہ موجودہ دور میں سائینسی اختراعات نے سفر حیات کے انداز بدل ڈالے البتہ برق رفتاری سے بدلنے والی اس دنیا کے میر و فقیر ، پیرو جواں اور خورد کلاں بلکہ مردوزن کو بس مادی برتری اور انا و لا غیری کی ہوس نے بے خودی  کے عالم اور بدمستی کے شعلوں کی نذر کر دیا ہے۔چشم سر بھی کور تو چشم قلب بھی نا بینا۔جب انسانی معاشرے میں زبوں حالی کا یہ حال تو زبدہ کائنات اور اشرف المخلوقات کی تخلیق کا مقصد مخدوش بھی اور مفقود بھی  ہونا، ایک خواب یا سراب نہیں بلکہ ایک نوشتہ تحریر بر سنگ دیوار ، ایک ایسا نقش ہے جسے مٹانا ممکنات کی حدود میں ورود کر جاتا ہے۔اطراف عالم میں رونما ہونے والے دلخراش ور جگر سوز بہیمانہ واقعات کا تسلسل بتا رہا ہے کہ شاید تقدیر کے قاضی کا فیصلہ طے ہو چکا ہے کہ موجودہ دور کی انسانیت کی مخرب العادات روش نے اللہ کی اس سر زمین کو اسقدر مکدر کردیا ہے، اتنی عفونت اور آلودگی کا زہر بکھیر دیا ہے کہ اب اسکے وجود کو حرف غلط اور نقش باطل مان کر صفحہ ہستی سے پوری قہاری کے ساتھ ملک عدم کے ابدی تعاذیب خانے میں بے نوائی کی زنجیروں میں جکڑ کر اپنے مذموم اعمال کے ثمرات کا مزہ چکھنے کے لئے، قعر ذلت کی گہرائیوں میں بٹھا دیا جائے اور خلافت ارضی کا تاج زریں انسانی نسل کی ایسی سعید ارواح کا مقدر کر دیا جائے جنہیں اس نعمت پے ناز اور اس احسان کا احساس ہو کہ انسان ہونا بذات خود ایک عظیم اعزاز ہے جسکی جتنی توقیر کی جائے اتنی ہی سرفرازی اور سر بلندی انکے وجود کو کرہ ارضی کے چہرے پے بدر کامل کی طرح تابندہ بنا دے اور ہاں انسانی تخلیق کے پس پردہ یہی مشیعت ایزدی کار فرما ہے۔لیکن کیا معراج کی رفعتوں کی سرحد پے قدم جمانے کے لئے  موجودہ روش معاون ہوسکتی ہے؟ہر گز نہیں جب تک نہ زندگی کے سر نہاں کی حقیت کو جہالت اور تاریخی کی اس وادی بے ثبات میں مشعل علم در دست لئے ،تلاش کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور انسانیت کو اس نہج پے ڈالنے کے لئے انسانی تاریخ میں جتنی تگ و دود  اورجد و جہد کی آج ضرورت ہے اس سے قبل شاید کسی دور میں نہ رہی ہو۔مگر اس ذمہ داری کو نبھانے اور ابلیسی للکار سے نبرد آزما ہونے کی خاطر ایک کردار کی ضرورت ہے اور وہ کردار خودی کی تربیت کے بغیر محال ہی نہیں نا ممکن بھی ہے اور خودی کی عمارت کی تعمیر صرف اور صرف ان تعلیمات سے ہی ممکن ہے جن کی تبلیغ و تشہیر کے لئے ازمنہ مختلفہ میں لاکھوں انبیاء￿  کو مبعوث کیا گیا اور پھر اس سلسلے کو خاتم الانبیاء￿  سید المسلین جناب محمد الرسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے  ساتھ ہی ایک مکمل ضابطہ حیات کے ساتھ روک دیا گیا اور یہی ضابطہ حیات جو دنیا کا سب سے عظیم معجزہ ہے آج بند غلافوں میں کل حشر کے میدان میں امت کی غفلت کی شکایت کے لئے آمادہ ہے۔جب حالت یہاں پہنچی ہو تو منزل کا تعین کرنا ایک آسان سا کام ہے۔
عصری تہذیب کی بو قلمونی اور عقیدے کا فساد نئی نسل کی رگ رگ  میں اسقدر سرایت کر گیا ہے کہ رشتے ناطے ایک اخلاقی مجبوری اور انسانی ضرورت نہیں بلکہ محض نفس امارہ کی تسکین کا ذریعہ بن چکے ہیں اور  حصول تعلیم ایک مکر و فریب کا ہتھکنڈا جسے کسی دور میں بیگانیآزماتے تھے مگر اب یگانے بھی اس مسموم نشتر سے کچھ مخصوص رشتوں کے تقدس کے وجود کو بھی بلا کسی عار کے مضروب کر رہے ہیں۔شرم و حیاء￿  کی دیواروں میں شگاف پڑھ چکے ہیں تو صدق مقال اور اکل حلال کی تمیز مٹ چکی ہے، وفاداری کی کلیاں مسل رہی ہیں تو جفاکاری کے خارزار سر سبز و شاداب ہو رہے، ہمدردی کے چراغ گل ہو رہے ہیں تو قساوت قلبی کی گھٹائیں چھا رہی ہیں۔غرض طوفان ادھر بھی ہے تو ادھر بھی۔
علم ایک شجر ہے تو عمل ثمر اسکا۔ذائقہ ثمر شیرین تبھی ہو سکتا ہے جب شجر کی اصل بھی شیرین ہو۔آج کے اس پرآشوب دور میں جہاں مادر پدر کی امیدوں کے حصار کے در و دیوار، اولاد کی بغاوت اور خود سری سے لرز رہے ہیں، جہاں شفقت پدری کی نوید کا ہلال زریں گہنا چکا ہو، وہاں گردش لیل و نہار میں سکون کے لمحات ملنا کسی بحر ظلمات میں چشمہ حیواں بدست لانے کے مترادف ہے۔آخر ایسی بے کیفی و بے چینی کے پس پردہ کون سے محرکات ہیں جن پے لاکھ کوششوں کے باوجود قابو نہیں پایا جا رہا ہے۔ماجرا دراصل کچھ اور نہیں مگر یہ کہ اب رہبر و رہزن میں کوئی خاص فرق باقی نہیں، اب حاکم و محکوم کے مرض میں مماثلت بھی ہے اور مطابقت بھی، اب میاں شوہر کے رشتہ ازدواج میں وہ پاکیزگی اور خلوص باقی نہیں، اب امام و مقتدی علم میں، عمل میں، شرافت میں، عقیدے میں اور طرز فکر میں ایکدوسرے سے زیادہ مختلف نہیں اور اگر سچ پوچھئے تو آج کا خواندہ طبقہ،  سوائے معدودے چند،شاطر ہی نہیں بلکہ تماتر خرافات کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی بن چکا ہے جبکہ ناخواندہ طبقہ مقابلتاً اخلاقی اقدار اور جذب باہمی کی حدود کا احترام کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔
اس مرض مہلک کی وجہ وہ عصری علوم ہیں جن کی بدولت نئی نسل کی قوت تدبر مفلوج ہو چکی ہے اور اب کیفیت یہ ہے کہ لاطینی زبان کے گنتی کے الفاظ از بر کر کے نوخیز طبقہ ذاتی تفوق کیزم باطل کی زلفوں میں اسیر ہوچکا ہے۔اسی لئے علامہ اقبال نے بجا فر مایا ہے کہ:-
عذاب دانش حاضر سے ہوں باخبر
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل خلیل۔
متاع قلیل کی بازی کو بری طرح ہارنے سے ضروری ہے کہ عصری تہذیب کے تیزاب سے بچنے کے لئے فرقان حمید اور سیرت نبوی کے مطالعہ کو اپنی عمل زندگی کا مسلسل مشغلہ بنایا جائے اور جاسوسی ناولوں اور ہزار داستان کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کی نحوستوں سے کنارہ کشی اختیار کی جائے اور منصب اور جاہ و حشمت کی دہلیز پے جبیں سائی سے احتراز کیا جائے کیونکہ یہ معبودان باطل انسانیت کش اور اخلاق سوز اعمال کی ترغیب دیتے ہیں اور انسانی تخلیق کا مقصد صد ہزار صدموں کی نذر ہو رہا ہے۔یہی وہ طرز فکر جس سے عدل و انصاف کی بنیادیں مستحکم ہونگی، قرابت کے رشتوں میں جان پڑیگی اور بغاوت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نجات ملیگی اور پھر باپ کو جنت کا دروازہ اور  ماں کو جنت کی ضمانت سمجھا جائیگا۔شفقت پدری کا سمندر ٹھاٹیں ماریگا اور والدین اپنی اولاد کے وجود کو اپنی خوش بختی سے تعبیر کرینگے دکھ درد کا احساس ہماری زندگی کے شب و روز میں شیر و شکر ہوگا اور عرصہ حیات ایک راحت !!!
ضرروت بس اس امر کی ہے کہ شیرین کا سا مزاج ناز پیدا کرنا ہوگا تو خسرو بھی اور فرہاد بھی داد تحسین کے لئے پا ایستادہ نظر آئینگے۔
موضوع تفسیر طلب ہے البتہ رہوار کلام کو با دل ناخوستہ روکتے ہوئے بس عرض اتنی ہے :-
 
ہو علم سے خودی محکم تو غیرت جبریل
اگر ہو عشق سے پختہ تو صور اسرافیل
مگر یہ تفوق اور یہ منصب فرقان مجید اور سیرت نبوی پے عمل پیر ہونے کے بغیر ناممکن ہے۔شکریہ والسلام
 
خیر اندیش
طارق ابراہیم سوہل
نیل،چدوس، تحصیل بانہال
فون نمبر 8493990216