تازہ ترین

صیام اور انفاق فی سببیل اللہ

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو روشنی

31 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال احمد پرے ہاری پاری گام ترال
ماہ   صیام قرآن کا مہینہ ہے۔ یہ رحمتوں کا مہینہ ہے۔ صبر، پرہیزگاری اور نیکیوں کا مہینہ ہے ۔ یہ غربت و افلاس ختم کرنے کا مہینہ ہے ۔ یہ اخوت و بھائی چارہ قائم کرنے کا مہینہ ہے ۔ رمضان المبارک کا مہینہ سایہ فگن ہوتے ہی آقائے نامدار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مبارک زندگی کا رنگ ہی بدل جاتا تھا۔ آپ صلعم کی تمام عبادات میں بے حد اضافہ ہو جاتا تھا۔ آپ صلعم لوگوں کے لیے بڑے ہمدردانہ رویہ رکھتے، فیاضی کا مظاہرہ فرماتے،  حسن سلوک سے پیش آتے تھے ، ضرورت مندوں کا خیال فرماتے اور یتیموں کا والی بن جاتے تھے۔ 
آپ صلعم کا یہ اولین وصف رہا ہے کہ آپ صلعم کے رگ رگ میں ایثار و ہمدردی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ آغاز نبوت کے وقت آپ صلعم ایک نہایت کامیاب اور تاجر کی زندگی بسر کرتے تھے ۔ ایک طرف عرب میں آپ صلعم کی ذہانت، فراست اور حسن تدبیر کی بے مثال ساکھ تھی تو دوسری طرف حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کر کے آپ کے سارے مال کا مالک ہونا طے تھا جو قریش کے دوسرے بڑے تاجروں کے مجموعی مالیت سے کم نہ تھا۔ لیکن آپ صلعم نے اس مال پر مالکانہ حقوق حاصل ہوتے ہی نہایت دریا دلی، خوش فہمی اور سخاوت کے ساتھ سورج کے غروب ہونے سے پہلے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا۔  یہ مقدس مہینہ اب اپنے آخری عشرہ سے گزر رہا ہے اور عنقریب ہم سے جدا ہونے والا ہے۔ لہذا اس کی حق ادائی پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ اللہ اور اللہ کے رسول صلعم کی خوشنودی حاصل ہو کر اپنا بھیڑا پار لگائے ۔
قرآن و حدیث میں انفاق فی سببیل اللہ کی اہمیت :
انفاق قرآن مجید کی ایک اہم ترین اصطلاح ہے جو صدقات، خیرات و زکوٰۃ کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ انفاق کی اصطلاح اصل میں لفظ 'نفاق سے نکلا ہے جس کے لفظی معنی ہے وہ سرنگ جس کے دو راستے ہوں۔ کہ مال کو ایک طرف سے حاصل کیا جائے تو دوسری طرف خرچ بھی کیا جائے ۔ اس طرح قرآن مجید کی اصطلاح "انفاق فی سببیل اللہ" سے مراد اللہ کی خوشنودی کے خاطر اس کے ضرورت مند بندوں پر اپنا مال خرچ کرنا ہے ۔ قرآن و سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشادات میں اس کی بڑی ترغیب دی گئی ہے تاکہ اخلاقی اور روحانی بیماری کو دور کرنے کے علاوہ سماجی توازن ( Balance) کو بھی برقرار رکھا جائے ۔ قرآن نے ایک ایسا لائحہ عمل تجویز کیا ہے کہ نفاق جیسے مرض کا علاج انفاق ہے جو انسان کے دل سے حب مال کو نکال کر جذبہ ایثار پیدا کر دیتا ہے۔ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ عین اسی طرح جس طرح طب میں ایک مرض کا علاج دو طرح سے یعنی حفاظتی اور معالجاتی  ( Prevention and Cure) طرز کا کیا جاتا ہے۔ 
انفاق کا موضوع واحد موضوع ہے جس پر قرآن حکیم نے اہل ایمان کو مسلسل کئی رکوع کی آیات میں ترغیب دی ہے ۔ اس مبارک مہینے میں ہمیں بدنی عبادات کے علاوہ مالی عبادات بھی کرنی چاہیے۔ اس مقدس مہینے میں آپ صلعم کے انفاق کا معمول تیز ہواؤں کے مانند ہوا کرتا تھا۔ حالانکہ بدنی عبادت کے مقابلے میں مالی عبادت بہت ہی زیادہ گراں گزرتی ہے وہ بھی جب ہر طرف مادیت پرستی نے اپنا جال بچھا دیا ہو۔ حرص اور لالچ نے اپنے سایہ تلے رکھا ہو۔ سود خوری نے مکڑی کے جالے کی طرح باندھ رکھا ہو۔ دنیا کے رنگین اور عالیشان گاڑیوں اور محلوں نے اپنی طرف راغب کیا ہو۔ اسی لیے اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ " جو اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں۔" (الحشر :9) اسی طرح دوسری جگہ یوں فرمایا کہ "نفس کی حرص سے بچنے والے کامیاب ہو گئے۔" (التغابن:16)
مذکورہ آیات مبارکوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب و کامران شخص وہی ہے جو تنگ دلی، پست حوصلگی و بخل سے محفوظ رہا اور بہت ہی حوصلہ مندی و کشادہ دلی سے اپنی زندگی گزار رہا ہو۔ سورتہ الھمزہ کے اندر واضع طور پر بیان کیا گیا ہے کہ مال کو گن گن کر رکھنے والوں کے لیے حطمة کی آگ ہے جس میں انہیں ڈال دیا جائے گا ۔ایسے لوگوں کو بینکوں کے اندر کھاتے بھرے رکھنا، زمین و جائیداد خرید کر رکھنا، کوئی کام نہیں دے گا۔ یہاں تک کہ اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرے۔خلوص کے ساتھ اللہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی مثال قرآن کریم نے انتہائی خوبصورت انداز میں یوں بیان فرمائی کہ " ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ تعالٰی کی رضامندی کے خاطر، دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، اس باغ جیسی ہے جو اونچی زمین پر ہو اور زور دار بارش اس پر برسے اور وہ اپنا پھل دگنا دے اور اگر اس پر بارش نہ بھی برسے تو پھوار ہی کافی ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔" (البقرہ:265) جس قدر خلوص کے ساتھ اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا جائے اتنا ہی اللہ کی طرف سے اس کا اجر و ثواب  زیادہ ہو گا۔ اور جو شخص ریاکاری، دکھاوے، واہ واہ یا نام نہاد ہونے کی نیت سے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ قرآن پاک نے ایسے شخص کی مثال یوں بیان کیں کہ "جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کر رہے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ ان لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اس سے برباد کر کے رکھ دیا ہے،  اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا درحقیقت یہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔" (آل عمران:117) اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ دکھلاوے، احسان جتلانے اور بے دلی سے مال خرچ کرنے سے ہمیشہ پرہیز کرنا چاہیے ۔ اپنی نیت کو درست رکھنا چاہیے تاکہ بہترین معاوضہ کا مستحق بن جائے ۔
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ جب قرض حسنہ سے متعلق آیت مبارکہ قرآن کریم میں نازل ہوئی تو حضرت ابو الوحداح رضی اللہ عنہا انصاری حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور صلعم کے دست مبارک پر عہد کر کے  600 کھجور کے درختوں پر مشتمل اپنا ایک قیمتی باغ اللہ کی راہ میں دے دیا۔ 
قرآن نے واضع کر دیا کہ ایک شخص کو اپنی محبوب چیز خرچ کئے بغیر بلند مقام حاصل ہونا ناممکن ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلعم اور آپ صلعم کے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی اجمعین نے چوں و چراں کیے بغیر اپنا سب کچھ قیمتی اثاثہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا ہے ۔  اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ "تم نیکی کے بلند مقام تک نہیں پہنچ سکتے جب تک وہ چیزیں خرچ نہ کرو جو تمہیں زیادہ محبوب ہے۔" (آل عمران)
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ساری چیزوں میں سب سے زیادہ محبوب باغ 'تبیرحاء کو اللہ کی راہ میں صدقہ کیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہا زی النورین نے مدینہ میں 'رومہ کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کیا جس سے اللہ تعالٰی نے اتنی برکت دی کہ اس کے ارد گرد کھجوروں کا ایک بڑا باغ بھی نشو و نما پا گیا جو آپ رضہ کے لیے صدقہ جاریہ رہا۔ قرآن کریم نے سورتہ القلم میں باغ والوں کا قصہ عبرت کے طور پر بیان کیا جنہوں نے اپنے والد کے انتقال کے بعد اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرنے سے، برے ارادے اور کھوٹی نیت کی وجہ سے اپنے باغ کو تباہ و برباد ہونےکا سبب بنایا اور اپنے اوپر ظلم کیا۔ 
ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس دو عورتیں ہاتھوں میں کنگن پہنے ہوئی آئی۔" آپ صلعم نے پوچھا کیا تم نے اس کی زکوٰۃ دی ہے؟  انھوں نے عرض کیا نہیں۔ اس پر آپ صلعم نے فرمایا کہ کیا تم یہ پسند کرتی ہو کہ قیامت کے دن تمہیں اس کے بدلے آگ کے کنگن پہنائے جائے؟" (ابو داؤد)قیامت کے روز ہم سے ہمارے مال  کے متعلق ضرور بالضرور پوچھا جائے گا ۔ اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ " ابن آدم کے پاؤں اس وقت تک اپنی جگہ سے جنبش بھی نہیں کریں گے جب تک اس سے ان پانچ چیزوں کے متعلق معلومات نہ کر لی جائے گی؛  (1) عمر کہاں لگائی؟ (2) جوانی کہاں ضائع کی؟ (3) .مال کہاں سے کمایا؟ (4) کہاں خرچ کیا؟ اور (5) جو علم حاصل کیا اس پر کتنا عمل کیا؟(الترمذی)رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ "جو شخص کسی مسلمان کو ضرورت کے وقت کپڑا پہنائےگا، اللہ تعالٰی اس کو جنت کا سبز لباس پہنائے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کو بھوک کی حالت میں کچھ کھلائے گا، اللہ تعالٰی اس کو جنت کے پھل کھلائے گا- جو شخص کسی مسلمان کو پیاس کی حالت میں پانی پلائے گا، اللہ تعالٰی اس کو جنت کی ایسی شراب پلائے گا جس پر مہر لگی ہوئی ہوگی۔" (ابوداؤد، الترمذی) تمام انبیاء کے سردار حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی خواہش ہے کہ ہم اپنے مال و دولت کی ایک مقدار غریبوں، یتیموں، محتاجوں، مسکینوں اور بیواؤں پر خرچ کریں۔ حدیث المبارک  میں یہاں تک بھی فرمایا گیا ہے کہ "اگر کسی نے حلال کمائی کا ایک کھجور بھی صدقہ کیا تو وہ کھجور قیامت کے روز پہاڑ جیسے اجر کا سبب بنے گا ۔" ( البخاری)
ریاست جموں و کشمیر میں عمومآ اور وادی کشمیر میں خصوصاً لاکھوں کی تعداد میں یتیم، مسکین، محتاج، بیوہ اور نیم بیوہ کے علاوہ پلیٹ سے متاثرہ افراد، انکاونٹروں سے تباہ کیے گئے مکانات اور مذہبی و سیاسی قیدی نظر آرہے ہیںاور آئے روز ان میں اضافہ ہی ہوتا ہے ۔ اس مبارک مہینے میں کئیں غریب، نادار، لاچار، بےکس، ضعیف،کمزور، ناتوان، بیمار، مفلوک الحال، فقیر، خیراتی و فلاحی ادارے، اسلامی مدارس، یتیم خانے اور دیگر کار خیر کرنے والے ادارے شہر و دیہات، محلہ محلہ، مسجد مسجد امداد و اعانت کے خاطر اسی امید سے آتے ہیں کہ مسلمان اس مہینے میں دل کھول کر مالی تعاون کریں گے ۔ اس مقدس مہینے میں فیاضی، غرباء کی دل جوئیاں اور کشادہ قلبی کا اظہار کر کے اللہ کی راہ میں اعلانیہ و خفیہ طریقے سے خرچ کریں تاکہ ان کی کفالت ہو سکے۔لیکن اس بات کا خیال ضرور رکھے کہ کہیں اپنے رشتہ داروں میں، اپنی بستی یا محلے میں ایسا کوئی تنگ دست، مقروض یا مسکین تو نہیں جو اپنا ہاتھ پھیلانے سے شرم محسوس کررہا ہو اور زندگی کی کسمپرسی کی حالت زار پر ہو۔ تو اس صورت میں ان کا خاص خیال رکھ کر اپنے صدقات و زکوٰۃ سے مالی امداد کریں۔ اس میں دوہرا اجر ہے اور رمضان المبارک میں کئیں گنا بڑا دیا جاتا ہے۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے مبارک قول کے مطابق اصل مسکین وہ بندہ ہے جس کے پاس اپنی ضرورتیں پوری کرنے کا سامان بھی نہ ہو اور کسی کو اس کی حاجت مندی کا احساس بھی نہ ہو کہ صدقہ سے اس کی مدد کی جائے اور نہ وہ چل پھر کر لوگوں سے سوال کرتا ہے ۔ لہذا ایسے مستحقوں کی نشاندہی کر کے انہیں بھر پور امداد کرنے میں پہل کرنی چاہیے ۔
زکوٰٰۃ کس کو دیں؟
زکوٰۃ ایمان کا ایک بنیادی فرض ہے جس سے ہر صاحب نصاب کو بلا تاخیر نماز کی طرح قائم کرنا چاہیے ۔ قرآن کریم میں نماز کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ کا بھی حکم آیا ہے ۔ اپنے مال کو قمری سال گزرنے کے فوراً بعد اڈھائی حصہ ادا کرنا ضروری ہے ۔ اور اس کے ادا نہ کرنے کی زبردست وعید ہے۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے مال کو رمضان المبارک سے اگلے رمضان المبارک تک زکوٰۃ کا حساب رکھا جائے تاکہ غیر رمضان کے مقابلے میں اس مقدس مہینے میں زیادہ سے زیادہ ثواب کا مستحق ہو جائے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ "صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور (زکوٰۃ جمع کرنے والے) عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گر دنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر پر (خرچ کرنے کے لیے ہیں)،یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے" (التوبة:60)اس آیت مبارکہ کی رہنمائی سے یہ آٹھ مصارف میں واضع فرمایا گیاجو (1) فقیر (2) مِسکین (3) عامِل (4) رِقاب (5) غارِم (6) فِیْ سَبِیْلِ اللہ (7) اِبن سبیل (یعنی مسافر) جو زکوٰۃ کے مستحق قرار دیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں آپ مفتیان کرام، علماء مشاءق اور دیگر اسلامی اسکالروں سے رہنمائی حاصل کرے۔
زکوٰۃ ادا کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ زکوٰۃ کی رقم کو فقراء و مساکین اور دیگر مصارفِ کو دے کر اس کا مالک بنا دیں۔
زکوٰۃ مندرجہ ذیل چیزوں پر فرض ہے:1- سونا جب کہ ساڑھے سات (7.5) تولہ یا اس سے زیادہ ہو۔2- چاندی جب کہ ساڑھے باون (52.5) تولہ یا اس سے زیادہ ہو۔ اور
3- روپیہ پیسہ اور مال تجارت جب کہ اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو۔ الغرض سونا چاندی، نقدی، مال تجارت میں سے کوئی ایک یا مل کر ان کی مالیت جب چاندی کے نصاب کے برابر ہو تو اس پر زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔
انفاق فی سببیل اللہ کے آداب:
ان آداب کو ملفوظ نظر رکھ کر جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنا مال خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت کے بے شمار فوائد سے بہرہ ور فرماتے ہیں۔1-محبوب چیز کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنا چاہیے۔ (مزید تفصیل کے لیے آل عمران کی آیت 93 دیکھیے )2- احسان جتلانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ (البقرہ: 262)3- دکھلاوا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ (البقرہ: 264) 
4-  رضائے الٰہی کی طلب کی خاطر خرچ کرنا چاہیے ۔ (البقرہ:265)5- پاکیزہ اور حلال مال کو ہی خرچ کرنا چاہیے ۔ (البقرہ: 267)6- ضرورت سے زائد مال کو ہی خرچ کرنا۔ (البقرہ: 219)
7- اعلانیہ اور خفیہ دونوں طرح سے مال خرچ کرنا چاہیے ۔ (البقرہ: 270-71)8- خوددار تنگ دستوں پر خرچ کرنا۔ ( البقرہ:273)9- نفس کی حرص سے بچنے کے لیے خرچ کرنا۔ ( التغابن: 16)10- الله تعالیٰ کی محبت کے خاطر خرچ کرنا۔ (الدھر:8)11 تاوان سمجھ کر خرچ کرنے سے بچنا- (التوبہ: 98)12- اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرنا۔ (الطلاق:7)
آج امت مسلمہ کا المیہ یہ ہے کہ منظم طریقے کے بیت المال کا تصور ہی نہیں ہے، اس لیے زکوٰۃ جیسے اہم فرائض کو انجام دینے سے بسااوقات قاصر رہتے ہیں۔ اس طرح مستحقین میں بھی زکوٰۃ و صدقات کو لینے سے قبل اور لینے کے بعد کوئی نمایاں معاشی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔ اس کا بہترین مصرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم دین کو صحیح طور سے سمجھ کر اس سے اپنی زندگی میں نافذالعمل بنائے ۔ الغرض اللہ کے بندوں کی ضروریات بلا تفریق مسلک و ملت پورا کرنا ضروری ہے اور یہ نہ صرف ہماری اخلاقی زمہ داری ہے بلکہ دین کا ایک حصہ اور احکام شریعت بھی ہے ۔ اللہ تعالٰی ہمیں دین اسلام کی گہرائی کو سمجھنے اور اس کے احکامات کا پاسدار بنائے، آمین یا رب العالمین ۔
فون نمبر ۔9858109109
برقی پتہ: paraybilal2@gmail.com 
(((((((((((()))))))))))))
 

تازہ ترین