تازہ ترین

! نئی سرکار اور عوامی توقعات

28 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
پارلیمانی انتخابات کے تاریخی نتائج، جن میں وزیراعظم نریندر مودی کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے، نے آئندہ پانچ برسوں کےلئے ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کی راہ ہموار کردی ہے، جو یقینی طور پر عوامی مفاد کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ کسی بھی ملک کی مثبت اور مؤثر ترقی کےلئے ایک مضبوط حکومتی ڈھانچہ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران رائے دہندگان کو اپنی جانب راغب کرنے کےلئے سبھی سیاسی جماعتوں کی طرف سے کیا کیا جتن نہ کئے گئے اور انکے نتیجے میں عوامی اور سماجی سطح پر کیا کیا مسائل پیدا نہ ہوئے، ان سے صرف نظر کرکے اب  ضرورت اس بات کی ہے کہ ان معاملات کو پس پشت ڈال کر مثبت انداز سے سبھی مکاتب ہائے فکر کو اپنے ساتے لیکر آگے بڑھا جائے۔ وزیراعظم مودی نے کامیابی کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں صفائی کے ساتھ یہ بات کہی کہ ملک کے اندر اقلیتوں کو ووٹ بنک سیاست کا شکار بنایا جاتا رہا ہے، جس کے نتیجہ میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ انکے مسائل اور مصائب میں اضافہ ہو تا رہا ہے۔انہوں نے اس طرز عمل کو ختم کرکے ایک نئی سوچ اختیار کرنے پر زور  دیا ہے، جو ایک خوش آئند سوچ ہے ۔این ڈی اے کو جس ہمہ گیر پیمانے پر منڈیٹ ملا ہے اُسکا تقاضا ہے کہ انتخابی گہما گہمی  سے قبل اور اُس نے دوران ایک مخصوص ماحول تیار کرنے کےلئے اقلیتوں ، خصوصاً مسلمانوں کو ، مختلف بہانوں سے نشانہ بنانے کی جو مہم برپا کی گئی، اُسےنہ صرف ختم کیا جانا چاہئے، بلکہ اس کو جو لوگ آگے بڑھانا چاہتے ہیں، ان سے سختی کے ساتھ نمٹنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک خوش آئندہ بات ہے کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے چند واقعات کی اچھے خاصے پیمانے پر نہ صرف مخالفت ہوئی ہے، بلکہ مقامی انتظامیہ نے سرعت کے ساتھ ملزمان کےخلاف کاروائی کرنے میں بھی احتراز نہیں کیا۔ بہر حال ریاست جموںوکشمیر کے عوام بھی نئی صورتحال میں مرکزی حکومت ، جسکا فی الوقت ریاست پر براہ راست اختیار ہے، سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ ریاستی عوام کو درپیش سیاسی و اقتصادی مسائل کے بنیادی عوارض کی نشاندہی کرکے انہیں حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ریاست چونکہ گزشتہ تقریباً پون صدی سے سیاسی تنازعات کا نشانہ رہی ہے، جس کی وجہ سے جنگبندی لائن کے آرپار لاکھوں لوگوں کو بے بیان مصائب کا سامنا رہا ہے، لہٰذا یہاں کے عوام کو ضرور یہ توقع ہے کہ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کےلئے مثبت طرزعمل اختیار کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائیگا۔ یہ بات بھی انتہائی خوش آئند ہے کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ٹیلی فون کے ذریعہ وزیراعظم مودی کو انکی کامیابی پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے جنوبی ایشیاء کے عوام کی زندگی بہتر بنانے کےلئے مل کر کام کرنے کی اُمید ظاہر کی ہے، جس کا وزیراعظم نے مثبت انداز میں جواب دیا ہے اور برصغیر میں باہمی بھروسے کی فضاء کے قیام کےلئے انتہا پسندی سے پاک اشتراک قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ایسے حالات میں ، جبکہ جنوبی ایشیاء کے گرد و نواح میں خلیج اور اسکے متصل فوجی اور معیشی برتری کے حصول کےلئے تنائو کی ہیجان انگیز صورتحال میں دن بہ دن اضافہ ہو تا جا رہا ہے، دونوں ممالک کےلئے یہ ضروری ہے کہ وہ پُر امن بقائے باہم کے فروغ کےلئے مثبت انداز فکراپنانے پر زور دیں اور اگر دونوں ممالک یہ طر زفکر اختیا ر کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یقینی طور پربرصغیر کے ممالک کو درپیش بنیادی مسائل ، جن میں نوجوانوں کودرپیش بے روزگاری سب سے بڑا مسئلہ ہے، حل ہوسکتا ہے اوربھارت اور پاکستان میں غریب طبقہ، جوآبادی کی غالب اکثریت پر مشتمل  ہے، کے حالات میں بہتری آنے کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح ریاست جموںوکشمیر میں بنیادی سیاسی مسائل اور مسلسل سرحدی کشیدگی کے خاتمے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اگر دونوں ممالک مثبت سوچ کے ساتھ اس سمت میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں تو وہ وقت دور نہیں جب یہ تنازعات اپنے انجام کو پہنچ جائینگے۔ فی الوقت نئی مرکزی حکومت، جو چند ایام کے اندر حلف لے رہی ہے، پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جموںوکشمیر میں ریاستی اسمبلی کےلئے انتخابات کروانے میں پہل کرے کیونکہ پارلیمانی انتخابات کے پُر امن عمل سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ مانع نہیں ہے۔ صدر راج بہرحال ایک ایسا نظام ہے، جو عوامی امنگوں اور خواشہات کے ساتھ مربوط ہونے میںاُس پیمانےپر کامیاب نہیں ہوسکتا، جس طرح ریاستی حکومت ہوسکتی ہے۔