تازہ ترین

رمضان سپیشل

25 مئی 2019 (14 : 10 PM)   
(      )

نعت اقدس

یہی ہے آرزوئے دل دیارِ مصطفےؐ دیکھوں
فراغِ سبز گنبد میں قیامِ مجتبیٰؐ دیکھوں
شعورِ چشم لائی ہے اٹھا کر ہحرِ ہجراں سے
درِ ایجاب پر پُرنم  متاعِ  التجا دیکھوں
اُسے رستہ سُجھائیں گی فضائیں شہرِ آقاؐ کی
کہاںتک آسمانوں میں بھٹکتی ہے دُعا دیکھوں
عقیدت کا ہے اپنا سلسلہ روضے کی جالی تک
ترستی آرزو ہے کب گلستانِ وفا دیکھوں
مُعطر ذرّہ ذرّہ اس قدر ہے شہرِ بطحا میں
کہاں سے عطر مَل کے آگئی بادِ صبا دیکھوں
نگاہِ مضطرب اشکوں سے اپنے ہے وضو کرتی
معنبر ذکرِ جاناں خُلد مہکاتی ادا دیکھوں
اسی کا ہوں میں شیداؔ جس کے دو عالم ہیں شیدائی
عجب ہے عشقِ شیدا ؔبھی کہ محبوبِ خداؐ دیکھوں
 
علی شیداؔ
(نجدہ ون)  نپورہ اسلام آباد کشمیر
موبائل نمبر؛9419045087
 

نعت 

تاروں میں ماہتاب مرے مصطفےؐ سے ہے 
ایمان پر شباب مرے مصطفے سے ہے 
 
جس نے کتابِ عدل پڑھائی ہے عمرؓکو
انصاف کا نصاب مرے مصطفےؐ سے ہے 
 
مہتاب کے بدن پہ چمکتی ہے اک لکیر 
یہ چاند فیض یاب مرے مصطفےؐ سے ہے 
 
خوشبو کا کاروبار نہ کرتا مرا خیال 
ایمان کا گلاب مرے مصطفےؐ سے ہے 
 
بیٹی جو آج عظمتِ انسانیت بنی 
آیا یہ انقلاب مرے مصطفےؐ سے ہے 
 
خوشبو نہ آتی دستِ سخاوت سے اس طرح 
اس شاخ پر گلاب مرے مصطفےؐ سے ہے 
 
آنکھوں کا نور مجھ کو دکھاتا نہ راستہ 
میری نگہ میں خواب مرے مصطفےؐ سے ہے 
 
اشرفؔ عادل 
کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر 
موبائل نمبر؛ 9906540315
 
 

دعا

الٰہی عشق سے ان کے ہمیں مخمور کر دے
گناہوں سے ہمیںبےحد ہی بےحد دور کر دے
 
شفاعت ان کی ہو ہم پر بروزِ حشر داتا
ہماری ہے یہی بس اک دعا منظور کر دے
 
تمنا ہے،کریں اے نور تیرے نور کی دید
بصارت کو ہماری آنکھ کی پُرنور کر دے
 
خدایا زندگی اب تک ادھوری ہے ہماری
تَلَطُّف کی نظر کر کے ہمیں بھرپور کر دے
 
مجھے ہے نوکری کی آس اُس در پر خدایا
بنا کے مجھ کو طیبہ کا گدا مشہور کر دے
 
یہاں پر روز و شب کٹتے ہیں سائے میں غموں کے
حبیبِ کبریا کے واسطے مسرور کر دے
 
ہو ایسے مبتلاء تیری محبت میں یہ بسملؔ
کہ تیری یاد میں ہر وقت خود کو چُور کر دے
 
سید مرتضیٰ بسمل
،طالب علم:شعبہ اردو،ساؤتھ کیمپس کشمیر یونیورسٹی 
شانگس اسلام آباد۔موبائل نمبر؛6005901367
 
 

تمنا

ملتی ہے جہاں ہر دکُھ کی دوا آقاؐ کے نگر کا کیا کہنا
سجدوں میں گزُرتی ہیں راتیں پُر نور سحر کا کیا کہنا
 
جالی کو پکڑ کر دیکھوں گا جب روزئہ سرورِ عالمؐ کا
گزُرے گا جو شہرِ مدینہ میں اُس ایک پہر کا کیا کہنا
 
بے موت یوں ہی مر جانے سے آقاؐ کی محبت میں مر لوں
پینے کو بھلے ہی مل جائے اک جام زہر کا کیا کہنا
 
طائف کی کہانی کو لے کر پھر بدّر کے واقعہ کو پڑھ کر
اُٹھتی ہے جو عشقِ طیبہؐ کی اس دل میں لہر کا کیا کہنا
 
مل جائے اگر تابــــشؔ کو اماں تو عمر گزُارے جا کے وہاں
مجھ پھوٹی قسمت والے کے آفاق دہر کا کیا کہنا
 
  جعفر تابش
مغلمیدان کشتواڑ
موبائل نمبر؛8492956626
 
 

نعت شریف

صاحبِ شق القمر کون ومکاں ہیں مصطفیٰؐ
تاجدارِ انبیاء ہیں پاسباں ہیں مصطفیٰؐ
 
پار کروائے گا بیڑا حشر کے دن بس وہی
ہاں بہت اُمت پہ اپنی مہرباں ہیں مصطفیٰؐ
 
آپ کی آمد سے روشن ہو گئے دونوں جہاں
ظلمتوں میں روشنی ہیں، ضوفشاں ہیں مصطفیٰؐ
 
محسن و رہبر وہی ہیں سید الخیرالوریٰ
رب کی ساری رحمتوں کے ترجماں ہیں مصطفیٰؐ
 
شافعِ محشر وہی ہیں تاجدارِ انبیاء
تلخیوں میں بس فقط راحت رساں ہیں مصطفیٰؐ
 
بے کس و مظلوم کے والی ہیں وہ سرکار بس
عدل کا، انصاف کا اک سائباں ہیں مصطفیٰؐ
 
نعت گوئی سے ملا رتبہ تمہیں اعلیٰ عقیلؔ
سارے عالم کے لئے روحِ رواں ہیں مصطفیٰؐ
 
عقیل ؔفاروق
طالب علم شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی
موبائل نمبر؛8491994633
 
 

مناجات

خالقِ ارض و سما، تُو بر تر و مُختار ہے
ایک بس فرماں روا تو، حق تری سرکار ہے
 
تیری یہ مخلوق سب عاجز ہے اور ناچار ہے
زیب دیتی بس تجھے عظمت و استکبار ہے
 
ابتدا تُو، انتہا تُو ذاتِ پُراسرار ہے
مُقتدر تقدیر کا تُو، مطلع انوار ہے
 
رازقِ ہر دو سَرا، تُو منبعِ اخیار ہے
سب کا بس حاجت روا تُو، اس سے کیا انکار ہے
 
مُنتہا جبروت کا، تُو حاکم مختار ہے
مالکِ ازل و ابد ہے، تُو ہی فیض آثار ہے
 
اپنی سب مخلوق کا بس تُو ہی چارئہ کار ہے
تُو خدائے عزّوجل ہے، حمد کا حقدار ہے
 
قادرِ مُطلق ہے تُو، اعلیٰ تری سرکار ہے
جو تُجھے دل سے پُکارے اس کا بیڑا پار ہے
 
تُو اگرچہ ہے غفو رو مہرباں ستّار ہے
واحدِ بے مثل بھی، تُو واحداُلقہار ہے
 
تُوہی ہادی، تُوہی رہبر، معدنِ اسرار ہے
تُو حکیم و حاکم و ہمراز و ہم رفتار ہے
 
بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاطؔ) کشتواڑی
موبائل نمبر؛7006606571
 

ِہجرت جہنم کی طرف 

یہ بستی ایک جنّت تھی   
جہاں اِنسان رہتے تھے   
یہ دُنیا میں مِثالی تھی  
ٰیہاں تو نیکیوں کے صاف اور بے داغ کپڑے پہنے جاتے تھے 
یہاں کی لڑکیوںکی عِزّت و عِفت کی قسمیں لوگ کھاتے تھے 
یہاں کے مَرد سادہ، زندہ دِل اور پاک باطن تھے
 یہاں کی عورتیں شرم و حیا کا اِک نمونہ تھیں ۔
مری تاریخ کی موٹی کتابوں میں یہ لِکھا ہے  
یہ ممکن ہے کتابوں میں لکھی باتیں حقیقت ہوں  
مگر یہ ساری باتیں اُس زمانے سے مُتعلق ہیں
  جِسے ہم نے نہیں دیکھا 
اور اپنے دوَر کی سب سے بڑی سچّائی تو یہ ہے  
کہ یہ بستی تو رہنے کے لئے موزوں نہیں ہرگز 
یہ مقتل ہے یہاں ہر ہاتھ پر ہیں خُون کے دھبے 
زبانوں پر ہیں تالے اور پاوٗں میں ہیں زنجیریں 
گُنہ سے جسم بھاری ہیں  
دِلوں پر خوف طاری ہے  
تعفّن چار سُو ہے  
لوگ گِدھ کے پھیپھڑوں سے سانس لیتے ہیں 
زمین ِ گُل پہ کُچھ وحشی درندے رَقص کرتے ہیں  
فضا میں چیل کووں کی نحوست راج کرتی ہے  
حُکومت بھیڑئے کے پاوٗں میں گھنگرو کی صُورت کپکپاتی ہے 
پسندیدہ کھلونا بن گیا  قانون ہے نیولے کے بچّوں کا  
ہوس کی  پیپ قدروں کے شکستہ کاسۂ سر میں 
مزے سے سانپ پیتے ہیں  
گُلابوں کی مُلا ئم پتّیاں چیتے کے دانتوں کے خَلا میں  
ہچکیاں لیتی ہیں  مرگِ سخت تر کی 
جھیل ِ ڈل کا صاف پانی تو مگر مچھ پی گئے   
پیاس سے زرخیز دھرتی اِک سیہ صحرا ہوئی  
زعفران کی سَر زمیں پر نیزہ و خنجر اُگے  
ساری کلیاں دیو کا مکروہ جبڑا بن گئیں  
اِس زمیں پر اَب کوئی جنّت نہیں  
لیکن جُہنم ہیں کئی 
اَب بھی موقع ہے کہ ہم  ہِجرت کریں 
اپنے پسندیدہ جُہنم کی طرف ! 
مقبول وی رے  
  اننت ناگ (اِسلام آباد ) کشمیر،موبائل نمبر؛9797972444
 

بدر کے میدان میں

کُفر مُنہ کے بل گِرا  بدر کے میدان میں
ہوگیا  بے آسرا بدر کے میدان میں
جس قدر تشریف آور ہوگیے خیرُؐالوریٰ
رہ گیا کافر نِرا بدر کے میدان میں
جوش  میں سرمست تھا  وہ ابوجہلِ لعین
حسرتیں لے کر مرا  بدر کے میدان میں 
دندناتے آگیا تھا کیا عدو کا قافلہ 
خوف کے مارے ڈرا، بدر کے میدان میں 
ازن سے رب کے فرشتے آگئے امداد کو
پرچمِ ایمان لہرا بدر کے میدان میں
بدر کے اصحابؓ سے راضی ہُوا ربِ جلیل
وہ نہ گھبراے ذرا بدر کے میدان میں
 
طُفیل شفیع
گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر
موبائل نمبر؛9596416377