تازہ ترین

ایکزٹ پول پر ظاہر کئے جارہے نتائج | این سی، پی ڈی پی اور کانگریس کا بھروسہ نہ کرنے کا مشورہ

22 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//مختلف ٹی وی چینلوں کی جانب سے ایکزٹ پول کے دوران بھاجپا کی بھاری اکثریت سے واپسی کے بعد جموں وکشمیر میں عوامی حلقوں میںخصوصی پوزیشن سے متعلق سخت تشویش پائی جارہی ہے تاہم دوسری طرف علاقائی مین اسٹریم پارٹیوں کا ماننا ہے کہ ایکزْٹ پول پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ علاقائی مین اسٹریم جماعتوں کا کہنا ہے کہ اگر ایکزٹ پول کے اعداد و شمار کو صحیح بھی مانا جائے تاہم اسمبلی الیکشن کے دوران ریاست کے رائے دہندگان کو سوچ سمجھ کر اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہوگا تاکہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی شخص یا جماعت کو کھلواڑ کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ گزشتہ کئی دنوں سے قومی ٹیلی ویژن چینلوں پر نشر ہورہے ایکزٹ پول جس میں بی جے پی کی واپسی کی دوبارہ پیشن گوئیاں کی جارہی ہے ، کے بعد جموں وکشمیرمیں عوامی حلقوں میں ریاست کی خصوصی پوزیشن سے متعلق سخت تشویش پائی جارہی ہے۔ لوگوں کاماننا ہے کہ اگر بی جے پی دوبارہ مرکز میں برسراقتدار آجاتی ہے تو اس کے ریاست جموں وکشمیر پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ بی جے پی دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کو منسوخ کرکے ہی دم لے گی تاہم ریاست کی دیگر علاقائی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کا ماننا ہے کہ قومی چینلز پر نشر کئے جارہے ایکزٹ پول پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔سیاسی پارٹیوں کا ماننا ہے کہ قومی ٹیلی ویژن چینلوں کی جانب سے نشر کئے جارہے ایکزٹ پول بھروسے کے لائق نہیں ہے۔ ریاست کی سب سے بڑی مین اسٹریم سیاسی پارٹی نیشنل کانفرنس نے ایکزٹ پول کے نتائج کو مشکوک قرار دیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ ’’اگر لوک سبھا انتخابات کے نتائج بھاجپا کے حق میں ہوں گے تو ایسے میں ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ لوگ بی جے پی سے کافی خائف ہیں کیوں کہ عوام کا ماننا ہے کہ اگر بی جے پی دوبارہ برسراقتدار آتی ہے تو وہ ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن ختم کردے گی۔لیکن اسمبلی الیکشن کے دوران کشمیریوں کو سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ لینا ہوگا۔ نیشنل کانفرنس خصوصی پوزیشن کا ہر ممکن طریقے سے دفاع کرے گی‘‘۔ادھر پی ڈی پی نے بتایا کہ ایکزٹ پول پر تکیہ کرنا صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی دوبارہ اقتدار میں آجاتی ہے تو پی ڈی پی خصوصی پوزیشن کا دفاع یقینی بنانے کی خاطر نئے سرے سے لائحہ عمل ترتیب دے گی۔پارٹی کے ترجمان اعلیٰ رفیع احمد میر نے کے این ایس کو بتایا کہ ایکزٹ پول پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ ہر ایک چینل اعداد و شمار کے حوالے سے انتشار کی شکار ہے۔ بہتر ہے کہ ہم 23مئی کا انتظار کریں۔ جہاں تک ریاست کی خصوصی شناخت کا تعلق ہے تو پی ڈی پی دفاع کے لئے بالکل تیار ہے۔ ہم اس سلسلے میں لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔ادھر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر نے کے این ایس کیساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ٹیلی ویژن چینلوں پر چلائے جارہے ایکزٹ پول تفریق کا شکار ہے۔یہاں پر بہت سارا کنفیوژن ہے۔ ایک چینل ایک تعداد جاری کرتی ہے تو دوسری چینل کچھ اور۔ 23مئی کے بعد سب واضح ہوگا، این ڈی اے اپوزیشن میں ہوگی اور کانگریس برسراقتدار۔