تازہ ترین

نئی حکومت سیکورٹی’دفاع اور بیوروکریسی میں کئی اہم تقرریاں کرے گی

21 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 نئی دہلی// لوک سبھا انتخابات کے نتا ئج کے بعد مرکز میں اقتدار سنبھالتے ہی نئی حکومت کو بیوروکریسی میں کئی اعلی عہدوں پر تقرریوں کے سلسلے میں فیصلہ کرنا ہوگا کیوں کہ آنے والے کچھ ہفتے میں کئی محکموں کے سربراہوں کی مدت کارمکمل ہونے والی ہے ۔ سترہویں لوک سبھا انتخابات کے نتائج 23مئی کو آئیں گے جس کے بعد نئی حکومت کو سب سے بڑے بیوروکریٹ کابینہ سکریٹری کی تقرری کرنی ہوگی۔ ڈیفنس سکریٹری کے ساتھ ساتھ خفیہ ایجنسیوں ریسرچ اینڈ انالسس ونگ(را) اور انٹلی جنس بیورو(آئی بی) کے سربراہ بھی جلد ہی سبکدوش ہورہے ہیں۔ ان دونوں کو پہلے ہی چھ ماہ کی توسیع دی جاچکی ہے ۔نئی حکومت کوفضائیہ کے نئے سربراہ کی بھی تقرری کرنی ہے ۔ سب سے اہم تقرری کابینہ سکریٹری کی ہے ۔ موجودہ کابینہ سکریٹری پی کے سنہا 12 جون کو سبکدوش ہورہے ہیں۔ انہیں مودی حکومت نے سروس میں دو سال کی توسیع دی تھی۔ڈیفنس سکریٹری سنجے مترا اسی ماہ کی 31 تاریخ کو سبکدوش ہورہے ہیں اور اس عہدہ کے لئے ڈیفنس سکریٹری (پروڈکشن) ڈاکٹر اجے کمار کا نام لیا جارہا ہے ۔انٹلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر راجیو جین اور را کے سربراہ انل کمار دھسمانا کو گذشتہ سال بالترتیب 30اور 29دسمبر کو چھ چھ ماہ کی توسیع دی گئی تھی۔ ایر چیف مارشل بی ایس دھنووا بھی آئندہ 30ستمبر کو سبکدوش ہورہے ہیں۔ افواج کے سربراہوں کی تقرری کچھ وقت پہلے کرنے کی روایت رہی ہے اس لئے نئی حکومت کو اس سلسلے میں بھی جلد ہی فیصلہ کرنا ہوگا۔ ایر چیف مارشل دھنووا کو 31دسمبر 2016کو فضائیہ کی باگ ڈور سونپی گئی تھی۔ مودی حکومت نے حال ہی میں بحریہ کے نئے سربراہ کی تقرری کی ہے جس میں سنیاریٹی کو نظر انداز کرکے سب سے سینئر افسر کے بجائے ان کے جونیئر افسر کو بحریہ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے ۔ اس تقرری کو آرمی ٹریبونل میں چیلنج کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے مودی حکومت نے آرمی چیف جنرل بپن راوت کی تقرری میں بھی سیناریٹی کو نظر انداز کیا تھا۔نئے آرمی چیف کی تقرری بھی نئی حکومت ہی کرے گی حالانکہ ابھی اس میں چھ ماہ کا وقت ہے ۔ جنرل راوت آئندہ دسمبر میں سبکدوش ہوں گے ۔یو این آئی