تازہ ترین

صیام ہم سے کیا چاہتا ہے ؟

کہ نیکی کمانا بھلے کام کر کے

20 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

فیروز ہاشمی
تقریباً بیس بائیس سال پہلے جب ہمارے یہاں معاشی حالت بہتر ہونے لگی تھی اور عام لوگوں کے گھروں میں ٹیلی ویژن کا چلن عام ہو اتھا، لوگ تعلیم یافتہ بھی ہونے لگے تھے، ٹی وی چینلز کی تعداد بھی بڑھنے لگی تھی۔ اب ہم لوگ کچھ کریں نہ کریں، عالمی خبروں اور تبصروں میں ضرور لگے رہتے تھے ۔ پھر ٹی وی چینلز کی باڑھ نے ہمیں ایک طرف جہاں اخلاقی طور پر بے کار کر دیا، دوسری طرف صحت بھی ناکارہ کر دی ۔اخلاقی طور پر ناکارہ ہونے اثرات آپ اور ہم معاشرے میں جا بجا دیکھ ہی رہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں کی ا شتہار بازیوں سے تمباکو، بیڑی، سگریٹ، گٹکا، منشیا ت وغیرہ کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ دیدہ دلیری یہ کہ اس غلط کاری کے جواز میں کئی لوگ کہتے ہیںیہ حرام تھوڑے ہی ہے، زیادہ سے زیادہ مکروہ کہہ سکتے ہیں۔اس کٹ حجتی سے لوگ جابجا صحت کے مسائل سے جھوج رہئ ہیں ۔ اکثر مسجدوں میں کرسیوں کی تعداد بڑھنا اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ گھٹنے اور کمر درد، ذیابیطس، بلڈ پریشر وغیرہ کے مریضوں کی تعداد برابر بڑھ رہی ہے۔ رمضان روحا نی ا مرض کے علاوہ  ان جسمانی تکالیف سے شفاپانے کا ایک خدائی نسخہ ہے مگر ہم میں ایسے بھی کندہ ٔ ناتراش ہیں کہ یہ آپس میں ایسی اَناپ شناپ گفتگوئیںکرتے ہیں جیسے یہ مبارک مہینہ اُن کے لیے رحمت نہیں بلکہ بوجھ بن کے آیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگوں کا گیارہ مہینے کا لائحہ الگ ہوتا ہے اور اس ماہ کا الگ ۔ اگر باقی گیارہ مہینوں میں بھی ان اعمال و اقدار کو سنت کے مطابق اپنا لیا جائے اور لغویات سے پرہیز کرلیا جائے تو یقیناًنہ تو لوگ متعدی بیماریوں میں مبتلا ہوںگے اور نہ ہی اخلاقی اور ایمانی طور کمزور ہوں گے۔اس متبرک ماہ میں اکثر افطار پارٹیوں کا اہتمام ہوتا ہے، جس میں لوگ بے دریغ خرچ کرتے ہیں، مگرزکوٰۃ کے بارے میں نہیں جانتے کہ مسلمانانہ زندگی کے لئے یہ کیا مطلب رکھتی ہے،ا نہیں زکوٰۃ کے بارے میں دینی معلومات حاصل کر نے میں بھی دلچسپی نہیں ہوتی۔ مالدار بننے کے بعد کیا اوروں کو کھانا کھلانا اور حج کرنا کون سا کارِ ثواب نہیںاگر ایک صاحب ِ نصاب زکوٰۃ کی ادا ئیگی سے پر ہیز کر ے۔ اسلام کی ہدایت ہے کہ ہر سال زکوٰ ۃ دی جائے اور اس ضمن میںپہلے اپنےاُن رشتے داروں اور محلے میں رہنے والے ضرورت مندوں کو تلاشا جائے جو مالی طور پر کمزور ہوں ۔ حتی الامکان حد تک پہلے قریبی غربا کو خوشحال بنایا جائے۔ ہاںزکوٰۃ ادا کی جائے یا پھر حج کیا جائے ، ان عبادات میں ریا (نامو نمود)کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔ یہی اللہ کے حضور شر ط قبولیت ہے۔ 
اللہ کا بڑا کرم ہے کہ اب ہمارے درمیان ایسے خوش نصیب افراد ہیں جو ماشا اللہ کئی بار حج کر چکے ہیں ۔ پہلا حج تو فرض تھا اور ما بعد کا حج نفلی ہوتا ہے۔ فرض ادا کر چکے حاجی صاحبان کو چا ہیے کہ معاشرے کے نادار ضرورت مند وں کو ڈھونڈ نکال کر ان کی مالی امدا کر یں ، انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کر نے کی کوشش کر یں ۔ جن کے پاس اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے سرمایہ نہیں، کوئی غریب کسی معتدی بیماری میں مبتلا ہے ، کوئی نوجوان محنت کر کے روزگار کمانا چاہتا ہے ،نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہیں جو معاشرتی بگاڑ کے سبب وقت پر نکاح نہیں کر پارہے ہیں، اگر نفلی حجوں کے لئے درکار رقومات ایسے ضرورت مندوں پر خرچ کی جا ئے تو اجر اتنا ہی ملنے کی اُمید ہے، جتنا نفلی حج سے ملتا ہےکیونکہ کسی نادار کا گھر بسانے سے معاشرہ میں جو بہتری آئے گی وہ کئی زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہوگا اور اس طرح کا مالی انفاق صدقۂ جاریہ ہوگا۔
معاشرتی بیماری جس نے ہمیں تباہ و بر باد کر کے رکھا ہے ، وہ غصے کی حالت میں طلاق دینا ہے۔ اکثر وبیشتر اس کے پیچھے بھی انانیت کا عمل دخل ہوتا ہے۔ یہ وبا مالدار گھرانوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ چونکہ ایسے اکثر خانوادے نکاح کے بندھن میں بندھنے کےبعد طریقۂ محمدی (ﷺ  ) کو نہیں اپناتے بلکہ اسے جانتے ہیں نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں، اسلامی اقدار سے خالی ہوتے ہیں، جب کہ عصری تعلیم سے خوب واقف ہوتے ہیں لیکن پتہ نہیں اسلامی اصول سیکھنے اپنانے میں کیوں لاپرواہی کرتے ہیں؟ اس طرح کےلوگوں نےتعلیم وتدریس کا مصرف صرف مال کمانا بنا لیا ہے۔ جب کہ علم وآگہی  کاسب سے زیادہ اہم مقصد انسان کی جسمانی اور اخلاقی صحت مندی اور تندرستی ہے ۔ ہمارے معاشرے میںاخلاقی اعتبار سے صحت مند نہ ہونے کی وجہ سے ہی طلاقیں ہوتی ہیں۔ اگر شادی پورٹل کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ مسلم گھرانوں کے بائیس تا پچاس سالہ طلاق یافتہ خواتین دوبارہ نکاح کی خواہش مند ہوتی ہیں۔ان میں کئی صاحبِ اولاد بھی شامل ہو تےہیں۔ ہم دیکھتےہیں کہ طلاقوں کی ننانوے فیصد کامحرک وہ بہوئیں ہوتی ہیںجن کی مائوں کی طرف سے کچھ بیٹیوں کو ایسی غلط ہدایتیں ملتی ہیں جو آگ پر تیل کا کام کرتی ہیںاور پھر گھر کے گھر تباہ وبربادہوجاتےہیں۔ ایسے ہی ایک معاملے میں عورت نے طلاق لینے کے لیے غازی آباد کورٹ میں عرضی دائر کی۔ جب جج نے عورت سے پوچھا کیوں طلاق لینا چاہتی ہے تو جواب تھا کہ جی یہ مجھے خرچہ کم دیتا ہے۔ جب شوہر سے ا س بیان کی تصدیق یاتردید چاہی گئی تو شوہر نے کہا کہ تجھے کتنا خرچہ چاہیے؟ عورت نے کہا کہ گھریلو خرچ کے علاوہ پانچ ہزار روپے میرا جیب خرچ۔ شوہر نے کہا کہ میں تجھے دس ہزار روپے ماہانہ جیب خرچہ دوں گالیکن تو روٹی اپنے ہاتھوں سے بنا کے کھلائے گی ، معاملہ سلجھ گیا۔ پتہ یہ چلا کہ وہ عورت کھانا شوہرکو خود سے بنا کے نہیں دیتی تھی،جب کہ مالی طور پر گھر میں کوئی تنگی نہ تھی۔ یہ ماڈرن کلچر کی دین ہے جس میں بعض عورتیں ایک دوسرے پر سبقت لے کر شوہر سے بے جا فرمائشیں اور مطالبات کرکے اپنے گھر اور خاندان کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہیں۔ چند ماہ پہلے ایک بے کس عورت سے گھر میں سابقہ پڑا۔ گھر پہنچتے ہی ایک ادھیڑ عمر خاتون ہمارے یہاں آئیں۔ اپنی والدہ سے پتہ چلا کہ یہ محترمہ مالی مدد طلب کرنے کے لیے آئی تھی۔ اس کے بیٹا ،بہو اور پوتے پوتیاںہیں۔ بیٹی کی شادی کر دی ہے، نواسا نواسی بھی ہے۔بیٹا بہو کے بہکاوے میں ماں کا ساتھ نہیں دیتا ، شوہر کا انتقال ہو چکا ہے۔ شوہر بواسیر کا کامیاب معالج تھا، وہی کماؤ بھی تھا۔ بیٹا بہو کے علیحدہ ہونے سے اس خاتون کو مالی تنگی رہتی ، مگر یہ پیشہ ور گداگر نہیں تھی بلکہ اپنے عز تِ نفس کا بھرم رکھتے ہوئے چند ہی گھرانوں میں جاتی کر اپنے گزربسر بھر چلاتی ۔اس عبرت انگیز واقعہ سے میری سمجھ میں آیا کہ زندگی کن تلخیوں اور دشواریوں کانام ہے ۔ ر مضان المبارک میں ایسے ہی دین دُکھیوں کے کام آنا ، خدا کے مجبورو بے کس بندوں کی فی ا للہ وللہ خدمت کر نا ، لوگوں کی تکلیفیں دور کر نا ، مصیبت کے ماروں کی غم گساری کر نا، دبے کچلے طبقوں کی دادرسی کر نا ہی عبادات وریاضات کا مطلوبہ ہدف ہے۔ اللہ کو ہماری بھوک پیاس سے یہی جذبہ کشید کر نا ہے کہ ہم صرف اپنے لئے نہ جئیں بلکہ اوروں کے لئے جی کر دکھائیں ۔ یہ ہم نے کیا تو رمضان ہم سے راضی ہم رمضان سے راضی    ؎
 درد ِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
 ورنہ طاعت کے لئےکچھ کم نہ تھے کرو بیاں
 

تازہ ترین