تازہ ترین

بھاجپا حکمرانی کے پانچ سال

نہ وجود ہے کتاب کا نہ ذکر کہیں حساب کا

20 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

علی اسرار
 اس خرابے میںکچھ آگے وہ جگہ آتی ہے
جہاں خواب بھی ٹوٹے تو صدا آتی ہے
کشمیر سے باہر کب، کہاں اور کس نے کشمیری زباں کے وہ مزاحیہ دو ایک جملے سنے ہوں گے، جن میں’’ شِلوت، گِلوت ، توتہِ گِلوت‘‘ کو استعمال میں لاکر ’’میں نہ مانوں‘‘ کلاکاری کی ترجمانی کی جاتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مضبوط سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک بھر میں پچھلے پانچ سال کے دوران کیا کیا نہ بدلا۔ سب کچھ تو بدلا بدلا سا نظر آتا ہے ۔ خالص’’ میں نہ مانوں‘‘ کی تان نہ ٹوٹ سکی۔ نئی حکومت قائم کرنے کیلئے پارلیمانی انتخابات کے اس عالم میں جب حکمران جماعت بی جے پی کو اپنی پانچ سالہ کارکردہ گی کا خلاصہ کرنے کیلئے اپوزیشن کی جانب سے اُٹھائے جارہے سوالات کا جواب دینا تھا، حکمران طرح طرح کے جملوں کی اُوٹ میں سوال کرنے والے اپنے مخالفین کے ماتھے پر دیش دشمنی کا لیبل چپکادیتے ہیں۔ ایک مثال بی جے پی صدر امیت شا ہ کے ایک جملے سے ملتی ہے۔ اُن سے کسی نے جب ہر کسی بھارتی شہری کے کھاتے میں تیس ہزار روپے جمع کرنے سے متعلق نریندر مودی کے الیکشن وعدے پر سوال کیا تھا تو امیت شاہ نے اپنے جواب میں کھلے عام اس وعدے کو ایک جملہ قرار دے کر خلاصی حاصل کی تھی۔ لیکن اقتدار میں پانچ سال گزرتے گزرتے بی جے پی کا ہر کوئی لیڈر جملہ بازی کا ہی سہارہ لے کر عوام کی امیدوں پر پانی پھیرنے کا سامان بناتا آیا ہے۔ جیسے وزیر اعظم کو چوکیدار کا خطاب ملنے کے ساتھ ہی ہر کوئی منتری، لیڈر اپنے آپ کو چوکیدار کہلانے میں فخر محسوس کرتا رہا، ویسے ہی بی جے پی کے ہر کسی وزیر، لیڈر اور کارکن نے جملہ بازی کا سہارا لے کر لوگوں کو نہ دو کروڑ نوکریوں کا تذکرہ کرنے کا موقعہ دیا اور نہ ہی دیش کے خزانہ عامرہ کو لوٹنے والے بھگوڑوںپر سوال اُٹھانے دیا۔ اب وزیراعظم نریندر مودی نے اقتدار کے آخری پڑائو پر پہنچتے پہنچتے اپنا یہ انمول جملہ ادا کیا ہے کہ پاکستان کے اندر گھس کر مارنے کی رات بادل آئے، پاکستان کے راڈر سسٹم پر چھائے اور اس طرح سے سرجیکل سٹرائیک کامیاب ہوا۔ کسی سرپھرے سے رہا نہیں گیا اور ہدیہ کے طور یہ شعر ارسال کیا   ؎
جملہ ہی پھینکتا رہا پانچ سال کی سرکار میں
 سوچتا تھا ’کلاوڈی‘ ہے موسم نہیں آئوں گا راڈار میں
 لیکن سرکار کی جملہ بازی کے ہتھیاروں کے ذخیرے پر’ گودی میڈیا‘ کی بھی نظریں مرکوز ہیں اور ایک اہم میڈیا مین وزیراعظم نریندر مودی کے روبرو یوں غزل سرا ہوا۔
’’ گھر میں گھس کر ماراہے قبر کھودی ہے
دلی کی گدی پر بیٹھا باپ تمہارا مودی ہے
مودی نے کردیا اعلان کان کھول کر سن لو عمران 
کیا ساتھ سارا ہندوستان ہے، نہیں بچے گا پاکستان
 اشعار سن سن کر وزیراعظم پہلے زیر لب مسکراتے رہے اور پھر ہنستے بھی دکھائی دئے ۔ شاعر اب شاید پوچھنے کو ہی تھا کہ اگلے دن جب دشمن کے خلاف پھینکے میزائل سے اپنا ہی فوجی ہیلی کاپٹر بڈگام میں گرکر راکھ ہوگیا اور فضائیہ کے چھ آفیسروںکی جانیں بھی ضائع ہوئیں تو بادلوں کے بجائے آسماں میں بجلی نے چمک کر غلط پھینکے میزائل کا راستہ کیوں نہیں بدلا لیکن بے چارہ شاعر جانتا تھا کہ ہیلی کوارپٹر گرنے کی خبر کو مشتہر نہیں ہونے دیا گیا ہے، وہ ذکر چھیڑ کر دیش دشمن کہلاتا، پکڑا جاتا اور وزیراعظم کو ہنسنے ہنسانے کا عوضانہ بھی ادا کرنا پڑتا۔
    گو کہ ووٹ کا نقصان ہوجانے کا خیال کرکے اپوزیشن کے بڑے بڑے لیڈر بھی وزیر اعظم مودی کی باتیں کاٹنے سے گریز کرتے رہے، تاہم ہندوستانی سماج کا سنجیدہ طبقہ ملک کے مستقبل کو لے کر اضطراب کا شکار ہوتا رہا ہے۔ اس طبقے کے مطابق ملک بھر میں لوگ جہاں پہلے آپس میں شیر و شکر ہوا کرتے تھے، اب فرقہ پرستی کا چولا پہن کر ایک دوسرے کے خلاف دست و پا ہوتے رہے ہیں۔ اب فضا کو مکدر کرنے کیلئے اعلانیہ طور زہر آلودہ نعرے بلند کئے جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ نشست پر دوبارہ قابض ہوجانے کے ارادے سے منتری جیسے اہم ذمہ داری سنبھالے امیدوار سجی سجائی سبھائوں میں کھلے عام نفرت بھرے بھاشن دیتے ہیں کہ ’’ میری بھاشا نہ بولو گے تو دیش میں رہنے نہیں دیں گے‘‘۔ مرکزی وزیر منیکا گاندھی نے اپنے حلقہ انتخاب میں رہائش پذیر ایک مخصوص فرقہ ( مسلمان) کے ووٹروں پر واضح کردیا کہ وہ ووٹ نہ ملنے پر اُس فرقہ کی کوئی بھی مدد نہیں کی جائے گی۔ اکثر علاقوں میں ایسا ماحول تیار کیا جا رہا کہ زورآور ٹولیاں کمزوروں کے گھر اُجاڑ نے پر کمر بستہ ہوجاتی ہیں۔ جب دہشت گردی کے الزام میںقید ہوئے اور پھر ضمانت پر رہائی پائے افراد کو الیکشن لڑنے کا ٹکٹ فراہم کیا جائے، تو ووٹ اور جمہوریت کی کیا قدرو قیمت باقی رہ جاتی ہے۔حکمران ٹولہ ملک کی تعمیر اور عوام کی خوشحالی کے ضمن میں اپنی پانچ سالہ کارکردگی کا خلاصہ کرنے کے بجائے حزب اختلاف کے ماضی کی حقیقی یا فرضی خامیوںکو چنائوی مدعا بنانے کا کارڈ کھلے عام کھیلتا رہا ہے۔پھر حزب اختلاف پر دیش ورودھی ہونے کا لیبل لگاکر سب کو چُپ کرانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ ملک کی الیکشن تاریخ میں اس طرح کا ماحول پہلے کبھی بھی دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔ تب بھی نہیں جب بی جے پی حکومت کی کمان سورگیہ اٹل بہاری واجپائی کے ہاتھوں میں تھی۔ اب تمام پارلیمانی حلقوں میں ووٹ ڈالنے کا کام اختتام پزیر ہوچکا ہے۔ غیر جانبدار حلقوں کے اندازوں کے مطابق ملک بھر کے عوام نے اپنے ووٹ کو کسی ایک جماعت کے حق میں ڈالنے کے بجائے مختلف پارٹیوں کے کھاتوں میں بانٹ دیا ہے، تاکہ راج سنگھاسن حاصل کرنے والے کسی لیڈر کو مغرور حکمران بننے کا موقعہ نہ ملے۔ اس حساب سے جو کوئی بھی اپنے آپ کو کرسی ٔ اقتدار پر براجمان دیکھنے کا خواہش مند ہوگا، اُس کو ووٹ حاصل کرنے کی خاطر کئی پارٹیوں کے بند دروازوں پر دستک دینا ہوگی اور دروازے تک پہنچنے کیلئے جھک جھک کر چلنا ہوگا۔ ووٹ کا حساب و کتاب رکھنے والے ان ذرایعہ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی پانچ سالہ اقتدارکے دوران پارٹی کی قیمت پر اپنی شخصیت کو نکھارنے پر توجہ دیتے رہے ہیں اور بی جے پی کا کہیں بھی چرچا نہیں کیا جاتا ہے۔
مودی جی پر جان نچھاور کرنے والے ووٹر بھی اب تک بہت کچھ سمجھ گئے ہیں اور لگا تار کام کرتے رہنے کے نتیجے میں اُن کی تھکاوٹ کو خاطر میں لا کر اُن کیلئے آرام کرنے کا یہ موقعہ تلاش کیا ہے ۔ مودی صاحب کے مخالفیں بھی بہت پہلے سے مطالبہ کررہے تھے کہ ا ب ملک میں پچھلے پانچ سال کے دوران ہوئی خرابیوں کو سدھارنے کیلئے مناسب حالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور عوام کے دلوں پر لگے زخموں کی مرہم پٹی کرنے کا ماحول بنانا ہوگا ۔ ذرایعہ کے مطابق مودی سرکار پر لگے الزامات کا شائد ہی کسی نے شمار رکھا ہوگا۔ ضرورت بھی کیا تھی۔ گنے چنے چند ایک الزامات کی صداقت اس قدر مضبوط مانی جاتی ہے کہ الزامات کے مرتکب کسی بھی وزیر، پارٹی باس یا افسر کیلئے راہ فرار حاصل کرنا نا ممکن بن گیا ہے۔ بی جے پی کے معتبر و بزرگ رہنما شری لال کرشن ایڈوانی کو پچھلے پانچ سال کے تناظر میں لکھی داستانوں کو اپنے واحد جملے میں بیان کرنا پڑا ہے کہ ملک کا جو بھی شہری بھاجپا مخالف ہے، اُس کو دیش وروہی کہنا سراسر غیر آئینی اور غیر ذمہ دارانہ فعل ہے۔ ایڈوانی جی کو ایسا کہنے کی کیا ضرورت پڑی تھی؟ ظاہر ہے کہ مودی جی جب الیکشن سبھائوں میں وزیراعظم کی حیثیت میں اپنی سرکار کی مخالفت کرنے والے ہر کسی اپوزیشن رہنما پر دیش کا دشمن ہونے کا چارج لگاتے رہے ہیں تو ایڈاوانی جی کو حقیقت کا لبادہ پہن کر سامنے آنا ہی پڑا ۔ پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیک کے معاملے پر جب ائرفورس کے چیف سے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں سوال کیا گیا تھا تو اُنہوں نے ہلاکتوںکا ذکر کرنے سے انکار کیا تھا لیکن اُسی رات کے بعد آنے والی صبح کو جب بی جے پی صدر امیت شاہ نے بھری سبھا میں اڑھائی سو ہلاکتوں کا انکشاف کیا اوراپوزیشن لیڈروں نے تنقیدی سوالات پوچھنا شروع کئے لیکن سوال پوچھنے والوں کو ملک دشمن جتلانے کیلئے حکمران جماعت کے ہاتھ میں چابک آگیا۔ وہ حکمران پھر رُکے نہیں اور اسی ایک نکتے کو اپنی پانچ سالہ ناکامیوں کا ڈھال بنادیا۔ جانے وزیر خارجہ شریمتی سشما سوراج نے کیا خیال کرکے اپنے بیان میں کہا کہ سرجیکل سٹرائیک کے منصوبے میں ہلاکتوں کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی تھی۔ بی جے پی کی مخالف سیاسی جماعتوں کو گلہ یہ بھی ہے کہ مودی جی اپنی پانچ سالہ کارکردگی کا حساب دینے اور عوام کو اعتماد میں لینے کے بجائے کبھی فوج کی سرگرمیوں پر اپنے نام کا ٹھپہ لگاتے رہے ہیں اور کبھی اپوزیشن جماعتوں پر دشمن ملک کا ہمدرد ہونے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ ان لیڈروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے ۲۰۱۴ء میں اقتدار سنبھالتے وقت عوام کو دو کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کا وعدہ دیا تھا لیکن نوٹ بندی کرکے برسر روزگار ہزاروں لاکھوں لوگوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھین لیا گیا ہے۔ رام مندر تعمیر کرنے کا وعدہ ایفا نہیں کیا جاسکا لیکن بدلے میں ملک کی سیکولر روایات کو زک پہنچایا جاتا رہا۔ فرقہ پرستی کو ہوا دینے کیلئے کبھی گائے کو سامنے رکھا گیا اور کبھی اقلیتوں سے جڑے مسائل کو سیاست کے اکھاڑے میں لایا گیا۔پانچ سال کے اس دور میں کورپشن کو فروغ دینے کیلئے نت نئے طور طریقے ایجاد کئے جاتے رہے۔ اپوزیشن نے جب کبھی بھی فرانس سے رافیل لڑاکا جہاز کی خریداری میں بے ضابطگیاں برتنے کا الزام عائد کیا تو جواب میں الزام لگانے والوں کو پھر سے ملک دشمن اور فوج کا مخالف قرار دیا جانے لگا۔ ماضی میں جہاں الیکشن عمل کو مختلف جماعتوںکے الگ الگ سیاسی و اقتصادی نظریات کی بنیادوں پر آگے بڑھایا جاتا تھا، ۲۰۱۹ء کے انتخابات میں خالص فرقہ پرستانہ جنون کا پارہ گرمایا گیا اور مخالفین کو کہیں کمزور اور کبھی فوج کا دشمن مان کراُن کے حقوق پر شب خون مارنے کی کوششیں ہوتی رہیں۔اب بین الاقوامی سطح پر بھی وزیر اعظم کی حیثیت میں نریندر مودی کے طرز عمل کو باعث تنقید بنایا جانے لگا ہے۔بین الاقوامی شہرت کے ایک بھارت نژاد قلم کارآتش تاثیر نے امریکی جریدہ ٹائم میں ’’انڈیاز  ڈیوائڈر  اِن  چیف‘‘ کے عنوان سے مودی کے پانچ سالہ دور اقتدار کو نہ صرف سراسر ناکام قرار دیا ہے بلکہ اس مضمون میں ملک کی یکجہتی و سلامتی کے حوالے سے بھی طرح طرح کے سوال اُٹھائے ہیں۔واضح رہے کہ امریکی میگزین’’ ٹائم‘‘ میں کوئی بھی مضمون چھاپ خانے تک پہنچنے سے قبل سطح بہ سطح جانچا اور پرکھا جاتا ہے اور ایڈیٹروں کی خصوصی کمیٹی کی منظوری کے بعد ہی شائع کیا جاتا ہے۔ مضمون میں تحریر مودی حکومت کی ناکامیوں کو رد کرنے کے بجائے بی جے پی کے مقررین نے مضمون نگار آتش تاثیر پر بھی پاکستانی لیبل چپکا دیا۔ حالانکہ تاثیر کا سارا بچپن دلی کی گلیوں میں ہی گزرا ہے اور اُن کی والدہ تولین سنگھ خود مودی کی طرفدار رہی ہے۔ آتش تاثیر خود بھی پہلے کئی ایک مضامین میں نریندر مودی کی کافی ستائش کرتے رہے ہیں۔ ملک کا دانشور طبقہ و اہل قلم حضرات بھی زیر بحث مضمون کو بے سروپاء باتیں قرار دینے کے بجائے ملک کے بارے میں کافی فکر مندی کا اظہار کر تے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پارلیمانی الیکشن کے آخری پڑائو پر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ووٹراس مضمون کا کیا اثر قبول کرتے ہیں اور ملک کو پھر سے صحیح راہ پر ڈالنے میں کس طرح کا رول نبھاتے ہیں۔
کشمیر کے حالات کے تناظر میں بات کریں توکہنا پڑے گا کہ پچھلے پانچ سال سے وادی کے عوام کا سکھ اور چین مکمل طور سے چھین لیا گیا ہے اور کافی خون بہہ جانے کے بعد بھی حالات میں کوئی بہتری نہیں لائی جاسکی ہے۔کشمیر کے طول وعرض میں جگہ جگہ سینکڑوں ہزاروں فوجی تعینات کئے گئے ہیں اور فوجیوں کو لانے لیجانے کیلئے سیول آبادی کو ہفتے میں دو دنوں کیلئے شاہراہوں پر چلنے سے روکا جاتا رہا ہے۔ اس کے باوجود بھی ایک پارلیمانی حلقہ انتخاب کیلئے تین الگ الگ تاریخوں پر ووٹ ڈالنے کا پروگرام بنایا پڑا تھا۔ لیکن ووٹنگ شرح میں ماضی کے مقابلے میں اور بھی کمزوری واقع ہوئی ہے۔ شوپیاں، پلوامہ اضلاع میں یہ شرح فقط دو عشاریہ اسی فیصد رہی ہے۔ اس پارلیمانی حلقہ کے باقی اضلاع، جہاں پہلے ہی الگ الگ ایام پر ووٹ ڈالے گئے تھے، میں بھی ووٹنگ شرح کافی کم رہی۔ سرینگر حلقہ انتخاب کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ظاہر ہے کہ حکمران کسی بھی سطح پر مخلص ہوتے تو کشمیر میں کچھ نہ کچھ بدلائو بھی دیکھنے کو ملتا۔ لیکن ملکی سطح پر جب کشمیر کو ہی ووٹ کمانے کا ذریعہ بنانا مقصود تھا تو حالات کو جان بوجھ کر بگاڑے بغیر کام کیسے چل سکتا ۔ کہاں ۲۰۱۴ء کا الیکشن زمانہ، جب کشمیر میں لوگ ایک طرف سیلاب کی تباہ کاری سے نڈھال تھے اور دوسری جانب اسمبلی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے عمل میں بھر پور حصہ لیا تھا۔ بدلے میں کشمیری عوم کی سراہنا کرنے کے بجائے اس بستی کو خون سے لت پت ہونا پڑا ۔ اندھا دھند گولیوں سے سینکڑوں نوجوانوں کی جان چلی گئی اور پیلٹ سے ہزاروں شہریوں کو کہیں اندھا بنادیا گیا اور کہیں گہرے زخم دئے گئے ۔ رہی سہی کسر دفعہ ۳۷۰ اور ۳۵ الف کو ہٹانے کی دھمکیاں دیکر پوری کی گئی۔اب الیکشن کے آخری پڑائو پر مرکزی حکومت کو تسلیم کرنا پڑا کہ دفعہ ۳۷۰ کے ساتھ ہاتھ لگانے سے ہاتھ کو ہی جلانا ہوگا۔ مرکزی وزیر شری نیتن گڑکری کا یہ بیان سامنے آنے سے بھی یہی عندیہ ملتا ہے کہ بی جے پی کا اصل الیکشن مینی فسٹو کشمیر تھا اور اس مینی فسٹو پر پلوامہ اور سرجیکل سٹرائیک کا لیبل چڑھا کر ملک کے ایک سو تیس کروڑ عوام کو بہلانے پھسلانے کی ناکام کوششیں ہوتی رہی ہیں۔
 
 

تازہ ترین