تازہ ترین

غزلیات

19 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

 بے کلی بڑھ گئی ہے پہلے سے
کاش کرتے علاج پہلے سے
خوب  اعلان لا علاجی کا
ہم یہی کہہ رہے ہیں پہلے سے
اب تو لہجے کی کاٹ کچھ بھی نہیں
یہ تو بہتر ہوئی ہے پہلے سے
خار چوکس ہیں گُل کے پہلو میں
ہیں تو گُلچیں سے وہ بھی دہلے سے
باغباں آکے بس یہ کہتے ہیں
آشیاں جل رہا تھا پہلے سے
اِن چراغوں کی روشنی دیکھو
تیرگی بڑھ رہی ہے پہلے سے
خوب وعدے وعید خواب سراب
یہی تو ہو رہا ہے پہلے سے
 
ڈاکٹر ظفر اقبال
بلجرشی الباحہ سعودی عرب
موبائل 00966538559811
 
 
تُو مجھے اپنا بنا بھی لے تو کیا مل جائے گا
حسرتیں پہلے گنوا دیں اب فقط دل جائے گا
جُھک گیا چوکھٹ پہ تیری میرا سر تو کیا ہُوا
میں نے جو نظریں اُٹھائیں آسماں ہِل جائے گا
تُو مسیحا ہے کہاں کا ہاتھ میں تاثیر کیا
فصلِ گُل میں داغ میرا خودبخود سِل جائے گا
نفرتوں کا بیج ہی بویا ہے اُس نے ہر طرف
اور اب بھی سوچتا ہے پھر کنول کِھل جائے گا
کب تلک دربان بیٹھے گا ترے رُخسار پر
حُسن ڈھلتا جا رہا ہے اب ترا تِل جائے گا
اب قیامت کی گھڑی جاویدؔ ہے نزدیک تر
خاک سے پیدا ہُوا ہے خاک میں مِل جائے گا
 
سردار جاوید خان
پتہ مہنڈر، پونچھ
رابطہ ؛9419175198
 
 
تیری فُرقت کا فقط ِاتنا اثر باقی ہے
پھیلنی بس مرے مرنے کی خبر باقی ہے
مجھ پہ دنیا کے تو ابواب سبھی بند ہوئے
ہاں مگر اسکا ابھی آخری در باقی ہے
بستیاں تم نے اُجاڑی ہیں نہ جانے کتنی
حادثو آئو ابھی میرا تو گھر باقی ہے
قربِ اَول سے ترے جس کی شروعات ہوئی
آج بھی دل میں مہکتا وہ سفر باقی ہے
زیست کا لمبا سفر موت سے پورا تو ہوا
ہاں ابھی روح کی سیاحی مگر باقی ہے
رات کی بڑھتی سیاہی سے پریشان نہ ہو
یاد رکھ اس سے ہی اُمیدِ سحر باقی ہے
آگ کو پھول اثر ہوتے تو دیکھا تم نے
برف ریزوں کا ابھی ہونا شرر باقی ہے
لاکھ تُو مجھ سے بہت دور ہے لیکن اب بھی
میرے دل پر تری چاہت کا اثر باقی ہے
لوٹ کر آ تو گئے ہو مگر اے جانِ ذکیؔ
روٹھ کر پھر نہ چلے جائو یہ ڈر باقی ہے
 
ذکی طارق
سعادت گنج ، بارہ بنکی،رابطہ7007368108
 
 
رُخِ زیبا پہ آب و تاب رکھنا
نہالِ شوق کو شاداب رکھنا
 
خرد مندوں کو ہو ساحل مبارک
مرے حصے میں یہ گرداب رکھنا
 
مرا صحرائے جاں بے برگ ٹھہرا
مگر آنکھوں میں فصلِ خواب رکھنا
 
جنوں سامانیوں کی اِنتہا ہے
دِلا ملحوظ کچھ آداب رکھنا
 
میسر جلوہ سامانی ہے جس کو
مرے پہلو میں وہ مہتاب رکھنا
 
خبر کی بات سمجھائو تو واعظ
نظر میں منبرو محراب رکھنا
 
کتابِ زندگی لکھتے ہو مشہورؔ
محبت کے لئے اِک باب رکھنا
 
محمد یوسف مشہورؔ
کپوارہ،موبائل نمبر؛9906624123
 
 
ہروفاکے لیے جفادی ہے 
آپ نے بھی یہ کیاسزادی ہے 
 
خط لکھاتھا جومیں نے اُسے کبھی 
اُس نے تحریروہ جلادی ہے 
 
جب سے ٹوٹاہے دِل میرامیں نے 
آنسوئوں کی ندی بہادی ہے 
 
جب بھی آئے ملنے وہ میں نے 
زِندگی راہ میں بچھادی ہے 
 
میں کہ رُسوا ہوا ہوں دُنیا میں
اُس نے ہر بات کو ہوادی ہے 
 
ہر ستم سے نوازا مجھ کو ہتاشؔ 
پیار میں اُس نے یہ سزا دی ہے 
 
پیارے ہتاشؔ
دوردرشن گیسٹ لین، جانی پورہ جموں
موبائل نمبر؛8493853607
 
 
یہ قیامت کا ہے منظر دیکھ لے
ہاتھ میں اپنوں کے خنجر دیکھ لے
 
بے وفائی، بے رخی اور بے بسی
جو دکھائے گا مقدر، دیکھ لے
 
کربلا ہے آج بھی ہر اک طرف
کیسے لٹتا ہے مرا گھر دیکھ لے
 
جس نے اشکوں کے سوا کچھ نہ دیا 
آج اُس کو بھی ہنسا کر دیکھ لے
 
بھول جانا اس کو ممکن ہی نہیں
جا! تو خود کو آزماء کر دیکھ لے
 
ہے طلب، طالبؔ کہاں ملتا ہے کچھ
حالِ دل دلبر سے کہہ کر دیکھ لے
 
اعجاز طالبؔ
حول ، سرینگر،موبائل نمبر؛9906688498
 
 
 
ہاں وہ درویش ہے پر کتنا ہے
خرقہ ٔ خیر میں شر کتنا ہے
 
قلتِ آب سے بے حال ہیں لوگ
تجھ میں اے دیدئہ تر کتنا ہے
 
اس کی ہر شاخ ہی سجدے میں ہے
بار  آور یہ شجر کتنا ہے
 
اتنی لمبی بھی جدائی تو نہ تھی
یہ دوپٹہ ترا تَر کتنا ہے
 
خالی پن اس میں کھنکتا ہے بہت
میرے کشکول میں زر کتنا ہے
 
حرف در حرف  پرکھ کر دیکھا
خشک یہ مصرعٔ تر کتنا ہے
 
اک بدن فتح کیا آنکھوں میں
نشۂ فتح و ظفر کتنا ہے
 
میں تو منظر ہوں مرے رنگ اُڑے
اور تجھ آنکھ میں ڈر کتنا ہے
 
رفیق رازؔ
سرینگر، موبائل نمبر؛9622661666
 
 
 
غزلیات
نہ سہی جائے  تیری دُوری  پیا
تُجھ بن زندگی ہے ادھوری پیا 
میں مایوس ہو جاتا ہوں بہت 
جب بھی شام ہو  سندو ری پیا 
کُچھ بھاتا نہیں بن تیرے مجھے 
 تو ُ  ملے  ہر کمی  ہو  پُوری  پیا 
من کھنچا  چلا  جاتا  ہے  وہا ں 
مہکے  جب کہیں  کستوری پیا 
 مجھ کو  یاد  اب بھی  ہے وہ منیؔ
تیرا یووَن رس انگوری پیا 
 
     ہریش کمار منیؔ بھدرواہی 
hkmani1990@gmail.com     
 
یہ جُھولاتھم گیا اب تو  اسے پھر سے جھلا نا  مت
بڑی مشکل سے جاگا ہوں مجھے پھر سے سُلانا مت
نہیں پرواہ مجھے کوئی  اندھیرے یا اُجالے کی
مگر اتنا کرو احساں یہ مشعل پھر جلانا  مت
اگر تنہا  سمیٹو گے تو  خوشیاں  راس  آئیں  گی
جہاں خوشیوں پہ بن آئے وہاں مجھکو بلانا  مت
گئے وہ دن کہ جب میں لوٹ آ تا تھا اشارے سے
بھرم دے کر مجھے کوئی خدارا پھر ستانا  مت
زمانہ لگ گیا پھر سے مبارکؔ کو سنورنے میں
ابھی تازہ کوئی سپنا اسے پھر سے دکھانا مت
 
مبارک لون
طالب علم شعبہ اردو کشمیر یونیور سٹی۔رابطہ نمبر؛7006760284
 
 
میں پیکر ہوا آج رنج و محن کا 
چراغِ سحر ہوں کسی انجمن کا
خزاں فصلِ گل میں قضا بن کے آئی
کہ ہر پھول مُرجھا گیا ہے چمن کا
تو سج دھج کے اک بار آنا مرے گھر
میں ملبوس پہنوں گا جس دن کفن کا
چلائے ہیں تیرِ ستم تو نے مجھ پر 
لہو اب تو سارا بہا ہے بدن کا
پلا دو مجھے آج جی بھر کے ساقی!
میں عادی بہت ہوں شرابِ کہن کا
جو حق بات کہتا ہو ہر وقت یارو!
اسے خوف کیوں کر ہو دار ورسن کا
جگر تیرا زخمی ہے شادابؔ اس پر
لگا آج مرہم تو اپنے سخن کا
 
 محمد شفیع شادابؔ
پازلپورہ شالیمار،سرینگر کشمیر
رابطہ؛ 9797103435
 
مل گئے اہلِ کرم دل کے سہارے کھو گئے
رات لمبی ہو گئی دن کے اُجالے کھو گئے
میں بلندی سے گرا صحرا مقدر تھا مرا
جو میرے دامن میں تھے سارے ستارے کھو گئے
کتنے طوفان ٹال کر منزل نے دی آواز جب
موسموں نے رنگ بدلا اور کنارے کھو گئے
دل میں رہ کر دوستوں کے زندگی آباد تھی
جب سے وہ پتھر ہوئے میرے ٹھکانے کھو گئے
رک گئی میری نگاہیں جب نظاروں پر کبھی
آندھیاں ایسی چلیں دل کش نظارے کھو گئے
رہبروں نے چھل کیا، سادہ دلوں سے جب سعیدؔ
ان کے سارے زندگی کے دن سہانے کھو گئے
 
سید احمد سعیدؔ
احمد نگر، سرینگر
موبائل نمبر؛8082405102

تازہ ترین