تازہ ترین

کشکول

کہانی

19 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

حبیب ہمراز
’’اوڈیڈی !آپ ہمیں روزانہ تنگ کرتے ہیں اور چین سے بیٹھنے نہیں دیتے۔ہم فلم دیکھ کر ابھی سو گئے ہیں۔ہماری نیند اُچٹ جائے گی۔صبح ملیں گے‘‘گڈ نایٔٹ کہہ کر انہوں نے دروازہ بند کر دیا۔اپنے لاڑلوں کی طرف سے دروازہ بند کرنے کے بعد سکندر صاحب کو کرارا جواب مل گیا۔اُس نے دوسرے کمرے میں سوئی اپنی شریک حیات کے پہلو میں جانے کی خواہش کی تاکہ اُس کے ساتھ یہ روگ بانٹنے کی کوشش کرے لیکن بیوی نے دُھتکار کر کہا۔ ’’تمہیں راتوں کو جاگنے کی لت پڑ گئی ہے، میری نیند خراب مت کرو اور اپنے کمرے میں جا کر سو جا۔‘‘
وہ بے نیل و مرام اپنے کمرے میں چلا آیا۔اگر چہ یہ اُس کے لئےکوئی نئی بات نہیں تھی بلکہ یہ اس کے لئے روز کا معمول تھا،تا ہم کچھ عرصہ سے اس روکھے
اور تیکھے بر تاؤ میں شِدت آگیٔ تھی۔وہ بیگا نگی محسوس کر رہا تھااور اپنی سُدھ بُدھ کھو چکا تھا۔وہ بستر پر کروٹیں بدلتا رہا۔نیند کوسو ں دور تھی۔ دل کا سکون درہم برہم ،بے چینی اور بیقراری حد سے زیادہ تجاوز کر چکی تھی۔مخملی بستر ،وضع دار مسہری ،نرم و گدازتکیے۔ریشمی قالین،ولایتی صوفے،کھڑکیوں پر آویزاں زرین پردے ، سب کچھ تھا مگر یہسکون قلب کے لئے معاون مدد گار ثابت نہیں ہو رہے تھے۔وہ کبھی دالان پر توکبھی اپنی شاندارکو ٹھی کے سامنے خوبصورت لان میں ٹہلتا رہا۔سگریٹ کے کش پہ کش لیتا رہا۔خواب آور گولیاں نگلتا رہا لیکن سب بے سود۔آرام و سکون عنقاتھا۔اُس کے شب و روز اجیرن بن چکے تھے۔
سکندر صاحب کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہوے تھوڑا عرصہ گزر چکا تھا ۔سبکدوشی کے بعد ہی اُس کو بیوی بچوں کے عادات و اطوار جانچنے کا موقع ملا۔وہ یہ جان کر تشویش میں پڑ گیاکہ وہ اُس کی کمائی ہوئی دولت آوارہ گردی اور فضول کاموں میں لُٹا رہے ہیں۔بیٹے عیش پرستی اور فیشن پرستی کا شکار اوربیٹیاںرنگین تتلیوںکی طرح اُ ڑ رہی ہیںاور اُن کی ماں ،جس نے  اپنے اُوپر تیس سال کی جوان عورت کا خول چڑھا یا تھا، بیٹیوں کی ہمر کاب بن گئی تھی۔ اُن کی بلائیںلے رہی تھی اور ہرہر قدم پر اُن کی طرفداری کر رہی تھی ۔اپنے دفتراور دفتریوں کے عشق نے سکندر صاحب کو اپنے شکنجے میں اتنا کس لیا تھا کہ اُس کو اپنے بچوں کی طرف کبھی دھیان دینے کی فر صت ہی نہیں ملی تھی۔اب جب پانی سر سے اوپر ہونے لگا اورمستقبل کی عمارت ہچکو لے کھاتی نظر آئی۔تو ا ُسکا احساس جاگ اُ ٹھا۔ اُس نے بیوی اور بچوں سے پوُچھا ’’تم لوگ میری کمائی ہوئی دولت کو یوں برباد کیوں کررہے ہو۔کیا میں نے اِسی لئے یہ دولت جمع کی ہے‘‘؟۔بچے دولت کی فراوانی اور ماں کی طرفداری کی وجہ سے منہ پھٹ ،سرکش اور بیباک ہو گئے تھےاُنہوں نے تُرکی بہ تُرکی جواب دیدیا’’ڈیڈی آپ پریشان مت ہوجایئے‘۔آپ کا یہ کشکول لبا لب بھرا ہوا ہے، اتنی جلدی خالی نہیں ہوگا‘‘۔
جواب سُن کر سکندر کے ہوش ٹھکانے آگئے۔وہ جیسے آسمان کی بلندی سے گِر کر پاتال کی گہرائیوں میںڈوب گیااور ماہیٔ بے آب کی طرح تڑپنے لگا اور اپنے آپ سے بڑ بڑانے لگا’’اپنے ہی خون نےآج میری قلعی کھول دی ہے۔یہ اُن کا تجزیہ ہے پاس پڑوس والے کیا کہتے ہوں گے۔‘‘اُس کے دماغ پر ہتھوڑے پڑ رہے تھے اور حواس ماؤف ہو رہے تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیوی بچوں اور اُس کے درمیاں خلیج بڑ ھتی گئی وہ اُن سے دور ہوتا گیا،یہاں تک کہ تنہائی کے عفر یت نے اُس کو پوری طرح اپنے پنجوں میں دبوچ لیا۔ایک رات، جو بڑی سیاہ اور سرد رات تھی،آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے،تیز ہوأوں کے ساتھ گن گرج نے ماحول کو ڈرأونا بنا دیا تھا۔سکندر حسبِ معمول بستر پر کر وٹیں بدلتا رہا۔وہ ماضی کی تلخ و شرین یادوں کی وادیوں میں ٹھو کریں کھانے لگا۔بچپن کی حسین میٹھی یادیں دماغ پر منعکس ہو گیںٔ۔جب اُس کی عمر پندرہ سولہ سال کی تھی۔والدین نے غربت کی حالت میں کتنی محنت اورجانفشانی سے تعلیم دلائی۔۔کیا سُہانے د ن تھے۔پیارو محبت کی پھلجڑیاں تھیں۔بہن بھائیوں کی اٹکھیلیوں۔شورو غل اور رُوٹھا رُوٹھی میں کتنا لطف و سکون تھا۔۔
والد کی شفقت اور والدہ کی ممتا کے خزانوں سے جھولی بھری رہتی تھی۔ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد بڑا آفسر بن گیااور والدین کی خدمت میں لذت و سرور حاصل کرتا رہا۔وقت گذرتا رہا۔۔والدین کی وفات کے بعد اُسکی کایا پلٹ گئی۔اُس کی زندگی میں انقلاب آگیا۔
بہنوں کی شادی ہوئی اور بھائیوںنے الگ بودوباش اختیار کی۔وہ خود مختار بن گیا۔نوکری میں ترقی ہوئی تو وہ اُس سے بھی بڑا آفسر بن گیا۔اب وہ گھر میں بھی اور دفتر میں بھی خود مختار تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے سونےچاندی کا ایک سیلاب اسکے قدموں میں اُمڈ آیا۔
ایسا سیلاب جس میں وہ تنکے کی طرح بہتا رہا۔بھلے بُرے، حق و نا حق اور حلال و حرام کی تمیز مٹ گیٔ۔وہ قلم کی نوک سے اپنی اور اپنے دفتر والوں کی تقدیر سنوار نے میں مصروف ہوگیااور ایک عادی شرابی کی طرح  ہر وقت اس نشے میں مست رہا۔اب جبکہ اُس کا احساس جاگ اُٹھا تو وہ جان گیا کہ وقت نے اُس کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ مار دیاتووہ ماضی کی آگ میں ُجھلسنے لگا۔یاد ِماضی ایک عذاب بن گیا۔وہ ماضی کے اس تاریکِ باب کو بھولنے کے جتن کرتا رہااور پچھتاوے کی چادر اوڑھ کر اپنے آپ کو چھپانے کی سعٔی لا حاصل کرتا رہا۔لیکن یہ کیا؟وہ چیخا۔وہ تڑپا۔اُس پر وحشت طاری ہوئی۔خوفناک منظر آنکھوں کے سامنے رقصاں تھا۔کیٔ بھیانک اور مہیب ساے کمرے میں داخل ہوئے۔سکندر ہڑ بڑایا اور اُن سے پوچھا۔
’’تم لوگ کون ہو اور مجھ سے کیا چاہتے ہو‘‘؟تمام سائے اُس کے ارد گرد منڈلا نے لگے اور ایک ساتھ چلا کر کہنے لگے۔
ــ’’سکندر صاحب ہم وہی پیکر ہیں جن کوآپ نے صرف کاغذی پیراہن پہنالئے اور سیاہی کی لکیروں تک ہی محدود رکھا۔ہم اپنی تکمیل چاہتے ہیں‘‘۔
’’خدارامجھے اکیلا چھوڈدو۔میں بے بس ہوں۔میرے پاس کچھ نہیں ۔سب وقت کی گردش کے نذر ہو گیا۔
مجھے اکیلا رہنے دو۔میں کسی کا نہیں ۔کوئی میرا نہیں ۔مجھے سبھوں نے ٹھکر ادیاہے‘‘۔ سکندر دیوانہ وار  چلاتا رہا۔چلاتا رہا۔چلاتا رہا۔تمام سا یوں نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور کہا’’گبھرائے مت سکندر صاحب ۔۔آپ اکیلےنہیں۔۔ہم آپ ساتھ ہیں۔عمر بھر آپ ساتھ رہیں گے۔۔آخری لمحات تک آپ کی  لحد میں بھی آپکا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔
 
تارزہ سوپور، کشمیر،موبائل نمبر؛9796953161   
 

تازہ ترین