تازہ ترین

کشمیر ۔۔۔ حل صہیونی فارمولے میں مضمر نہیں

زہرسے دوائے مرض ہے حماقت

18 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر جاوید اقبال
 تجزیہ کاروں میں کچھ ایسے بھی حلقے ہیں جن کا یہ ماننا ہے کہ کشمیر میں جن سیاسی مسائل کا بھارت کو سامنا ہے اُس کا بہترین حل یہی ہے کہ اسرائیل نے جیسے فلسطینی آبادی کو یہودیوں کی نو آباد کاری سے نرغے میں لے لیا ہے، ویسے ہی بھارتی افواج کے وہ فوجی جو ریٹائر ہو چکے ہیں،اُنہیں کشمیر کی سرحدوں پہ بسایا جائے جس سے مزاحمتی قوتوں کو نرغے میں لے کے اُن کی حوصلہ شکنی ہونے کے ساتھ ساتھ سرحد پار کی گھس پیٹھ پہ روک لگائی جا سکے۔ان تجاویز کو پیش کرنے والوں میںجہاں کئی دوسرے اہل نظر و صاحب فکر حضرات ہیں وہی الیکٹرانک میڈیا اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پہ اکثر و بیشتر دیکھائی دینے والے سبرامنیم سوامی بھی اِس نظریے کے زبردست پرچارک بنے ہوئے ہیں۔کشمیر کو اسرائیلی رنگ میں رنگنے کی جو کوشش سبرامنیم سوامی اور اُن کے ہم نوا افراد کر رہے ہیں وہ کچھ تو تاریخی حقائق سے نابلد ہونے کی وجہ سے ہے اور کچھ اغراض و مقاصد کی بر آوری سے تعلق رکھتا ہے۔ایک عمیق تاریخی مطالعے میں دیکھا جائے تو بہ حیثیت ایک ریاست کے اسرائیل کا وجود ٹھوس بنیادوں پہ مبنی نہیں ہے۔ 
زمانہ قدیم میں ممالک کے درمیان دور حاضر کی مانند کوئی مملکتی حد و بند نہیں تھی یعنی سرحدوں کا تعین نہ ہونے کے برابر تھا چناچہ لوگ آزادی سے ایک ملک سے دوسرے ملک میں جا کے بود و باش اختیار کر لیتے تھے ۔دور حاضر کی مانند افراد کی شناخت کیلئے پاسپورٹ سسٹم کا وجود نہیں تھا نہ ہی ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانے کیلئے پروانہ راہداری کی ضرورت ہوتی تھی۔زمانہ قدیم کی مذہبی نشاندہی اور تاریخی شہادتوں کا حوالہ دے کر عصر حاضر میں قومیت کا تعین سنگین مسائل کو جنم دے سکتا ہے جیسا کہ اسرائیل ریاست کے قیام سے منظر عام پہ آیا ہے۔قوم یہود نسلاََ عبرانی کہلاتی ہے جن کا آبائی وطن کنعاں تھا۔اپنے آبائی وطن سے یہ لوگ مصر منتقل ہوئے۔مہاجرت کا یہ سلسلہ تب انجام پذیر ہوا جب حضرت یوسف ؑ عزیر مصر تھے۔حضرت یوسف ؑ جو خود بھی نسلاََ عبرانی تھے کیسے عزیر مصر بنے یہ قران کریم میں سورہ یوسف میں تفصیل سے منعکس ہوا ہے۔ چہار سو سال کے عرصے میں مصر میں عبرانیوں کی تعداد بڑھنے لگی جس سے مصریوں کو یہ پریشانی لا حق ہوئی کہ کہیں عبرانیوں کی مجموعی تعداد مصریوں سے بڑ ھ نہ جائے چناچہ وہ فرعون مصر کے عتاب کا شکار ہوئے۔اِن نا گفتہ بہ حالات میں حضرت موسی ؑ کا ظہور ہوا جنہوں نے ایک طویل مبارزے کے بعد عبرانیوں کو مصر سے نکالا۔  
عبرانی مصر سے نکل کے حضرت موسی ؑ و اُن کے بھائی حضرت ہارون ؑ کی رہبری میں صحرائے سینائی کو عبور کر کے اسرائیل میں جا بسے ۔یہی صیہونی دعوے کی دلیل ہے کہ اسرائیل اُن کا آبائی ملک ہے جب کہ تاریخی حقائق کی بنیاد پہ کہا جا سکتا ہے کہ عبرانیوں کا آبائی وطن کنعان ہے جہاں سے وہ مہاجرت کر کے مصر اور مصر سے اسرائیل پہنچے۔تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ قوم یہود اکثر و بیشتر مہاجروں کی مانند ہی بو دو باش اختیار کرتی رہی ۔جہاں اُن کی بود و باش کے آثار مصر و اسرائیل میں پائے جاتے ہیں ،وہیں یہ بابل کے بھی رہائشی رہے ہیں جہاں سے اُنہیں ایرانی بادشاہ بخت ناصر نے بے دخل کیا۔ ماضی قریب میں یہودیوں کی آبادیاں یورپی اور کچھ ایشائی ممالک میں بھی پائی گئیں بلکہ آج بھی یہود امریکہ اور یورپ میں اپنا بسیرا بنائے ہوئے ہیں جہاں ملکی اثاثہ جات و مطبوعات پہ وہ اس حد تک قابض ہیں کہ وہ ملکی پالسیوں پہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ امریکہ کا کوئی بھی صدر یہودی لابی کو نظر انداز کرنے کی جرات نہیں کر سکتا ۔
اسرائیل پہ یہودی تسلط کو زماں قدیم کی تاریخ کو مد نظر رکھتے ہوئے جائز مان لیا جائے تو یہ بقول علامہ اقبالؒ اسپین پہ مسلمین کا حق جتانے کے متراوف ہو گا چونکہ مسلمین نے کم و بیش 800 سال اسپین میں بود و باش اختیار کی جبکہ زمام حکو مت بھی اُن کے ہاتھ میں تھے۔ علامہ ؒ کا فرمانا ہے  ؎
 ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوںاہل عرب کا 
تضمین بر اینکہ ہسپانیہ پر اعراب نے 750ء سے1492ء تک حکومت کی۔تاریخ کے اِن پہلوؤں پہ مذہبی منافرت کے اندھے پن میں سبرامنیم سوامی جیسے افراد کی نظر کہاں پہنچ پاتی ہے نہ یہ امکان ہے کہ کبھی پہنچ پائی گی۔تاریخ اِس حقیقت کی گواہ ہے کہ کشمیر ہزاروں سال سے کشمیریوں کا وطن رہا ہے اور کشمیری کسی بھی تاریخی دور میں قوم یہود کی مانند مہاجر نہیں رہے ہیں بنابریں قوم یہود اور کشمیریوں کو ایک ہی تاریخی پلڑے میں نہیں تولا جا سکتا۔ فلسطین کی مانند یہاں کشمیر کی اراضی کو باہر کے لوگوں کو بسا کے کشمیریوں کیلئے زمیں تنگ کرنے کی مذموم کوششیں کبھی بھی رنگ نہیں لا سکتیں چونکہ یہ تاریخ کی الٹی گنتی کے متراوف ہو گا۔اگر یہ بات بھارتی تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہی جاتی تو مانا جا سکتا تھا کہ سبرامنیم سوامی وطن پرستی کے جذبے کے ساتھ اظہار خیال فرما رہے ہیں لیکن تاسف کا مقام ہے کہ مسلہ کشمیر کو ایک انسانی مسلہ سمجھنے کے بجائے اُسے فرقہ وارانہ رنگ میں رنگنے کی ایک ایسی مذموم کوشش کی جا رہی ہے جو عقل و منطق کے ترازو پہ کہیں بھی اترتی ہوئی نظر نہیں آتی۔
سبرامنیم سوامی اور اُن کے ہم نوا تجزیہ کار وں کی سمجھ یہی تک محدود ہے کہ پاک بھارت تعلقات کو فروغ دینے کے بجائے بھارت کے حق میں یہی مناسب رہے گا کہ وہ پاکستان کے چہار ٹکڑے کرنے کی جانب گامزن رہے ۔ سبرا منیم سوامی نے اپنے کئی ٹویٹر پیغامات میں اِن ہی لائنوں پہ اظہار نظر کیا ہوا ہے۔جہاں تک پاکستانی انتظامیہ کے تحت کشمیر کا تعلق ہے جسے عرف عام میں آزاد کشمیر کہا جاتا ہے اُس کے بارے میں موصوف کا ماننا ہے کہ جیسے بھی ہو اُسے بھارت سے ملایا جانا چاہیے چونکہ ہ بھارت کا حصہ ہے۔ گلگت بلتستان کے بارے میں بھی اُن کا نظریہ یہی ہے۔پاکستان کے ضمن میں جہاں سبرامنیم سوامی اپنے پرچار کو سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پہ جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں وہی چین کے بارے میں وہ محتاط نظریہ اپناتے ہو ئے نظر آتے ہیں۔ وہ چین کے ساتھ بھارت کے تعلقات بنائے رکھنے کے حامی ہیں۔ہند و پاک کے مابین پلوامہ کے سانحہ کے بعد اُنکے ایک ٹویٹ میں یہ بھی ذکر ہوا کہ ہند و پاک تنازعے میں چین نے لا تعلق رہنے کا عندیہ دیا ہے۔ اب یہ کہ واقعی چین نے ایسا بیاں دیا ہے یا یہ موصوف کی ذہنی اخترع ہے سچ تو یہ ہے کہ نہ صرف سبرامنیم سوامی بلکہ بھارت میں اکثر سیاسی و سفارتی حلقوں کا یہی خواہش ہے کہ چین کو ہند و پاک تنازعے سے لا تعلق رکھا جائے جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ چین اپنے اغراض و مقاصد کی بر آوری کیلئے پاکستان میں کم و بیش 62بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔اِس حد تک وسیع سرمایہ کاری کے بعد کیا چین پاکستان کی سیکورٹی سے لاتعلق رہ سکتا ہے یہ ایک غور طلب سوال ہے؟
سبرامنیم سوامی اور اُن کے ہم خیال انتہا پسند در صل بر صغیر ہند و پاک میں خصوصاََ اور جنوبی ایشیائی ممالک میں عموماََ ایک ایسی سیاسی فضا قائم کرنے کے خلاف ہیں جس سے خطے میں امنیت کو فروغ ملے ۔ظاہر ہے دنیا کے اور خطوں کی مانند جنوبی ایشیائی خطے میں بھی ممالک کے مابین مسائل ہیں جن کے حل کی تلاش میں امنیت ایک ایسی ضرورت ہے جس کا کوئی عقل کا کورا ہی مخالف ہو سکتا ہے لیکن سچ تو یہ ہے َ سبرا منیم سوامی جیسے ظاہراََ پڑھے لکھے افراد بھی سیاسی تسلط کے حماتیوں میں شامل ہیں۔ موصوف کا تعلق امریکہ کی معروف یونیورسٹی  ہار وڑ (Harvard)سے رہا ہے۔بھارت بے شک جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا ملک ہے  البتہ اپنے ہمسائیوں سے پُر امن تعلقات رکھنے سے ہی بھارت اقوام عالم میں اپنا مقام بنائے رکھنے میں کامیاب ہو سکتا ہے جبکہ سفارتی تعلقات میں کچھاؤ کی صورت میں جنوبی ایشیائی ممالک کے لئے چین سے تعلقات بڑھانا ایک ایسا آپشن ہے جو جنوبی ایشیائی ممالک استعمال کر رہے ہیں ۔ پاکستان کے علاوہ سر ی لنکا، نیپال ، ملادیپ اور بنگلہ دیش اِس آپشن کا بھر پور استعمال کر رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں جنوبی ایشائی تنظیم سارک کا حجم گھٹتا جا رہا ہے اور یہ خطے کیلئے کوئی اچھی خبر نہیں۔ 
سبرامنیم سوامی اور اُن کے ہم خیال بھارتی تسلط کے ہم نوا نظر آتے ہیں جب کہ خطے کی مجموعی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے سیاسی و سفارتی زمین تسلط کیلئے ہموار نظر نہیں آتی بنابریں امنیت و ممالک کے مابین ہم آہنگی ہی بھارتی مفادات کو تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ ہند و پاک تنازعات کو ہوا دینا اور ایک فیصلہ کن جنگ کی ترغیب دینے والے سبرامنیم سوامی جیسے لوگ یہ بھول چکے ہیں کہ وہ ایسے دو ملکوں کو لڑوانے کی صلاح دے رہے ہیں جو ایٹمی طاقت سے لیس ہیں اور ایسے میں جنگ کا نتیجہ ایک مجموعی تباہی کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا۔ سبرامنیم سوامی جیسے افراد کے اظہار نظر سے یہی لگتا ہے کہ برصغیر میں مذہبی اعتبار سے جو دوسری بڑی جمعیت ہے یعنی مسلمین اُنہیں دبانے و اُن پہ دھونس جمانے سے ہی بر صغیر میں سب سے زیادہ کثیر تعداد میں بسنے والی مذہبی جمعیت کو بالادستی حاصل ہو سکتی ہے۔سبرامنیم سوامی اور اُن کے ہم خیال بھارت کو آگ سے کھیلنے کا مشورہ دے رہے ہیں جو بر صغیر میں بسنے والے افراد کیلئے چاہے وہ ہندو ہوں مسلمان ہوں وہ بھارتی ہوں پاکستانی ہوں یا بنگلہ دیشی یا کشمیر کے متنازعہ علاقے میں رہنے والے لوگ کسی کے فائدے میں نہیں ہو سکتا۔بر صغیر ہند و پاک میں رہنے والے افراد بھلے ہی مذہبی اعتبار سے ہندو ہوں مسلمان ہوں یا کسی اور مذہب کے ماننے والے اُس جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے جس کی ترغیب سبرامنیم سوامی اور اُن کے ہم نوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔بر صغیر میں ماضی میں بھلے ہی مذہب کو بنیاد بنا کے کچھ فیصلے لئے گئے ہوں جن میں 1947ء کی تقسیم کو ایک ایسا فیصلہ مانا جا سکتا ہے لیکن در حال حاضر بر صغیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سبرامنیم سوامی جیسے افراد کی مذاہب و تاریخ کی غلط تعبیر کا نتیجہ ہے ۔پاکستان میں قتل غارت کی وجہ بھی یہی ہے اور بھارت میں بھی کشیدگی کی وجہ بھی یہی ہے ۔
سبرامنیم سوامی جیسے افراد کا یہ نظریہ کہ اسلام کا فروغ اعراب سے باہر ایرانیوں اور ترکوں میں دباؤ و دھونس سے ہوا صیح ہوتا توایرانی و ترک اسلامی پرچم کو دیگر ممالک میں لے جانے میں پیش پیش نہ رہتے۔ ایرانیوں و ترکوں کو یہ احساس ہوتا کہ اعراب اُن کے ممالک کو فتح کر کے اُن پہ مسلط ہوئے ہیں تو وہ اسلام کے مزید فروغ میں اتنے کوشاں نہ رہتے جتنے وہ رہے۔۔سچ تو یہ ہے کہ ترکوں و ایرانیوں کو اسلام کے آفاقی پیغام نے متاثر کیا اور یہی وجہ ہے کہ وہ اِس پیغام کے داعی بن گئے۔تاریخ گواہ ہے کہ دین اسلام کے فروغ میں نہ ہی کوئی فاتح تھا نہ ہی کوئی مفتوح بلکہ فتح سچ کی ہوئی اور سچ ہی فاتح قرار پایا ۔جہاں تک بھارت میں مسلمین کی آمد اور حکومت کا سوال ہے تو یہ خالص ایشائی مرکزی کے سلاطین کی مہم جوئی تھی جسے قرون اولی کے اسلامی فروغ سے نسبت نہیں دی جا سکتی۔ بھارت میں اگراُس زمانے میں داخلی کمزوریاں نہ ہوتیں تو ایبک، خلجی، افغان و مغل سلاطین اتنے بڑے ملک پہ غالب نہیں ہو پاتے۔یہ سلاطین 12 صدی سے لے کے 16ویں صدی تک ہندوستان پہ چھا گئے ۔مسلم سلاطین کی ہند میں آمد اور اِس ملک پہ قابض ہونے کی تگ دو اسلام کی خاطر ہوتی تو پھر خلجی ایبکوں سے اور مغل خلجیوں سے اورافغان مغلوں سے کیوں اُلجھتے جبکہ وہ سبھی مسلمان تھے؟مغلوں نے1526ء سے 1857ء تک حکومت کی اور پھر داخلی کمزوریوں نے مغلوں کو آ گھیرا ور سمندر پار کے فرہنگی ایک قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود داخلی تفرقے کوڈھال بناتے ہوئے بھارت پہ چھا گئے ۔ فرہنگیوں میں بھر پور فنی صلاحیتیں تھیں جس نے اُنہیں افرو ایشیائی عوام پہ غالب ہونے کی صلاحیت بخشی اوردیکھا جائے تو 1526ء میں بابر کے پاس توپ وبارود جیسا جدید اسلحہ نہ ہوتا تو شاید وہ پہلے خلجیوں پہ ا و رپھر رانا سانگا پہ غلبہ حاصل نہ کر پاتے ۔پس یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جدید ترین فنی صلاحیت خاصکر اسلحہ سازی میں اقوام کو فوقیت حاصل کرنے کی راہیں دکھاتی ہیں۔یہ ایک تاریخی حقیقت رہی ہے بھلے ہی اسے معنوی اصولوں کے منافی مانا جائے۔اس میں مسلمان ہندو یا اقوام فرہنگ کا عیسائی مذہب بیچ میں کہاں آتا ہے؟
Feedback on: Iqbal.javid46@gmail.com
