کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

17 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مفتی نذیراحمد قاسمی صدرمفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ

 

 روزوں کے متفرق مسائل
 
سوالات

(۱) گردوں میں پتھری ہو تو کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟

(۲) روزوں کے بدلے فدیہ کس فرد پر لاگو ہوتا ہے؟
(۳) معدے میں تیزابیت(Acidity)ہو جس کی وجہ سے دل میں جلن محسوس ہوتی ہے( Heart Burn) کیا اس صورتحال میں روزہ رکھ سکتے ہیں؟
(۴) جسم کے اندرونی حصہ میں السر (ulser)ہے، جس کی وجہ سے(Black Motion)ہوتی ہے ، کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟
(۵) جو ماں بچے کو دودھپلاتی ہو روزوں کے متعلق ان کو شریعت کیا حکم اور کیا گنجائش دیتی ہے؟
(۶) کیا ہم روزوں کے درمیان اندام نہانی میں وہ دوائی رکھ سکتے ہیں جس کا مقصد لیکویریا کا علاج ہوسکتا۔
(۷) استھما کی بیماری میں Inhaler کا استعمال کرنے سے روزہ متاثر ہوتا ہے؟
(۸) کیا روزوں میں دریا میں تیرنے کی اجازت ہے؟
(۹) حاملہ عورت روزہ رکھ سکتی ہے یا نہیں؟
(۱۰) تمباکو نوشی ختم کرنے کے لئے رمضان بہترین موقعہ ہے۔ کیا روزہ کی حالت میں تمباکو استعمال کرسکتے ہے یا نہیں؟
(۱۱) ا?ٹھ سال کا بچہ روزہ رکھ سکتاہے؟
(۱۲) میں نصف سر کے درد میں مبتلا ہوں کیا میں روزہ رکھوں یا روزہ چھوڑدوں؟
(۱۳)میں ہائی بلڈ پریشرکا مریض ہوں کیا روزہ رکھ سکتا ہوں؟
(۱۴) میں ذیابیطس کا مریض ہوں مجھے دوائی کھانی پڑتی ہے کیا میں روزہ رکھ سکتا ہوں؟
(۱۵) میں رمضان کے روزہ سے ہوں انگلی سے خون کے قطرے لینے پڑتے ہیں تاکہ شکر کی جانچ ہوسکے تو کیا ایسا کرسکتے ہیں؟
(۱۶) معالج صاحب میں روزے رکھتا ہوں۔ رمضان میں کھانے کے متعلق کچھ مشورے دیجئے۔
(۱۷) کس کس شخص کو روزے رکھنے سے چھوٹ دی گئی ہے؟
(۱۸) روزے کی حالت میں انجکشن لگانے کی اجازت ہے یا نہیں اسی طرح گلوکوز جسم میں بھرا جائے تو اجازت ہے یا نہیں؟
(۱۹)روزے میں میں ٹوتھ پیسٹ کرسکتے ہیں یا نہیں؟
(۲۰) روزے کی حالت میں تیل، پرفیوم وغیرہ استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟
ڈاکٹر فیروز احمد نقشبندی
جواب:   تمہید:
اسلام نے مسلمانوں پر روزہ فرض کیاہے لیکن چند اعذارکی بنا پرر وزہ قضا کرنے اور عذر ختم ہونے کے بعد روزہ رکھنے کی بھی اجازت دی ہے۔ اْن اعذار میں سے ایک عْذر بیماری بھی ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ، تم میں سے جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اتنے دن کے روز ے بعد میں رکھ لے جو مرض یا سفر کی وجہ سے چھوٹ گئے۔
اب کس مرض کی وجہ سے روزہ چھوڑ دینے کی اجازت ہے۔ اس کے لئے دو اصول ہیں۔ ایک یہ کہ بیمار خود محسوس کرے کہ روزہ کی وجہ سے وہ سخت اور ناقابلِ برداشت پریشانی کا شکار ہوتا ہے۔ جیسے کہ حاملہ عورت کو عملاً مشکلات پیش آتی ہیں۔ یعنی کسی بیمار کو یقین ہو کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بھی میرے اس عْذر کو قبول کریں گے کہ واقعتا تم رمضان میں اس درجہ کے بیمار تھے کہ روزہ قضا کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اس لئے تم سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ لہٰذا معمولی بیماری کی وجہ سے ہرگز روزے نہ چھوڑے جائیں اگر بیمار کا دل یہ اطمینان لئے ہوئے ہو کہ میرا مرض اس درجہ کا ہے کہ اب روزہ رکھنا میرے لئے اللہ کے یہاں جرم نہیں رہا۔ تو ایسی بیماری میں روزہ چھوڑدے۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ کوئی ڈاکٹر یا طبیب اْس کو روزہ چھوڑ دینے کا حکم دے۔ لیکن ہر طبیب و معالج کی بات ہرگز معتبر نہیں۔ بلکہ روزہ مؤخر کرانے والے طبیب میں کم از کم تین شرائط پائی جانا لازم ہے۔ ایک یہ کہ وہ مسلمان ہو، دوسرے یہ کہ وہ دیندار ، تقویٰ شعار اور معمولی عذر کی بنا پر فرض ساقط کرانے کے جرم پر اللہ سے بہت ڈرنے والا ہو۔ اور تیسرے ماہر اور حازق ہو۔ ان تین شرائط میں سے ایک شرط بھی کم ہو تو ایسے طبیب کی بات مان کر روزہ چھوڑدینا ہر گز جائز نہیں ہے۔ فقہ کی کتابوں میں اس کے دلائل اور تفصیلات موجود ہے کہ یہ تین کیوں ہیں۔ اور ہر معالج کی بات معتبر کیوں نہیں ہے۔ 
اب ان سوالات کے جوابات ملاحظہ ہوں:
یاد رہے یہ جوابات فقہ و فتادی کی مستند کتابوں مثلاً فتاویٰ محمودیہ، فتاویٰ رحیمیہ، احسن الفتاویٰ، رمضان اور جدید مسائل اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے فیصلوں کے حوالوں سے درج کئے جارہے ہیں۔
(۱) گردوں میں پتھری کے باوجود روزہ رکھنا درست ہے۔ بلکہ ضروری ہے جب پتھری کی وجہ سے درد ہوتا ہے تو روزہ ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں شدید درد ہوتا ہے۔ ہاں جب بار بار تجربہ ہو کہ جب بھی روزہ رکھنا ناقابل برداشت درد ہو، اْس وقت روزہ قضاکرنا کی اجازت ہے ورنہ نہیں۔
(۲) وہ بوڑھا جو آئندہ کبھی روزہ رکھنے کے قابل نہ ہوگا یا وہ بیمار جس کو یقین ہو کہ وہ آئندہ کبھی ایسا صحت مند نہ ہوسکے گا کہ روزہ رسکھ سکے یہ دونوں روزوں کا فدیہ دے سکتے ہیں۔ فدیہ ایک روزے کے بدلے میں ایک صدقہ فطر ہے۔ اگر یہ آگے کسی وقت روزہ رکھنے کے قابل ہوگئے تو ان پر وہ روزے رکھنا لازم ہوجائیں گے جن کا فدیہ وہ ادا کرچکے ہوں۔ جس بیماری میں آئندہ روزے رکھنے کے قابل ہونا یقینی ہو یا حاملہ عورت یا دودھ پلانے والی خاتون وغیرہ ان کو فدیہ دینے سے روزے معاف نہ ہونگے۔
(۳) تیزابیت کی بنا پرر وزہ چھوڑنا درست نہیں۔ سحری و افطار میں ایسی تمام غذائیں بند کردی جائیں جو تیزابیت(Acidity)پیدا کرتی ہے۔
(۴) معدہ کے زخم کی بنا پر وہ معالج جس کی شرائط اوپر لکھی گئیں اگر تجویز دے کر روزہ نہ رکھیں ورنہ السر کی وجہ سے مزید خرابی کا خطرہ ہے تو پھر روزہ چھوڑ سکتے ہیں اور معدہ کا زخم درست ہونے پر روزوں کی قضا لازم ہوگی۔
(۵) حاملہ اور مْرضعہ (دودھ پلانے والی) اگر روزہ چھوڑ دیں تواْن کو اجازت ہے۔ روزہ رکھنا چاہیں اور کوئی مشکل نہ ہو تو زیادہ اجر و ثراب ہے۔(حدیث)
(۶) خواتین کی اندام نہانی میں خشک دوائی جو ٹکیہ Tabletیا پائوڈر ہو رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔لیکن کوئی تر دوائی مثلاً لوشن ہو یا مائع (Liquid)ہو ایسی دوائی شام اور رات میں رکھیں۔ دن میں اگر رکھ لی تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ فتاوی رحیمیہ۔
(۷) استھما کا مریض اگرinhaler استعمال کرے گا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ رمضان اور جدید مسائل او ر ملاحظہ ہو فقہ اکیڈمی کا فیصلہ۔
(۸) نہانے یا تیرنے سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ البتہ اگر منہ میں پانی چلا گیا تو حلق سے نیچے اْتر گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اس لئے احتیاط ضروری ہے۔
(۹) حاملہ عورت روزہ رکھنے میں کوئی مشکل محسوس نہ کرے تو ضرور روزہ رکھے۔ ورنہ قضاء کرے۔ اس کی حدیث ترمذی ابودائود وغیرہ میںموجود ہے۔ جس میں حاملہ اور مْرضعہ دونوںکو روزہ میں یہ رخصت دی گئی ہے۔
(۱۰) رمضان میں ہر قسم کا نشہ ختم کرنے کا بہتر اور مفید ماحول ہوتا ہے۔ لہٰذا تمباکو جیسی زہریلی اور نقصان دہ عادت سے چھٹکارہ پانا رمضان میں بہت ا?سان ہے۔ بس عزم اور سدھرنے کا جذبہ درکار ہے۔
(۱۱) نابالغ بچوں میں روزہ کی عادت ڈالنے کے لئے ضرور روزہ رکھوانا چاہئے۔ پھر اگر دن میں بھوک ناقابل برداشت ہوجائے۔ تو کہہ دیا جائے کہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے اللہ نے تم کو چھوٹ دی کہ دن میں ہی افطار کرلو۔ اس طرح روزانہ روزے دار رہنے کی عادت ڈالی جائے۔ 
(۱۲) نصف سردرد کی وجہ سے روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں۔ اگر درد ناقابل برداشت ہو تو ضرور باہر کی دوائی مثلاً بام وغیرہ کی مالش کی جائے۔ مگر روزہ ترک نہ کیا جائے۔
(۱۳) ہائی بلڈ پریشر کے مریض کو روزہ ترک کرنا ہرگز درست نہیں۔ روزہ تو دورانِ خون کو اعتدال پر لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
(۱۴) ذیابیطس کا مریض روزہ ضرور رکھے، بلکہ روزہ تو شوگر کی لیول کو کم کرنے کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا روزہ ہرگز نہ چھوڑے۔ شوگر کے مریض جو دیندار ہیں اہتمام سے روزے رکھتے ہیں۔
(۱۵) خون ٹسٹ کے لئے خون کا قطرہ لینے سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ حتی کہ روزہ مکروہ بھی نہیں ہوتا۔
(۱۶) طاقت ور اور زورہضم غذائیں کھائیں۔پھل اور دودھ دہی کھجور اور خشک میوے نیز شہد استعمال کریں۔ مزید معلومات ماہرین صحت سے لینا بہتر ہوگا۔
(۱۷) بورڈھا انسان جس کو قفہ میں شیخ فانی کہتے ہیں مسافر انسان جب تک واپس اپنے گھر نہ پہنچے ، شدید بیمار انسان جب تک صحت یاب نہ ہو،حاملہ اور مْرضعہ عورت نیز دشمن کے چنگل میں پھنسا ہوا وہ مسلمان جس کو زبردستی روزہ توڑوا دیا جاتا ہو۔ ان کو روزہ چھوڑدینے کی اجازت اور قضا لازم ہے۔ بوڈھا فدیہ ادا کرے گا۔
(۱۸) روزے کی حالت میں انجکشن لگانے سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ فتاویٰ محمودیہ، درس ترمذی، فتاویٰ رحیمیہ، جدید فقہی مسائل وغیرہ
(۱۹) روزے کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ کرنے سے روزہ مکروہ ہوتا ہے۔ مسواک کرنے کی اجازت ہے۔
(۲۰) روزے کی حالت میں تیل، عطر،پرفیوم، بام، کسی بھی لوشن کی مالش کرنے سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
 
صیام کے دوران فجر اور عشاء کی نمازوں اوقات کی وضاحت
 
رمضان المبارک کے ایام میں نماز فجر اور نماز عشاء کی جماعت کے وقت کے متعلق ایک امر کی وضاحت کی شدید ضرورت بھی ہے اور اس کے متعلق کثرت سے استفسار بھی کیا جارہا ہے لہذا یہ شرعی وضاحت پیش خدمت ہے۔ نماز فجر کی جماعت رمضان کے علاوہ دیگر ایام میں اس وقت افضل ہے جب زیادہ سے زیادہ نمازی شامل جماعت ہوسکیں اور حدیث میں بھی اسی کو افضل قرار دیا گیا ہے کہ فجر کی جماعت خوب روشنی آنے کے بعد پڑھی جائے۔ لیکن رمضان المبارک کے لئے مسلۂ یہ ہے کہ جتنی جلد فجر کی نماز پڑھی جائے اتنا افضل ہے اور یہ حضرت نبی کریم ؐ کے عمل اور صحابہ کرام کے طرز عمل سے بھی ثابت ہے لہذا رمضان کے ان ایام میںنماز فجر کی جماعت اذان کے بعد صرف دس یا پندرہ منٹ کے وقفے سے پڑھنا درست بلکہ بہتر اور افضل ہے۔نماز عشاء کے لئے ضروری ہے کہ کسی مستند کلینڈر مثلاً میقاۃ الصوٰۃ یا ڈیجیٹل الصلوٰۃ ٹائم کی مکمل پابندی کی جائے اس میں صرف اتنی کمی کرنے کی گنجائش ہے کہ وقت عشاء سے دس یا بارہ منٹ پہلے اذان پڑھی جائے اور اس کے بعدعشاء کی جماعت کھڑی کی جائے۔  یاد رکھیں کہ نماز عشاء کا وقت احادیث کی رو سے شفق کے غروب ہونے کے بعد ہی درست ہے اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ غروب شفق سے پہلے نماز عشاء  درست نہیں ہے لہذا چند منٹوں کی وجہ سے اپنی نماز یں خراب نہ کی جائیں اور قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کے مقرر کردہ اوقات کی پابندی کی جائے۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا کریں۔
 

تازہ ترین