تازہ ترین

ماہ رمضان میں حبہ کدل کے اَچار کی دھوم چاروں اور لذیذاورخوشبوداراچارکی مختلف اقسام حاصل کرنے کیلئے گاہک بے تاب

16 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// شہر خاص میں ماہ رمضان کے دوران جہاں بازاروں میں غیر معمولی گہماگہمی نظر آتی ہے تاہم حبہ کدل میں قائم اچار کی منفرد دکان پر گاہکوں کی نہ تھمنے والی بھیڑ لذیز اور خوشبو دار اچار کے اقسام کو اپنے افطار اور سحری کا حصہ بنانے کیلئے بے تاب نظر آتے ہیں۔وادی میں ماہ رمضان میں جہاں لذیر کھانوں کی خوشبو اور مہک ہر گھر میں نظر آتی ہے، وہیں سرینگر میں اچار کے منفر داور الگ الگ اقسام بھی دستر خوان کا حصہ ہے۔ شہر کے حبہ کدل علاقے میں قائم اچار کی اس دکان  پرمصالحہ جات کی الگ الگ مہک سے گاہک معطر ہوتے ہیں۔دنیا ایک طرف جہاں ہائی ٹیک بنتی جارہی اور فاست فوڈ نے ہر سو اپنا ڈھیرہ جما رکھا ہے،وہیں 72برس کے حاجی غلام قادر سینو نے اپنی روایت اور ثقافت کو برقرار رکھا۔ حاجی غلام قادر کی طرف سے اچار کے اقسام نے100کا ہندسہ بھی عبور کیا ہے اور انہوں نے اچار کے اقسام تیار کرنے میں ایک ریکارڑ قائم کیا ہے،جس کے نتیجے میں سینو اور انکا اچار شہر میں ہر سو مشہور ہے۔’’اچار کے بادشاہ‘‘ کے نام سے مشہور حاجی غلام قادر سینو نے وادی میں گزشتہ3دہائیوں کے کشت و خون کے باوجود امید نہیں ہاریاور اچار کا کاروبار جاری رکھااور دیگر لوگوں کیلئے بھی نقش راہ تیار کی۔ وادی میں شورش کے دوران ٹرانسپورٹ تجارت میں بھاری نقصان اور گزشتہ3دہائیوں میں3افرادخانہ کھونے کے بعد بھی حاجی غلام قادر سینو نے اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور صورتحال کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ حاجی غلام قادرنے کہا’’ ایسا وقت بھی آیا جب ایسا لگا کہ سب کچھ ختم ہوا،تاہم میرے جنون نے مجھے حوصلہ دیا۔‘‘1980کی دہائی کے آخری برسوں میں حا جی غلام قادر سرنو نے اچار کا کاروبار اپنے بھائی سے حاصل کیا اور انہوں نے ایک چھوٹی اچار کی دکان کو مشہور’’ سینو کشمیر پیکلز‘‘ تک پہنچایا،جہاں منہ میں پانی لانے والی100سے زیادہ اقسام کا اچار تیار کیا جاتا ہے۔ سینو نے ابتداء میں  حبہ کدل کی گنجان آبادی میں موجود اپنے گھر میں ہی اچار بنانا  شروع کیا،تو انہیں اپنے کنبے میں پیش آئے سانحات کے برعکس اس تجارت میں اچھی خاصی بہتری نظر آئی۔ شہر کے حبہ کدل علاقے میں قائم اس دکان میں داخل ہونے کے ساتھ ہی ذائقہ دار اور منفرد اچار صارفین کا استقبال کرتا ہے،جبکہ اچار کے ان اقسام میں مرغ،گوشت،سبزی،مچھلی،ندرو،میوہ،گلاس،آم، آملا،انگور شامل ہیں۔سینو کا کہنا’’آپ کسی چیز کا نام لو ،میں اس کو پیش کرونگا۔‘‘ حاجی غلام قادر سینو کا ماننا ہے کہ وادی میں خوبانی کا اچار اور کوئی نہیں بنا سکتا،جبکہ’’احمد آباد میں ہی ذائقہ دار گوشت اچار بنایا جاتا ہے۔‘‘ سیون کے اچار کے اقسام اور ذائقے نے وادی کی سرحدوں کو بھی پھلانگ دیا ہے اور اس کے پرستار اور خریدارسعودی عرب،بنگلہ دیش،جرمنی ،اٹلی،فرانس، اور اندونیشا میں بھی موجود ہیں۔حاجی غلام قادر راتھر کی اس اچار لینڈ دکان میں سبزیوں کے مختلف اقسام جن میں کریلا کا اچار بھی موجود ہیں،جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ذیابطس کے بیماروں کیلئے موذوں ہیں۔ دیگر منہ میں پانی لانے والے اقسام ،جو طبی طور فائدہ مند ہے،ان میں آملہ،سیب،ادرک،آلو بخار اور دیگر چیزیں بھی شامل ہیں۔ حاجی غلام قادر کا کہنا ہے کہ وہ مزید اقسام اس میں جوڑنا چاہتے ہیں۔ حاجی غلام قاد کا کہنا ہے کہ وہ اچار کو برآمد کرنے کیلئے لائسنس کا حصول کرینگے۔ حاجی غلام قادر سینو کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک قسم کو تیار کر کے دوسری قسم کو تیار کیا،اور جب اچار کے پرستاروں نے انہیں پسند کیا،تو انہوں نے مزید اقسام کیلئے تجربہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہ رمضان میں انکے اچار کی مانگ بڑ جاتی ہے،کیونکہ روایتی طور پر بھی ماہ رمضان میں اس کا استعمال افطاری کے موقعہ پر زیادہ ہوتا ہے۔