ہندوپاک کا قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ

گیلانی کاخیر مقدم،کشمیری اسیران کی رہائی کا مطالبہ

16 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
سرینگر// حریت(گ)  چیئرمین سید علی گیلانی نے بھارت اور پاکستان کی طرف سے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں آپسی خیر سگالی کے تحت اپنے اپنے ممالک کے قیدخانوں میں اسیران کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی خوش آئندہ قدم ہے۔ انہوں نے اِسی خیر سگالی کے جذبے کے تحت ریاست کے اندر اور ریاست سے باہر بھارت کے جیل خانوں میں پندرہ پندرہ، بیس بیس برسوں سے جرمِ بے گناہی میں سڑائے جارہے کشمیری اسیران زندان کو رہا کئے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ دونوں ممالک پر کشمیر مسئلے کے دو اہم فریق ہونے کے ناطے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کے جیل خانوں کے اندر مقید اسیرانِ بے تقصیر کو رہا کرنے میں انسانی ہمدردی کو نظرانداز نہ کریں۔ حریت رہنما نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ریاست جموں کشمیر کے اسیران زندان کے تئیں بھارت کے جیل خانوں کے اندر اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ انسانی حقوق کے چارٹر کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے قیدیوں کو تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم کرنے کے علاوہ ان کی حالت زار پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ عالمی ریڈکراس اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی معتبر انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارت کے جیل خانوں کا دورہ کرنے پر پابندی عائد کئے جانے کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے حریت چیئرمین نے کہا کہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے اسیران زندان کے ساتھ کس قسم کا ظالمانہ سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ 
 

تازہ ترین