تازہ ترین

گوشت کی سپلائی بند ہونے کا احتمال

دلی کی منڈیوں میں ڈیلر ہڑتال پر،قیمتوں پر کسی کا کنٹرول نہیں

15 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//سرینگر۔جموں شاہراہ پر لائیوسٹاک کی گاڑیوں کوبلا وجہ روکے رکھے جانے اور گوشت کی قیمتوں کو متعین کرنے پر پیدا شدہ قضیہ کے بیچ بیرون ریاستوں میں قائم منڈیوں میں کمیشن ایجنٹوں نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے،جس کے نتیجے میں وادی میں گوشت کی قلت کا احتمال ہیں۔ سرینگر۔ جموں شاہراہ پر لائیو اسٹاک گاڑیوں کو مبینہ دانستہ طور پر درماندہ بنانے پر پہلے ہی سے برہم مٹن ڈیلروں اور قصابوں کے بعد بیرون ریاست منڈیوں میں کمیشن ایجنٹوں نے قیمتوں کو لیکر منڈیاں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہلی کی منڈی کے علاوہ امرتسر اور راجستھان کی منڈیاں بند کر دی گئی ہیں،اور پیر سے وادی کیلئے بھیڑ بکریوں کی سپلائی کو بند کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سرکار کی طرف سے پہلے ہی وادی میں430روپے فی کلو گوشت کی قیمت مقرر کی گئی ہے،تاہم ماہ رمضان میں قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے اور گراں بازاری کا تدارک کرنے کیلئے صوبائی اور ضلع سطحوں پر کئی ٹیموں کو متحرک کیا گیا ہے،جس کے نتیجے میں قصابوں سے جرمانہ بھی وصول کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ماہ رمضان سے قبل قصاب500روپے فی کلو کے حساب سے گوشت فروخت کرتے تھے،اور انتظامیہ کی طرف سے بھی کوئی موثر کاروائی نہ ہونے کے نتیجے میں انہیں کھلی چھوٹ تھی،تاہم ماہ رمضان میں قصابوں کے خلاف کریک ڈائون کے بعد یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ کمیشن ایجنٹوں کی طرف سے ہڑتال کے نتیجے میں وادی میں گوشت کی قلت کا احتمال ہوچکا ہے۔ رمضان میں وادی میں گوشت کی کھپت میں اضافہ ہوتا ہے تاہم ہڑتال سے گوشت کی سپلائی کم ہونے کے نتیجے میں گوشت صارفین کی پہنچ سے دور ہوسکتا ہے۔تاہم ہول سیل مٹن ڈیلروں کا کہنا ہے کہ آئندہ4سے5روز کا گوشت وادی میں موجود ہیں،اور تب تک کوئی نا کوئی راستہ نکلنے کی توقع ہے۔ ذرائع سے کشمیر عظمیٰ کو معلوم ہوا ہے کہ سرکار نے بھی کمیشن ایجنٹوں کو وادی طلب کیا ہے،تاکہ تنازعہ کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے،اور آئندہ2روز بھی کمیشن ایجنٹ وادی پہنچ رہے ہیں،جس کے بعد صوبائی انتظامیہ اور کمیشن ایجنٹوں کے درمیان میٹنگ متوقع ہے۔ دہلی کی منڈی میں کمیشن ایجنٹوں کی انجمن چنار شیپ اینڈ گوٹ ایسوسی ایشن کے ایک ذمہ ڈار مختار احمد متو نے اس بات کوتسلیم کیا کہ وادی میں گوشت کی سپلائی کم ہوگئی ہے۔انہوںنے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ متعلقہ محکمہ کے ڈائریکٹر نے انہیں ہدایت دی تھی کہ اگر420روپے کلو سے کم گوشت کی سپلائی بہم نہیں ہوتی،تو’’ کمیشن ایجنٹ مال نہ بھیجیں‘‘ جس کے نتیجے میں سپلائی متاثر ہوئی۔انہوں نے تاہم کہا کہ منڈیاں کھلی ہے،کیونکہ یہ بین الاقوامی منڈیا ںہے،اور انہوں نے کافی کوشش کی تھی کہ کم قیمت میں گوشت ملے تاہم وہ ناکام ہوئے۔ مختار متو کا کہنا تھا کہ شاہراہ بند ہونے کے نتیجے میں انکا مال ہفتوں درماندہ رہتا ہے،جس کی وجہ سے انہیں کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی اور کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرس کے درمیان میٹنگ کا ایک رائونڈ بھی ہوا،جس کے دوران کوٹھداروں نے انہیں درپیش مسائل سے مشیر کو آگاہ کیا۔ہول سیل مٹن ڈیلرس ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی نے میٹنگ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مشیر کو شاہراہ پر گاڑیاں درماندہ ہونے کے نتیجے میں ہو رہے نقصانات کی جانکاری دی گئی۔انہوں نے کہا’’ خورشید گنائی کو بتایا گیا کہ انہیں دہلی میں1500روپے نامعلوم چارجز ادا کرنے پڑتے ہیں،اور ڈیلروں کو بتایا جاتا ہے کہ رقم ٹریفک اہلکاروں کیلئے ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ رواں سال کے دوران شاہراہ بند ہونے کے نتیجے میں لائیو اسٹاک تاجروں کو25کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ معراج الدین گنائی نے کہا’’ ہم نے میٹنگ میں بتایا کہ ادہم پورہ میں ہفتوں لائیو اسٹاک گاڑیوں کو بلا جواز روکا جا رہا ہے،اور صوبائی انتظامیہ و دیگر ارباب اقتدار کے پاس بار بار شکایت کی گئی تاہم ابھی تک اس کا ازالہ نہیں ہوا۔‘‘ بوچرس ایسو سی ایشن کے صدر عرفان ریگو نے بتایا کہ متعلقہ محکمہ کو بار بار جانکاری دی گئی کہ باہر کی منڈیوں سے ہی زیادہ قیمتوں پر بھیڑ بکریاں وادی پہنچائی جاتی ہے،اور اگر انہیں قیمتوں کو اعتدال میں رکھنا ہے تو،وہ وہی پر کریں،تاکہ زیادہ قیمتوں میں وادی گوشت نہ پہنچے۔ریگو کا کہنا ہے کہ جب قصابوں کو اضافی قیمتوں پر گوشت ملتا ہے تو قیمتیں کیونکر اعتدال میں رہیں گی،جبکہ زمینی سطح پر اس کا خمیازہ قصابوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔