تازہ ترین

نتن گڈکرے کا بیان سیاسی منافقت کا عکاس | بھارت عوام کو حقائق سے روشناس کرائے:گیلانی

15 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//حریت (گ)چیرمین سید علی گیلانی نے پارلیمانی انتخابات کے اختتام پر بھاجپالیڈر اور مرکزی وزیر نیتن گڈکرے کی طرف سے کشمیر میں نامساعد حالات کا ذکر کرتیہوئے آئین ہندکے اندر ریاست جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے حامل دفعہ 370اور 35-Aکو پارلیمنٹ میں اکثریت کے باوجود نہ ہٹائے جانے کی منطق کو منافقانہ سیاست کا ایک اعلیٰ نمونہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ریاست جموں کشمیر میں پچھلے 71برسوں سے بھارت کے حق میں سازگار ماحول ہمیشہ مفقود رہا ہے۔ گیلانینے BJP، RSSاور شیو سینا کی طرف سے بھارتی آئین میں درج مذکورہ خصوصی دفعات کو الیکشن مواقع پر ختم کرائے جانے کے شور شرابے کا مقصد ایک طرف بھارت کے اندر ووٹ بٹورنے کیلئے فرقہ پرستی پر مبنی ہیجانی کیفیت پیدا کرنا اور دوسری طرف متنازعہ ریاست جموں کشمیر میں بھارت نواز سیاسی جماعتوں کو عوام کے سامنے عارضی طور پر بھارت مخالف پروپیگنڈے کے ذریعے الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے ڈرامائی ہاہا کار مچانے کا موقعہ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ رواں الیکشن کے دوران BJPکے ہر  لیڈر کی زبان پر ریاست جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو نیست ونابود کرائے جانے کا جنگی جنون پیدا کرنے میں آسمان کو سر پر اٹھانے میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی گئی اور اب الیکشن کے اختتام پر ریاست جموں کشمیر میں نامساعد حالات کے پیش نظر ایسا نہ کرنے کے بودے دلائل اور حلق سے نہ اُترنے والی منطق پیش کی جارہی ہے، تاکہ بھارت کے عوام کو کشمیر کی اصل صورتحال سے بے خبر رکھا جاسکے۔ حریت چیرمین نے موجودہ مہذب سیاسی دنیا میں منافقانہ سیاست کو ایک بدترین حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس لعنت سے قوموں کے اجتماعی ضمیر اور اخلاقیات کی اعلیٰ قدریں فنا ہوکر رہ جاتی ہیں اور ظلم وجبر کی ریت پروان چڑھ جاتی ہے۔