جعلسازی کے واقعات قابلِ تشویش !

15 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

دنیا کے بقیہ حصوں کی طرح ریاست میں بھی غیر قانونی ہتھکنڈوں کے ذریعہ جعلسازوں کی طرف سے سادہ لوح عوام کو لوٹنے کا سلسلہ چل پڑاہے اور کبھی فرضی بینک بناکر لوگوں کی محنت کی کمائی لوٹ لی جاتی ہے تو کبھی کسی دوسرے طریقہ سے رقومات بٹور لی جاتی ہیں ۔ اسی طرح کاتازہ واقعہ پونچھ کے سب ڈیویژن مینڈھر میں پیش آیاہے جہاں فرضی شیئر مارکیٹ قائم کرکے مقامی لوگوں سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے اینٹھ لئے گئے ۔مینڈھر کے ایک گروہ نے پچھلے سال ایک شیئر مارکیٹ بناکر لوگوں سے اس بناپر رقومات جمع کرناشروع کیں کہ کچھ ہی عرصہ بعد ان کی یہ رقم دوگنی ہوجائے گی ۔اس طر ح اس گروہ نے کروڑوں روپے جمع کرلئے اور جب دوگنی رقم اداکرنے کا وقت آیا تو فرضی شیئر مارکیٹ چلانے والا گروہ ہی غائب ہو گیا اوراب لوگ ہاتھ مل رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے مینڈھر میں ایک طرح سے افراتفری کا ماحول برپا ہوگیا ۔ لوگوں کے غم وغصہ کا سامنا اس گروہ سے وابستہ افراد کے رشتہ داروں کو کرناپڑتاہے اور امن و قانون کی صورتحال بگڑ جانے کا اندیشہ بھی ظاہر کیاجارہاہے ۔ایسے واقعات آئے روز سننے کوملتے ہیں ۔گزشتہ ہفتہ راجوری میں بھی ایسے ہی ایک واقعہ کا پردہ فاش کیاگیا جبکہ حال ہی میں کرائم برانچ نے جموں میں بھی غیر قانونی طور پر چلائے جارہے ایک بینک کے سرغنہ کو گرفتار کرلیا۔اگرچہ بعض واقعات میں پولیس کی طرف سے تحقیقات کے عمل میں لاپرواہی کا مظاہرہ کیاجاتاہے ۔اگرچہ سادہ لوح عوام کو دوگنی رقومات کالالچ دے کر ان کی محنت کی کمائی لوٹ لینے والے کئی افرادکو سزائیں بھی ملی ہیں مگر اس سلسلے پر روک نہیں لگ رہی اورابھی ایک گروہ کو کیفر کردار تک پہنچایا نہیں جاتاکہ دوسرا سامنے آجاتاہے ۔یہاں یہ بات اہم ہے کہ غیر قانونی طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے والے کسی سے پوشیدہ نہیںہوتے بلکہ وہ کھلے عام یہ دھندہ کرتے ہیں اور تب تک پولیس کی طرف سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی جب تک کہ لوگ نقصان سے دوچار نہ ہوجائیں ۔ایسے معاملات میں کہیں متاثرین کو انصاف ملتاہے اور کہیں وہ اس سے محروم رہتے ہیں لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ لوگ آسانی سے ان جعلسازوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں اوروہ اپنا پیسہ جمع کرتے وقت کسی بھی طرح کی تحقیقات نہیں کرتے بلکہ اس وقت ان کو صرف اور صرف رقم کو دو گنا کرنے کا خیال رہتاہے ۔حالانکہ کسی بھی قانونی شیئر مارکیٹ یا بینک میں ایسی پیشکش نہیں ہوتی جو جعلسازوں کی طرف سے دی  جاتی ہیں لیکن اس کے باوجود لوگ عقلمندی کا مظاہرہ نہیں کرتے اور آنکھیں بند کرکے اپنی کمائی کو ایسے لوگوں کے ہاتھ دے دیتے ہیں جن کا مقصد ہی لوٹ مار کرکے فرار اختیا رکرناہوتاہے ۔ایسے واقعات ہمارے معاشرے کیلئے تشویش کا باعث ہیں اور ان پر روک لگانے کیلئے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سنجیدگی سے اقدامات کرنے ہوںگے وہیں بحیثیت شہری ہر ایک کو قانونی اور غیر قانونی باریکیوں کو سمجھناہوگا۔موجودہ دور میں زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنا ہر انسان کی خواہش ضرور ہے لیکن اس کوشش میں جائز اور قانونی طریقہ کار اختیار کئے جائیں نہ کہ جعلسازوں پر بھروسہ کیاجائے ۔مینڈھر کے متاثرین کو انصاف ملناچاہئے اور ان کی محنت کی کمائی کو اینٹھ لینے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے جو اس وقت تک مفرور ہیں ۔
 

تازہ ترین