تازہ ترین

آغا حشر کاشمیری

ہندوستانی شیکسپیئر کی ڈرامہ نگاری

15 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

غلام علی اخضر،انڈیا
آغا حشر  جہاں اپنے ڈراموں سے عوام کی تشنگی بجھانے کا کام کررہے تھے وہیںانھوں نے اصلاح معاشرہ میں بھی اہم کار ہائے نمایا ں انجام دیے۔ ماقبل میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ آغا حشر کے شروع کے ڈراموں کا حال وہی تھا جو اس دور کے ڈراموں کا تھامگر آغا کے یہاں تبدیلی روز بروز ترقی کے ساتھ ہوتی رہی۔ اس لیے بعد کے ڈرامے بدلتے انداز اور انفرادیت میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ آغا حشر ڈرامے کو صرف تفریحی فن تصور نہیں کرتے بلکہ وہ اس کے ذریعے سماج کو بیدار رکھنا اور اس میں تبدیلی کے خواہاں تھے۔ اس لیے بعد کے ڈراموں میں اصلاحی جذبہ زیادہ حاوی ہے۔ اس دور میں سیتا بن باس(1928ء)رستم و سہراب(1929ء)مزید اس کے بعد دھرمی بالک،بھارتی بالک،دل کی پیاس، فرض عالم، ٹاکیز میں شریں فرہاد، عورت کا پیار،چندن داس بھیشم کوحشر مکمل نہ کرسکے-ان کے ڈراموں میں کشمش کا عالم چھیارہتا ہے۔ 
ڈرامہحشر بلا کے مناظر بھی تھے۔ انھوں نے اچھے معاصرین بھی پائے اور اچھے دوست بھی۔ وہ آزادؔ کے اچھے ساتھی تھے۔ وہ جس زمانے میں بمبئی میںتھے مولانا ابوالکلام آزاد ساتھ رہتے، اگر حشر اپنے قلم اور خدادقوت وذہانت سے ڈرامہ کو شکل و صورت اور وجود بخشتے تو مولانا اپنے بے باک قلم سے صحافت کے کام کو انجام دیتے۔ کئی بار پارسیوں کے ساتھ مناظرے میں مولانا کے ساتھ رہے اور بہت سارے موقعوں پر تو آغاحشر ہی مناظرہ میں فتح کے ضامن ہوے۔ مزید معلومات کے لیے پڑھیں ’’آغا حشر سے دو ملاقاتیں‘‘(از:منٹو)
آغا حشر نے جہاں بازار کی دنیا میں قدم رکھا وہیں معاشرے کو ہر آن نگاہ میں بھی رکھا ۔ ان کی جدت طرازی اور بے لوث خدمت کی وجہ سے ان کو ارباب فن نے اردو کا شیکسپیئر کہا۔1813ء میں آغا حشر کو دہلی میں ایک عوامی استقبالیہ دیاگیا جس میں انھیں ’’انڈین شیکسپیئر ‘‘کے خطاب سے نوازا گیا۔ یوں تو بہتوں کو یہ خطاب حلق سے نیچے نہیں اترتا مگر ایک دنیا انھیں اردو کا شیکسپیئر جانتی اور مانتی ہے۔ وقتاً فوقتاً بہت غالب شکن وجود میں آئے مگر غالب ہمیشہ غالب ہی رہے۔ اسی طرح آغا کے قدریا شیکسپیئر کے خطاب سے اتفاق نہ رکھنے والے ہوئے مگر قدرمیں کچھ فرق نہیں آیا۔ وہ آج بھی اپنی شہرت کی کائنات میں اپنی قدر آورہستی سے قیامت بپا کیے ہوئے ہیں۔ اسی فتنۂ قیامت سے بہت کے جی خوش ہوے تو بہتوں اپنی قابلیت کی انا میں بھٹک گئے۔ یہاں’’ آغاچشر کاشمیری عہد اور ادب‘‘کی تحریر سے اس بات کی پردہ کشائی کی جارہی ہے کہ حشر کے ڈرامے سماج کو کس قدر بیدار کیا۔سید محمد اسماعیل لکھتے ہیں :
’’آغا حشر نے تاریخی ،سماجی، اصلاحی اور ہرطرح کے ڈراموں کو اپنا موضوع سخن بنایا اور آخری دور میں شراب ،جہیز اور حسن بازاری کی لعنت کو اپنے ڈراموں کا موضوع بنایا۔ جس موضوع کو ہاتھ لگایا، جاودان بنایا ۔ یہ تینوں موضوع بلاشک سماج کے اصلاح طلب پہلوہیں۔ اور یہ تینوں وبائیں سماج میں اپنا زہر گھول رہی تھی۔ ہر امیر وغریب ان وبائوں میں مبتلا تھا۔ چوں کہ ڈراما اس وقت کی تفریح کا اہم شوق تھا اس لیے آغا حشر کی نباض نگاہ ڈرامے کے ذریعے ان وبائوں کا علاج کیا۔ انھیں سماج کی اصلاح کے لیے اس سے اچھا ہتھیا رنہ دکھائی دیا۔ ڈراموں کا اثر ناظرین و سامعین پر اتنا تیز تر ہو اکہ لاکھوں نے شراب پینی چھوڑدی۔ کوٹھوں پر جانے والوں نے توبہ کرلی اور جہیز کی وبا آج بھی پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے بارے میں لوگوں نے سنجیدگی سے سوچنا شروع کردیا۔ اور آج بھی ان ڈراموں کا سامعین پر اتنا گہرااثر ہوتا ہے جس کا جواب نہیں‘‘۔
حشر کے ڈراموں میں وہ قوت تھی کہ لوگ کھینچے چلے آتے تھے۔ اور تذکرہ نویسوں نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ ان کے ڈرامے کو دیکھنے کی غرض سے بہت سے حضرات تو گھروں کے، بیبیوں ، بچوں اور بہو کے سامان تک بیچ ڈالتے تھے۔ یقینا یہ جادوئی کرشمہ کوئی عام ڈرامے سے پیدا نہیں ہوسکتا بلکہ اعلیٰ ڈرامے ہی سے یہ کرامت ظہور پذیرہوسکتی ہے۔ 
ماقبل میں یہ بات گزری ہے کہ حشر کو ہندوستانی شیکسپیئر ماننے میں اختلاف ہے اور ہونی بھی چاہیے کیوں کہ سب کی اپنی اپنی دلیل ہے اور پھر یہ کہ اختلاف سے بات میں نیکھارپیدا ہوتا ہے مگر یہ یادرہے کہ یہ اختلاف اختلافِ رائے یا نظریے تک ہی رہے مخالفت نہ ہو جو عام طور سے شکل اختیار کرلیتی ہے۔
ہندوستان شیکسپیئرسے اتفاق نہ رکھنے والوں میں ایک نام ڈاکٹر مسیح الزماں کا ہے وہ لکھتے ہیں : 
’’ شیکسپیئر نے انسانی نفسیات کی جو تصویر پیش کی ہیں کرداروں کو تراش کر ان کے جس طرح رنگارنگ جلوے دکھائے ہیں، ذہن وفکر کی جس باریکیوں کو جس صورت سے بے نقاب کیا ہے، اس کا آغاحشر کے یہاں پتانہیں‘‘
پروفیسر ارتضیٰ کریم صاحب اس حوالے ایک تحریر کوٹ کرتے ہیں :
’’کسی نے صحیح لکھا ہے کہ
اردوڈرامانگاری میں آغاحشر کی یہ اہمیت خاص کر اس وجہ سے ہے کہ وہ ہمارے ادب میں ایک ہی ڈرامانگار ہوئے ہیں جنھوں نے ڈرامانگاری کو مستقل شغل کی حیثیت سے اختیار کیا اور اپنے دور کی حدود میں اس شغل کے تمام تقاضوں کو پورا کیا۔ اس سلسلہ میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ آغاحشر نے ڈرامے کو ایک علمی وسیلۂ اظہار کے طور پربرتا۔ انھوں نے اپنے فن کو ہمیشہ زندگی سے مربوط رکھا، اس کی اپیل محدود رکھنے کی بجائے زیادہ وسیع کرنے کی کوشش کرتے رہے‘‘(آغاحشر کا شمیری عہد اور ادب)
نہ جانے ہمارے یہاں یہ ضد کیوں چڑھی رہتی ہے کہ اگر کسی کو مثال کے طور پردور ِ حاضر کا غالبؔ کہہ دیا جائے تو تنقیدی مزاج حضرات انھیں خصوصیات کو سوفیصد تلاش کرنے لگ جاتے ہیںجو واقعی غالبؔ کے اندر تھیں-حالاں کہ یہ عجیب بات ہے- ہر دور میں اپنے اعتبار سے کچھ بلند خیال حضرا ت ہوتے ہیں جو اپنے عہد میں نمایاں کردار اداکرتے ہیں، جس کی وجہ سے جو جس میدان میں کام کر رہا ہے اس سے تعلق رکھنے والی ہستیوں کے نام یا القاب کے ساتھ باشعور انسان ان کے کارنامے اور اسلاف کے نقش قدم پرچلنے کی وجہ سے پکارنے لگے ہیں۔ 
شیکسپیئر نے زندگی کے مقصد کو فن سے اور فن کو زندگی سے جوڑکر دیکھا اور چلنا سیکھایا تھا اسی کی پیروی کرتے ہوئے آغا نے بھی اپنے ڈرامے سے انسانی نفسیات کی نبض پر ہاتھ رکھنے کاکام کیااور سماج کو صحیح سمت میں پھیرینے کی کوشش کی۔ اس لیے اردو کے حوالے سے ہم آغاحشر کو انڈین شیکسپیئریا اردو کا شیکسپیئر کہتے ہیں۔ ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ شیکسپیئر نے جو اپنی تحریر یا ڈرامے کے ذریعے جو کام کیا وہ آغاکے یہاں کماحقہ نہیں ہے مگر پھر بھی اردو میں اردوڈرامے کے حوالے سے ڈرامانگاری میں ان سے بہتر نہ نظر آنے کی وجہ سے بغیر چوں چرا آغاحشر کو اردو کا شیکسپیئر تسلیم کرتے پر راضی ہیں۔
حشر نے جہاں طبع زاد ڈرامے تحریر کیے وہی انھوں نے انگریزی ڈراموں کو ترجمے کالباس پہناکر اردو داں طبقے کو انگریزی ڈراموں کے لذت سے سرشار کیا۔ شیکسپیئر کے کئی ڈراموں کو اردو کے قالب میں ڈھالا، جن سے اردو کا دامن ادبی سرمایے سے مالامال ہوا۔ یقینا اردو داں طبقے کے لیے ڈرامے کے پیش نظر یہ خدمت قیمتی ہے۔ 
آغا حشر سے قبل یا اس دور کے ڈراموں پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ نظم کی صورت کے ساتھ مسجع ومقفیٰ بوجھ تلے دبے ہوے ہیں اور یہی ذوق سلیم کے ساتھ عوام الناس میں معزز ہے ساتھ یہ بھی کہ مزاحیہ حصہ عامیانہ پن کا شکار ہے۔ حشر نے ڈرامے کونئی جہت عطا کی۔ وہ ادبی اور تفریحی دونوں اعتبار سے ڈرامے کو قدر بخشا ۔ حشر میں ایک بات جو کمال کی تھی وہ یہ کہ اسٹیج پر ڈرامے کو پلے کرنے سے پہلے ان افراد کو سناتے جو عوام سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کو جب ڈرامہ اچھالگتا تب وہ ڈرامے کو اسٹیج پر پلے کراتے۔ 
حشر اچھے شاعر بھی تھے، اس لیے ان کے ڈراموں میں شاعری اپنی صفائی کے ساتھ طواف کرتی رہتی ہے۔ انھوں نے اپنے ڈراموں میں مسجع مقفیٰ انداز کو عباراتی شکل دے کر ان میںادبی شان کو بلند کیا مگر آئیے مزید اس کو بہتر سمجھنے اور جاننے کے لیے ’’اردو ڈامہ فن اور نزلیں‘‘ میں سے ایک تحریر کا مطالعہ کرتے ہیں:
حشر کو اپنی ڈرامانگاری کے پہلے دوسرے دور میں ایسے لوگوں کے مذاق کی تسکین کرنی تھی جو خون ناحق جیسے ڈراموں کے دلدادہ تھے۔ ایسے ڈرامے جن میں گانوں کی بھرمارہو ، جن میں کردار نثر کے بجائے شعر میں گفتگو کریں اور اگر بھولے سے نثر بولیں تو وہ مقفیٰ اور مسجع ہو۔ چناں چہ ڈرامے جو حشر نے اس زمانے میں لکھے انھیں خصوصیات کے حامل ہیں۔لیکن ایک چیز ان ڈراموں میں بھی نمایاں طور پر موجود ہے اور وہ یہ کہ گانوں کے استعمال میں اور مکالموں میں اشعار اورمقفیٰ ومسجع عبارت سے کام لیتے وقت انھوں نے خاصی حدتک اعتدال اور توازن برتا ہے۔ گانوں کی تعداد ۴۰؍۵۰؍۶۰؍کے بجائے۲۰؍۲۲؍ہے۔ مکالموں میں شعروں کا استعمال نثر کے ساتھ ملاجلا ہے۔ کردار نثر میں کہی ہوئی بات کو شعر کے ذریعے زیادہ مؤثر بناتا ہے۔ یایوں سمجھیے کہ جو کچھ اس نے نثر میں کہا ہے شعر اس کی تائید کرتا ہے۔ قافیہ پیمانی میں بھی ڈرامانگارنے مکالمے کو حتی الامکان روز مرہ کی زبان سے قریب رکھا ہے۔ عام بول چال کے سیدھے سادے لفظوں ہی سے قافیہ کے آہنگ اور جھنکار کا کام لیا ہے‘‘
ریوتی شرن شرم کے ایک مضمون میں ہے :
’’1897ئسے 1932ئکے درمیان تقریباً 27ڈرامے لکھ کر آغا حشر نے فن ڈراماکوو ہ جلا بخشی اور اس میں ان عناصر کو داخل کیا،جن کی وجہ سے وہ ڈرامے کی نقادوں کی توجہ اور آج تھیٹرڈائریکڑس کی دل چسپی کا مرکز بنے‘‘۔
آغا حشر کو مزاحیہ ڈارمے سے کوئی خاص لگائو نہ تھا۔ یہ اور بات ہے کہ درمیان میں کہیں مزاحیہ بات آجائے مگر مستقل مزاحیہ تو ایسا نہیں ہے۔ سعادت حسن منٹو ’’آغاحشر سے دوملاقیں‘‘کے ضمن میں لکھتے ہیں :
…آغا صاحب جب خاموش ہوئے تو پنڈت محسن نے ان سے کہا’’آغا صاحب آپ کی طبیعت موزوں ہے میں کاغذ قلم لاتا ہوں۔ آپ کامیڈی لکھوانا شروع کردیجیے‘‘۔یہ مضمون کافی دل چسپ ہے ۔ پھر یہ کہ منٹو کے قلم سے نکلا مضمون دل چسپ نہ ہو یہ ہوسکتاہے! اب آپ ملاحظہ کریں کہ وہ کس اندازسے آغا حشر کے جوابی نقشے کو پیش کرتے ہیں:
’’آغا صاحب کی ایک آنکھ بھینگی تھی۔ آپ نے اسے گھماکر کچھ عجیب انداز سے پنڈت جی کی طرف دیکھا’’اے چُپ کر آغا کی طبیعت ہر وقت موزوں ہوتی ہے‘‘۔ پنڈت جی خاموش ہوگئے اور اپنی گُڑگُری گُرگُرانے لگے‘‘
اس گفتگومیں اجمالاً یہ بھی بتاتا چلوں کہ آغاحشر کائوش جی کی کمپنی کے علاوہ شیردادا بھائی، نیوالفریڈ، حیدآباد میں خود کی قائم کردہ کمپنی، پھر لاہور میں انڈین شیکسپیئر تھیڑیکل کمپنی قائم کی ؛وغیرہ کے لیے ڈرامے لکھے۔ 
بہرحال یہ طے ہے کہ آغاحشر نے اردو ڈرامے کو ایک نیاانداز،پیش کش میں انفرادیت اور ڈرامہ نگاری کو سماجی تصویر بنایا۔
آغانے28؍اپریل 1935ء کو لاہور میں انتقال کیااورمیانی (لاہور)صاحب کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔
(ختم شد)
gaobaidi@gmail.com
