تازہ ترین

کشمیر اور فلاحی ایکٹوازم

محشر خیال

15 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ریاض مسرور
امدادِ غرباء کے نام پر اب ہمارے یہاں باقاعدہ انڈسٹری قائم ہوچکی ہے، اس کی ذیل میں ایک مافیابھی ہے، لیکن فی الحال اُسے رہنے دیجئے۔ایسا نہیں کہ بہت سارے فلاحی ادارے کوئی اچھا کام نہیں کررہے، لیکن دینی جوش اور انسانیت کا جذبہ رکھنے والے سینکڑوں نوجوان اور جواں سا ل کارکن جو کام کررہے ہیں اس کی سمت کا تعین آج تک نہیں کیا جاسکا۔ہر طرف ویلفیئر ٹرسٹ کے بورڈ آویزان دِکھتے ہیں، اور سڑک پر چلنے والی ہر بیسویں گاڑی کسی نہ کسی این جی او کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔غریبوں کی مدد کے نام پر باقاعدہ تحریک چل رہی ہے اور اس تحریک کے رہنما ہر سال اہل اقتدار کو بلا کر سالانہ محفلوں کا انعقاد کرتے ہیں، صحافیوں کوعطیات سے نوازتے ہیں، اور تقریر کی لت کے ماروں کو سٹیج بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس ساری بھاگ دوڑ میں بعض محتاجوں کو ادویات اور کچھ نقدی بھی مل جاتی ہے، لیکن کیا صرف یہی کرنے کے لئے سینکڑوں ٹرسٹ اور انجمنیں قوم پر مسلط ہیں؟
2015میں حکومت جموں کشمیر نے قانون ساز اسمبلی میں جو اکنامک سروے پیش کیا تھا اُس کے مطابق ریاست کی کل آبادی کا پانچواں حصہ غریبی کی سطح سے نیچے گزربسر کرنے پر مجبور ہے۔تشویشناک پہلو اس سروے کا یہ ہے کہ غریبوں کی کل 24لاکھ 21ہزار آبادی میں سے 13لاکھ 65ہزار کشمیر میں ہے جبکہ جموں میں غریبوں کی تعداد 10لاکھ  59ہزار ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ کشمیر کی 67لاکھ آبادی(لداخ کے تین لاکھ لوگ مراعات اور عنایات سے اب امیر ہوگئے ہیں)کا بھی پانچواں حصہ غریب ہے۔ اور ریزرو بینک آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس تعداد میں سے بھی ساڑے چودہ لاکھ کشمیری ایسے ہیں جن کی  ماہانہ آمدن 522روپے ہے! ہمارے یہاں انفاق کا جو ماڈل مستعمل ہے ، اُس کے تحت ضرورتمندوں کو ایک کاپی تھما دی جاتی ہے، ماہانہ کچھ نقدی دی جاتی ہے جس کا اندراج اس کاپی میں ہوتا ہے۔یا یوں ہوتا ہے کہ مہلک مرض میں مبتلا کسی بیمار کے لواحقین کی تھوڑی بہت مالی معاونت کی جائے۔ 
کچھ نمایاں مثالیں بھی ہیں جن سے متاثر ہونا لازمی ہے۔ سرینگر کی انجمن ’’اتھِ روٹ‘‘ نے شہر کے بیچوں بیچ ڈائلیسیز سینٹر قائم کرکے متعدد کنبوں کی مدد کی ہے، بعض یتیم خانے بھی اچھا کام کررہے ہیں۔ بارہمولہ میں رضاکار نوجوانوں کا ’’ادارہ ٔفلاح الدارین‘‘ کسی تصنع یا تشہیر کے بغیر عمدہ کام کررہا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف قابل اور ہنرمند طالبعلموں کے لئے بیرون ریاست تعلیم و تربیت کا سہولت کار بن رہا ہے، بلکہ جدید خطوط پر تعلیمی اداروں کو قائم کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔ جمعیت اہلحدیث اور جماعت اسلامی بھی اپنی اپنی بساط کے مطابق کام کررہے ہیں۔ 
لیکن غائیت اس کالم کی یہ ہے کہ کشمیر جن حالات سے گزر رہا ہے، اُن کی وجہ سے ہمارا رضاکارانہ کام بھی کانفلکٹ کا شکار ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں سماجی بہبود کا باقاعدہ محکمہ ہے، جس کے تحت حکومت ہند اور مقامی حکومت مختلف سکیمیں رائج کرتے ہیں۔ کشمیر  میں چونکہ سرکاری ادارے سماج میں معتبر ہی نہیں، لہذا فلاحی ایکٹوازم کا جذبہ رکھنے والا ہر نوجوان اُس جانب جھانکتا بھی نہیں، وہ چاہتا ہے کہ لوگوں کی فلاح و بہبود پرائیویٹ طریقے سے کی جائے، بھلے ہی حکومت سوشل ویلفیئر ادارہ چلانے کے لئے کلہم آبادی سے خطیر ٹیکس لیتی رہے۔ اربوں روپے کی رقومات جو سرکاری سیکیموں کے تحت غریبوں کو غربت سے نکالنے اور ان کی پروقار زندگی بحال کرنے کے لئے ہوتی ہیں، سنتریوں اور منتریوں کے چیلے چانٹوں کی نذر ہوجاتی ہیں۔ یہ جذبہ بھی درست ہے، کہ جب حکومت ہی متنازعہ اور سماجی سطح پر غیرتسلیم شدہ ہو، تو اُ س سے کیا توقع وابستہ کرنا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انتظامیہ کوئی خلائی مخلوق نہیں، یہ ہمارے ہی سماج کا حصہ ہے۔ جو لوگ انتظامیہ کو چلاتے ہیں وہ ہم میں سے ہی ہیں، جن وسائل سے حکومت چلتی ہے وہ ہمارے ہیں اور جو سرمایہ حکومت سماجی بہبود پر خرچ کرتی ہے اس کا خطیر حصہ ہماری جیبوں سے کٹتا ہے۔ اور پھر جب بھی اور جو بھی فیصلہ ہوجائے، آپ کا انتظامی سٹرکچر یہی ہوگا، آپ اس سے بے دُون نہیں رہ سکتے۔
کون فلاحی ایکٹوسٹ آج تک حق ِمعلومات کا قانون استعمال کرتے ہوئے کسی سرکاری ادارے میں گیا اور وہاں سوال کیا کہ بھائی اُن رقومات کا کیا ہوا؟  اس حقیقت سے غفلت اور آفیشل اداروں سے بیزاری کا نتیجہ یہ نکلتا ہے، کہ ہر جائز ناجائز طریقے سے دولت کمانے والے سرمایہ دار فلاحی اداروں کی مدد کرکے ہر اُس زبان پر مہر لگا دیتے ہیں جو اُن سے یہ پوچھتی کہ بھائی صاحب زبرون پہاڑیوں کے لائم سٹون پر ہاتھ صاف کرکے آپ نے لوگوں کے لئے کیا کچھ کیا؟ جنگلی حیات کو پردۂ عدم میں دھکیل کر فیکٹریاں اور ہوٹل تعمیر کرنے والے جب خیراتی ہسپتال بناتے ہیں تو مارکیٹ کا حجم دیکھ کر چند برس میں ہی اسے کمرشل ہسپتال میں بدل دیتے ہیں۔جھیل ڈل کے حاشیوں پر قابض حضرات علماء کی چھتر چھایا میں اپنی کرتوت پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے عطیات لینے میں آپ کو کوئی حرج نہیں، لیکن حکومت اور حکومتی اداروں کو جوابدہ بنانے میں آپ ہچکچاتے ہیں، کمال ہے! 
فلاحی تنظیموں کے کام کی سراہنا کی جانی چائیے لیکن ساتھ ہی ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر کے اُن چوبیس لاکھ غریبوں کو افلاس کے اندھے کنوے سے باہر نکالا جائے۔ آبادی کا یہی فلاکت زدہ حصہ کل کو سماج میں فساد اور انارکی کا موجب بن سکتا ہے، اور اس کی ذمہ داری اُن سبھی خواص پر ہوگی جو لوگوں کے پیسوں سے غریبوں کی مدد کرتے ہوئے اہل اقتدار کے ساتھ مراسم بڑھاکر قوم پر احسان جتاتے ہیں۔ 
 صدقات، خیرات یا زکواۃ کے معاملے میں ہمارے یہاں مسلہ یہ نہیں کہ لوگ دیتے نہیں، مسلہ یہ ہے کہ یہ سب پیسہ خرچ کہاں کیا جاتا ہے؟ 
گزشتہ تیس برس سے جس رفتار سے فلاحی ایکٹوازم ترقی کررہا ہے، توقع یہ تھی کہ کشمیر میں غربت کی سطح 20%نہ رہتی۔ اور یاد رکھیں محتاجوں اور ضرورتمندوں کی جیب بھرنے کی بجائے انہیں بااختیاربنانے کی ضرورت ہے۔ مگر مسلہ یہ ہے کہ اگر غریب ہی نہ رہے تو ہماری انجمنیں کریں گی کیا؟ 
  ہفت روزہ ’’ نوائے جہلم ‘‘ سری نگر