تازہ ترین

عالمی ’یوُمِ مادر‘ کے تعلق سے ادبی کُنج کی خصوُصی ادبی نِشست

شعراء حضرات نے مختلف زبانوں میں اپنی تخلیقات سے ماں کی عظمت کو سلام کِیا

14 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

جموّں//ساری دُنیا کی طرح ہمارے بھارت میں بھی ’یوُمِ مادر‘کے تعلق سے تقریبات کی ایک کڑی کے طور پرجموں و کشمیر کی کثیر اللسانی معروُف ادبی تنظیم ’ادبی کُنج کے اینڈ کے‘ کی جانب سے اِس کے ادبی مرکز کِڈ ذی سکوُل میں ایک خصوُصی ادبی نِشست کا اِنعقاد ہُوا۔ جِس کی صدارت کے فرائض اُردوُ و گوجری زبان کے معروُف شاعر سرور چوہان حبیٖبؔ نے ادا کئے۔جِبکہ نِشست کی نِظامت کے فرائض تنظیم کے گلو کار چمن سگوچ نے انجام دِئے۔ تنظیم کے چئیرمین آرش ؔ دلموترہ اور صدر شام طالبؔ نے ’یومِ مادر‘ کی اہمیّت اور ماں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اُجاگر کِیا۔ اُنھوں نے بچّے کے تئیںماں کے جذبات اور احساسات پر بھی سیر حاصل روشنی ڈالتے ہوئے ماں کی عظمت کو سلام کِیااور کہاکہ بڑے بڑے رِشی مُنیوں اور پیغمبروں نے ماں کو بھگوان کو درجہ دِیا ہے۔یہ ماں ہی ہے جو اپنی پوُری زندگی کِسی نا کِسی صوُرت میں اپنے بچوُں اور پوتے پوتیوں کی پرورش کیلئے اُن کا دُکھ درد خندہ پیشانی سے سہتی ہے۔لیکن یہ بات بڑی غم انگیزہے کہ اکثر مصروُف بیٹے بوڑھاپے میں اپنے ماں باپ کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر ماں کی عظمت کو سب ماؤں کی اولادیںپہچان جائیں تو دُنیا میںکبھی کہیں کوئی اولڈ ایج ہوم نہ بنیں۔جو بیٹوں کی خود غرضی کی نِشانی ہے۔ نِشست میںادبی کُنج کے سابق جنرل سیکرٹری مالک سنگھ وفاؔ صاحب مرحوُم کی قابلِ قدر خود اعتماد ی کی بھی سراہنا کرتے ہوئے غزل کی صنف میں اُن کے ادبی کردارکو بہترین شاہکار کا نام دِیا اور اِس بات پراتفاق قائم کِیا گیاکہ اُن کے غیر شائع شُدہ کلام کوبھی جلد شائع کِیا جائے گا اور جلد ہی ایک تقریب ’ایک شام وفا کے نام‘ سے منعقد کی جائے گی۔ اَس موقعہ پر دِل کو چھوُنے والے پُر اثراحساسات وفاؔ صاحب کی ایک معروُف غزل ’ہے چا ند کی تمّنانہ تاروں کی آرزوُ  دِل کو ہے اُس نظر کے نِظاروں کی آرزوُ ‘ کو اپنی سُریلی آواز میں گا کر سامعین پر جادوئی اثر طاری کر دیا۔ صدر شام طالبؔ نے ماں کی۹ اہمیّت پر اپنی ایک غزل ’خود کو جو ماں کا  پِسر مانتا ہے، ماں کے وہ دِل کا درد جانتا ہے ‘ ‘ پیش کی۔ آرشؔ دلموترہ نے اپنے ڈوگری الفاظ میں ایک نظم  ’گھرا ماں دے پُتّر نِکھڑے اُدی ممتا نِکھڑدی نیں، بِچھڑدا پانی ندئیں دا تسٖیٖر اُسدی بِچھڑدی نئیں ‘ گا کر پیش کِیا۔ اِسنِشست میں حِصہ لینے والے شعراء حضرات کے اِسم گرامی اِس طرح ہیں:۔ آرشؔ دلموترہ، سروَر چوہان حبیٖبؔ،ایم ایس کامرا ؔ، چمن سگوچ، کے آر سلگوترہ، ویدؔ اُپّل ، جتیندر بسنؔ، سنجیو کُمار ،اور شام طالبؔ۔ اِس تقریب کااِختتام تنظیم کے چئیرمین آرشؔ دلموترہ کی طرف سے پیش کردہ شُکریہ کی تحریک سے ہوُا۔