تازہ ترین

شہر میں افطار سے قبل ہی مسافر گاڑیاں سڑکوں سے غائب

لوگوں کا محکمہ ٹرانسپورٹ سے سنگین مسلے کی طرف توجہ دینے کا مطالبہ

14 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سٹی رپورٹر
سرینگر//ماہ رمضان میں بعد از افطار مسافر گاڑیاں سڑکوں سے غائب ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔ اگر چہ حکومت نے یہ دعویٰ کی تھا کہ شہر سرینگر میں رات دیر گئے تک ٹرانسپورٹ دستیاب رہے گا لیکن شہر میں اکثر روٹوںپرعام دنوں میںشام 7بجے سے ہی مسافر گاڑیاں سڑکوں سے غائب ہوجاتی ہیں جس کے خلاف آج تک متعلقہ محکمہ نے کوئی اقدام نہیں اُٹھایا ہے ۔ اور اب ان ایام متبرکہ کے دوران بھی ٹرانسپورٹروں نے اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے افطارسے قبل ہی اپنی گاڑیاں بند کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور افطار کے بعد شہر کی سڑکوں سے مسافر گاڑیاں اس طرح غائب ہوجاتی ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ، اس صورتحال کا ناجائز فائدشہر کی سڑکوں پر دوڑتے آٹو رکھشاوالے اُٹھاتے ہیں جو پچاس روپے کی جگہ درماندہ اور مجبور مسافروں سے سو روپے طلب کرتے ہیں اور جو کرایہ دن بھر روٹوں پر چلنے والے آٹورکھشا مسافروں سے وصول کرتے ہیں اُس کا دوگنا وہ افطار کے بعد مسافروں سے طلب کرتے ہیں ۔ افطاری کے بعد شہر کی سڑکوں پر اگرچہ لوگوں کی نقل و حمل کم رہتی ہے تاہم دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے افراد شہر افطاری کے بعد ہی پہنچ جاتے ہیں اور انہیں دن بھر کی کمائی کا نصب حصہ آٹو رکھشاوالوں کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔ کئی مسافروں نے اپنی روداد سناتے ہوئے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ہم مختلف اضلاع میں اپنی روزی روٹی کمانے کی غرض سے جاتے رہتے ہیں لیکن شام کو جب دیر ہوجاتی ہے تو شہر میں ہمیں اپنے منزلوں کی اور جانے کیلئے گاڑیاںملتی ہی نہیں ہیں اور ہم مجبوراً آٹو رکھشائوں میں سفر کرتے ہیں۔ جو ہماری مجبوری کا فائدہ اُٹھا کر ہم سے دوگنی کرایہ وصول کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس جانب متعلقہ محکمہ کو خصوصی توجہ دینی چاہئے کیوں کہ ٹرانسپورٹروں کی من مانی سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہارون کے سماجی کارکن پیر بلال احمدنے اس بات پر زبر دست حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرانسپورٹر اپنی من مانیوں سے محکمہ ٹرانسپورٹ کے ہدایات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ۔انہوں نے محکمہ ٹرانسپورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین مسلے کی طرف فوری توجہ دے تاکہ لوگوں کو اس بارے میں پیش آرہی مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔